حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رانچی ۹ اکتوبر/ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کی جامع مسجد جعفریہ میں خطبۂ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے امام جمعہ والجماعت حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے نماز جمعہ کی اہمیت، مسلمانوں کے اتحاد، دینی و سیاسی شعور اور اصلاحِ معاشرہ میں اس کے بنیادی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نماز جمعہ مسلمانوں کی شناخت اور پہچان کا ذریعہ ہے اور اس کا اجتماع محض بھیڑ نہیں، بلکہ دعوتِ حق دینے اور معاشرے کی اصلاح کا ایک مؤثر مرکز ہے۔
مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے کہا کہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی کی جامع مسجد جعفریہ میں الحمدللہ گزشتہ ۲۷ سال سے نماز جمعہ کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ روزِ جمعہ ایمان والوں کا دن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ جمعہ میں مومنین کو آواز دی ہے۔ مومنین کی ذمہ داری ہے کہ وہ نماز جمعہ میں کثرت سے شریک ہوں، کیونکہ یہ دن جہاں غریبوں، یتیموں، بے کسوں اور مظلوموں کا دن ہے، وہیں ملاقاتِ امام زمانہؑ کا بھی دن ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعہ کا دن ملتِ اسلامیہ کو اتحاد و اخوت کی دعوت دیتا ہے۔ جمعہ کا اجتماع مسلمانوں کی شناخت اور پہچان کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ خطبۂ جمعہ میں جہاں اللہ تعالیٰ کے پیغامات بیان کیے جاتے ہیں، وہیں مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی بے دینی پر بھی روک لگائی جا سکتی ہے۔ نماز جمعہ کا اجتماع صرف بھیڑ جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ دعوتِ حق دینے کا نام ہے۔
مولانا نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مومن کے لیے ہر دن عید ہے، جب کہ روزِ جمعہ خود اپنے آپ میں عید کا دن مانا جاتا ہے۔ ہماری عید اس لیے بھی ہے کہ یہ وہ دن ہے جو اپنے امام سے ملاقات کا سبب بنتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحِ معاشرہ کا سب سے بڑا مرکز ہر دور اور ہر زمانے میں نماز جمعہ رہی ہے۔ آج الحمدللہ، نماز جمعہ کے اسی پیغام نے ایران کی ملت کو متحد کیا اور انہیں شجاع بنایا۔ اگر مسلمان ہر جمعہ کو جمع ہوں اور اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں تو دنیا کی کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو زیر نہیں کر سکتی۔

مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے ان افراد کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جان بوجھ کر نماز جمعہ ترک کر رہے ہیں، گویا وہ شریعت کو پامال کر رہے ہیں، جب کہ قرآن نے ایسے لوگوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں بھی اکثر دیکھا جاتا ہے کہ علاقوں، گاؤں اور بستیوں میں لوگ موجود ہوتے ہیں، لیکن وہ نماز جمعہ میں شریک نہیں ہوتے، جس کا قوم پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ قرآن کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے نماز جمعہ میں جوق در جوق شریک ہوں اور اتحاد کی فضا کو مضبوط کریں۔
مولانا نے جامع مسجد جعفریہ میں ملتِ اسلامیہ کے مختلف طبقات کی شرکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے جب مسجد جعفریہ میں شیعہ مومنین کے علاوہ ملتِ اسلامیہ کے ذمہ داران بھی نماز جمعہ میں شریک ہوتے ہیں۔ ان حضرات کی شرکت اتحاد کی فضا ہموار کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔
آخر میں مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے اس بات پر زور دیا کہ صرف نماز جمعہ میں شریک ہو جانا کافی نہیں، بلکہ ہر مسلمان کے لیے نماز جمعہ کے احکام اور اس کے مقاصد سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ