حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے عراق کی قومی خودمختاری، آزادانہ فیصلہ لینے اور عوامی مفادات کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی حکومت کو امریکہ اور دیگر ممالک کے دباؤ اور ان کا حکم ماننے کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف عملی اقدامات، معاشی مشکلات کے حل اور داخلی امور میں فوجی و سکیورٹی اداروں کے غیر ضروری استعمال سے گریز کرنے کی بھی تاکید کی۔
آیت اللہ سید یاسین موسوی نے 9 اکتوبر 2026 کو نماز جمعہ کے سیاسی خطبے میں کہا کہ علما اور فقہا کی ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور نصیحت کے ذریعے ملک کے سیاسی نظام کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا مقصد حکومت گرانا یا حکام کی مخالفت کرنا نہیں، بلکہ حکومتی پالیسیوں میں حقیقی تبدیلی اور عراق کی خودمختاری کا تحفظ ہے۔
انہوں نے امریکی اداروں کی جانب سے عراقی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی حکومت سے امریکہ کا مطمئن ہونا اس کی کامیابی کی دلیل نہیں۔ اصل معیار عراقی عوام کی خدمت اور قومی مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔ انہوں نے داعش کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراقی مجاہدین نے مرجعیت کے فتوے اور ایران و لبنان سمیت دیگر ممالک کے مجاہدین کی مدد سے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔
بدعنوانی کے خلاف عملی اقدامات پر زور
امام جمعہ بغداد نے بدعنوانی کے خلاف کارروائیوں میں شفافیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں تشہیر کے بجائے لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی اور ٹھوس نتائج پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے عراقی حکومت کے بعض سکیورٹی اور سیاسی فیصلوں پر بھی تنقید کی اور خبردار کیا کہ بیرونی دباؤ کے تحت عراقی اداروں کو دوسرے ممالک کے مطالبات پورے کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ زمینی سرحدیں بند کرنے کے فیصلے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات کے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی اثرات کا مکمل جائزہ لیا جانا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ