حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کی معروف مسجد جعفریہ میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے حجۃ الاسلام مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے کہا کہ ایمان و تقویٰ کی حقیقی طاقت انسان کے کردار اور عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت، طاقت اور اسلحے کی قوت عارضی، جب کہ ایمان و تقویٰ کی قوت پائیدار ہوتی ہے۔

مولانا تہذیب الحسن رضوی نے کہا کہ اسلام میں تقویٰ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ مؤمن ہونا ایک بڑا شرف ہے، لیکن اس شرف کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی میں تقویٰ پیدا کرے۔ محض دوسروں کو تقویٰ کی دعوت دینا کافی نہیں، بلکہ اپنے کردار اور عمل سے اس کا مظاہرہ کرنا اصل کمال ہے۔

انہوں نے معاشرے کی صورتِ حال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے درمیان مساجد، امام بارگاہوں، خطیبوں اور مجالس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود معاشرتی اصلاح کی ضرورت برقرار ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایمان کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کے بجائے محض ایک ڈھال بنا لیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری دینی شناخت ہمارے کردار، معاملات اور سماجی رویّوں میں بھی نمایاں ہو۔
مولانا نے امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی سیرت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپؑ نے زندگی کے ہر موڑ پر اپنے عمل کے ذریعے تقویٰ کا درس دیا۔ اگر ہماری زندگیوں میں اہل بیت علیہم السلام کے کردار کا تھوڑا سا اثر بھی پیدا ہو جائے تو ہماری انفرادی اور اجتماعی قوت میں غیر معمولی اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے ایران کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے دنیا کے سامنے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ دولت، مادی طاقت اور اسلحے کی قوت سب کچھ نہیں؛ ایمان، تقویٰ، تعلیم اور عملی استقامت بھی قوموں کی طاقت کا اہم سرچشمہ ہیں۔ ان کے مطابق، رہبرِ شہید کی شہادت نے ملتِ اسلامیہ کو بیداری کا پیغام دیا اور یہ احساس دلایا کہ خدا کے بتائے ہوئے راستے پر ثابت قدم رہنے والی قوموں کو محض طاقت کے بل پر زیر نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے موجودہ حالات میں مسلمانوں، بالخصوص شیعہ معاشرے کی ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قوم میں پھیلتی ہوئی غیر ضروری رسموں پر قابو پانے اور معاشرے کو تعلیم سے وابستہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران نے تعلیم کے میدان میں اپنی پیش رفت اور عملی استقامت کے ذریعے یہ دکھایا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت قوم مشکلات کے باوجود اپنے موقف پر ثابت قدم رہ سکتی ہے۔

مولانا تہذیب الحسن رضوی نے مزید کہا کہ ایران کی جدوجہد نے مسلمانوں کو حوصلہ دیا ہے اور یہ پیغام سامنے آیا ہے کہ اصولوں اور رضائے پروردگار کے لئے استقامت اختیار کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے شہادتوں کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حق کی راہ میں دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں، بلکہ قوموں کے عزم اور حوصلے کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے اہلِ ایمان کو دعوت دی کہ وہ جمعہ کے دن یہ عہد کریں کہ ان کی زندگی کا ہر لمحہ حق کی حمایت اور اس کی سربلندی کے لئے وقف ہوگا، کیونکہ حق بالآخر فتح یاب ہوتا ہے۔










آپ کا تبصرہ