حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرینگر، گنڈ حسی بٹ/ جامع مسجد امام رضا گنڈ حسی بٹ سرینگر میں مولانا سید افتخار حسین رضوی کی امامت و خطابت میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ و پرہیزگاری، تزکیۂ نفس، دل کی پاکیزگی اور اتحادِ امت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں کو اپنی اصلاح، حق و باطل کی پہچان اور اجتماعی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی تلقین کی۔
تقویٰ، دل کی نرمی اور خوفِ خدا
مولانا سید افتخار حسین رضوی نے حمد و ثنائے الٰہی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و آلِ محمد علیہم السلام پر درود و سلام کے بعد تقویٰ و پرہیزگاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تقویٰ کا ایک اہم اثر یہ ہے کہ انسان کا دل نرم ہوتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں رہتا۔ اس کے برعکس، دل کی سختی انسان کو خوفِ خدا سے دور اور موت، قبر اور قیامت جیسے حقائق سے غافل کردیتی ہے۔
انہوں نے بے حیائی اور دینی غفلت کے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان عوامل کے باعث نئی نسل دین سے دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے دل کی اصلاح، خوفِ خدا اور یادِ الٰہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اتحادِ امت اور حق و باطل کی پہچان
دوسرے خطبے میں مولانا سید افتخار حسین رضوی نے تقویٰ الٰہی اور معرفتِ خداوندی کو مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی ضرورت گھر، محلے اور گاؤں سے لے کر ریاست اور پورے ملک تک ہر سطح پر ہے۔ مسلمانوں کو باہمی اختلافات کم کرکے اجتماعی مسائل کے حل اور اصلاحِ امت کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے بعض مسلمانوں کے امریکہ اور اسرائیل کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کی اور زور دیا کہ مسلمان اپنی اصلاح اور امت کو درپیش مسائل سے غافل نہ ہوں۔
سعودی عرب اور یمن کے معاملے میں بصیرت کی ضرورت
مولانا سید افتخار حسین رضوی نے سعودی عرب اور یمن کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دونوں جانب کلمہ پڑھنے والے اور اللہ اکبر کہنے والے مسلمان موجود ہیں، تاہم حق و باطل میں تمیز کے لیے محض ظاہری مذہبی وابستگی کافی نہیں۔ اس کے لیے بصیرت، شعور اور گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے، تاکہ حالات کی حقیقت کو سمجھا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ تزکیۂ نفس اور دل کی پاکیزگی انسان کو حقیقت شناسی میں مدد دیتے ہیں، جبکہ دل کی سختی حق کی پہچان میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی باطنی اصلاح کے ساتھ اپنے اجتماعی رویّوں کا بھی جائزہ لے اور حق و انصاف کی بنیاد پر موقف اختیار کرے۔
خطاب کے اختتام پر مسلمانوں کے مسائل کے حل، اصلاحِ امت اور عالمِ اسلام میں اتحاد و اتفاق کے قیام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ