منگل 27 اکتوبر 2026 - 17:30
حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا، انسانیت کا محذوف آئین

حوزہ / قرآن کریم نے ہر نبی کی حکومت و رہبری کی دلیل علم اور اہلیت کو بتایا ہے۔ حضرت آدم کو علم الاسماء پر، حضرت طالوت کو بسطہ فی العلم والجسم پر، حضرت یوسف کو حفیظ علیم پر، حضرت سلیمان کو فہم و حکمت پر، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر میں اسی میرٹ کا اعلان کیا۔ یہ الٰہی ماڈل ہے جو ہر قوم، ہر ملک، ہر زمانے کے لیے ہے۔

تحریر: حسین بشیر سلطانی

حوزہ نیوز ایجنسی | آج کی یہ تحریر انسانیت کے خلاف ہونے والی سب سے بڑی عالمی علمی و فکری خیانت کے خلاف بطورِ خاص پر فردِ جرم ہے۔ اگر امام جعفر صادق علیہ السلام نے 4000 شاگردوں سے کیمیا، طب، فلکیات، فقہ اور کلام کا احیاء کیا تو آپ علیہ السلام کی جدہ حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اس پورے علمی انقلاب کی معمار تھیں۔ مگر آج کے مدرسے نے ان کی فکر کو صرف رسومات تک محدود کر دیا اور یونیورسٹی نے مغرب کی اس تہذیب کی نقالی کی جہاں انسانیت سے زیادہ سرمایہ، عقل سے زیادہ خواہش، اور میرٹ سے زیادہ شہرت کو معیار بنا دیا گیا ہے۔ دونوں سے ایس لیے فرقہ پرست اور وسائل کے بھوکے جنگلی بن کر سامنے آرہے ہیں۔ ایک کو دنیا تعویذ کی دکان سمجھتی ہے اور دوسرے کو سرمایہ دار کا ملازم۔ دونوں ناکام ہو گئے، سوائے اس ماڈل کے جس نے قم سے اسی فاطمی فکر کو ریاست بنا کر دکھایا کہ دین صرف عبادت نہیں، نظام بھی ہے۔ یہ امام خمینی کا کردار تھا جس نے اس مکتب کو اصل بنیادوں سے پڑھا۔

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے حکومتِ وقت کو چیلنج کر کے انسانیت کو ایک عالمگیر اصول دیا کہ حکومت وراثت سے نہیں بنتی، سن و سال سے نہیں بنتی، نسل سے نہیں بنتی، زبان سے نہیں بنتی۔ قرآن کریم نے ہر نبی کی حکومت و رہبری کی دلیل علم اور اہلیت کو بتایا ہے۔ حضرت آدم کو علم الاسماء پر، حضرت طالوت کو بسطہ فی العلم والجسم پر، حضرت یوسف کو حفیظ علیم پر، حضرت سلیمان کو فہم و حکمت پر، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر میں اسی میرٹ کا اعلان کیا۔ یہ الٰہی ماڈل ہے جو ہر قوم، ہر ملک، ہر زمانے کے لیے ہے۔ جب اسے چھوڑ کر سن و سال، مال، قبیلہ اور عربیت کو معیار بنایا گیا تو تاریخ میں پہلی بار میرٹ کا قتل ہوا۔ یہی جرم آج کی جمہوریت مرغے اور مرغیاں کررہے ہیں۔

اس بات پر غور کریں کہ تم ایک انسان کی جان کے لیے ایکسپرٹ ڈاکٹر ڈھونڈتے ہو، مگر اربوں انسانوں کی جان، معیشت، تعلیم اور جنگ و امن کے لیے تم اسے حاکم بناتے ہو جس کے پاس زیادہ پیسہ اور بل بورڈ ہے۔ یہ ثروت محور جہالت کا پلندہ ہے۔ نام نہاد عالمی ادارہ صحت WHO کہتا ہے ہر ملک میں ڈاکٹر کا معیار ہو، مگر یہ کفن چور اقوام متحدہ یہ نہیں کہتی کہ ہر ملک کے حاکم کا بھی کوئی علمی و انسانی معیار ہو۔ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا سوال یہی ہے کہ کیا ایک مریض ایک قوم سے زیادہ قیمتی ہے؟ کیا ایک ذہنی مریض کو قوم کا حاکم مقرر کیا جاسکتا؟

قرآن کریم میں ارشاد ہے وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ۔ فدک میں مدعی بھی وہی، جج بھی وہی۔ یہ دنیا کی تاریخ میں کنفلکٹ آف انٹرسٹ کی پہلی مثال ہے۔ آج یہی ماڈل اقوام متحدہ کے ویٹو پاور میں ہے۔ پانچ مستقل اراکین خود حملہ آور بھی ہیں اور خود منصف بھی۔ عالمی عدالت انصاف اسی لیے مفلوج ہے۔ فاطمی ماڈل کہتا ہے جاہل طاقتور اگر مدعی ہو تو کبھی جج نہیں بن سکتا۔

فدک کو ضبط کرنا صرف زمین ضبط کرنا نہیں تھا، اپوزیشن کی معاشی خود مختاری ختم کرنا تھا۔ آج امریکہ، اور آل امریکہ مسلم اور غیر مسلم سب جس ملک پر پابندی لگاتا ہے، وہ یہی فاطمی مخالف ماڈل ہے۔ معیشت کو ہتھیار بنانا، بلیک میل کرتا ہے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے پہلے دن اسے غیر قانونی قرار دیا کہ غیر قانونی حاکمِ ریاست اور قانونی حاکمِ ریاست کو حق نہیں کہ شہری کی ذاتی ملکیت کو سیاسی انتقام کے لیے ضبط کرے۔

جب میں اس ہستی نایاب و حجت پر حجت پاکیزہ شخصیت کا مطالعہ کرتا ہوں تو باب العلم بن کر سامنے آتی ہے۔

علمِ حکومت، علمِ قانون، علمِ معاشیات، علمِ عمرانیات، علمِ نفسیات، علمِ ابلاغ کہ مسجد کو پارلیمنٹ بنایا، علمِ تربیت کہ امام حسن و حسین علیہم السلام اجمعین جیسے دو مختلف لیڈر بنائے، علمِ مستقبل کہ محدثہ ہونے کی وجہ سے فرشتے آتے تھے، علمِ ماحولیات کہ خطبے میں زمین و آسمان کی تخلیق پر بات کی، علمِ صنفیات کہ عورت کو گھر سے نکال کر ریاست کے سامنے کھڑا کیا، علمِ احتجاج کہ پرامن مزاحمت کا پہلا ماڈل دیا، علمِ وراثت، علمِ اخلاق، علمِ اصول کہ ہر دعوے پر دلیل مانگی۔

اگر مدارس فاطمی ہوتے تو آج ہر مدرسے میں فیکلٹی آف گورنس، فیکلٹی آف فیوچر سٹڈیز، فیکلٹی آف اکنامکس اس کی طرح کے کئی شعبے بنتے۔ یہاں سے لاکھوں جابر بن حیان اور بو علی سینا پیدا ہوتے۔ اور اگر یونیورسٹیاں فاطمی ہوتیں تو وہ AI تو پڑھاتیں مگر ساتھ قوی و امین کا فرق بھی پڑھاتیں، جن کے ڈیزائنر اور خالق کا بھی پتہ بتا دیتی اتنی ذہنی مریض اور فکری وبا کا شکار ہوگئیں ہوتی۔ وہ Gene Editing تو پڑھاتیں مگر امانتداری کے ساتھ ایڈیٹر بھی پڑھاتیں، وہ Brain Engineering تو پڑھاتیں مگر باشعور ہوکر انجیر کا بنایا ہوا شعوکا پراجیکٹ بھی پڑھاتیں۔ اس طرح لغوی اور وبائی امراض زدہ نمونے پیدا نہ ہوتے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ، عزت تقویٰ سے ہے، نسل سے نہیں، یہ ہر افریقی، ایشیائی، یورپی کے لیے برابر ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُوحِي إِلَيْهِمْ، نبوت وحی سے ہے، سن و سال سے نہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ، انبیاء میزان لائے تھے، تم نے توڑ دیا۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا، ظالم کی طرف جھکاؤ بھی منع ہے۔

یہ سب دلیلیں کسی شیعہ سنی کی نہیں، ہر اس انسان کی ہیں جو عقل رکھتا ہے۔

جو اسلامی تحریک کہتی ہے خلافت قریش میں ہے، وہ نسلی تعصب ہے۔ جو کہتی ہے خلافت ووٹ میں ہے، وہ سرمایہ پرستی ہے۔ جو کہتی ہے خلافت وراثت میں ہے، وہ بادشاہت ہے۔ اور جو سیکولر تحریک کہتی ہے حکومت طاقت سے ہے جس کا ناجائز وجود جمہوریت ہے، وہ بھی وہی جہالت عقبی والی غلطی دہرا رہی ہے۔ حق صرف ایک ہے کہ حکومت اہل، عالم، عادل، قوی، امین اور منصوص کے ہاتھ میں ہو، چاہے وہ کسی بھی ملک، رنگ اور زبان کا ہو۔

دنیا میں عورت کے نام پر دو بڑے دھوکے بیچے گئے ہیں۔ ایک مغربی فیمنزم کا دھوکہ جس نے کہا عورت کو آزاد کرو، مگر آزادی کا مطلب یہ نکالا کہ عورت کو گھر سے نکال کر فیکٹری، اشتہار اور سرمایہ دار کی مارکیٹ میں لاؤ، اس کے جسم کو پروڈکٹ بناؤ، اس کی عزت کو ریٹنگ بناؤ، اس سستی کھوتی کو استعمال کرو اور اسے کہو یہی ترقی ہے۔ اس نے عورت کو ماں ہونے سے متنفر کیا، بیوی ہونے سے باغی بنایا، اور پھر اسے تنہا، تھکی ہوئی، بچے کے بغیر، خاندان کے بغیر ایک ایسی مشین بنا دیا جو صبح سے شام تک سرمایہ دار کے لیے کماتی ہے۔ ایسا کئے بغیر سرمایہ دار جانوروں اس جسم کو استعمال نہیں کرسکتے تھے۔ دوسرا دھوکہ ان نام نہاد مذہبی تحریکوں کا ہے جنہوں نے کہا عورت کو محفوظ کرو، مگر تحفظ کا مطلب یہ نکالا کہ اسے علم سے، مسجد سے، عدالت سے، سیاست سے نکال کر صرف گھر کی چاردیواری میں قید کر دو، اسے ڈراؤ کہ باہر فتنہ ہے، جبکہ خود ممبر پر بیٹھ کر دین بیچتے رہو۔ دونوں نے عورت کو استعمال کیا، کسی نے اسے سمجھا نہیں۔ لیکن امام خمینی نے اس ۔رد قلندر نے ان مغرب و مشرق کے بتوں کو توڑا اور حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا ماڈل پیش کیا رہبر شہید سید علی خامنہ ائ نے اسے عالمی تحریک میں تبدیل کیا یعنی ایام فاطمیہ کے نام سے پیش کیا۔ کیونکہ مکتب حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا نے دونوں دھوکوں کو توڑا۔ وہ گھر میں بھی سیدہ تھیں، امام حسن و حسین کی ماں تھیں، چکی پیستی تھیں، مگر جب ریاستی سطح پر قرآن کا میزان توڑا تو یہی وحی الٰہی کی پرودہ ہستی مسجد میں آ کر حکومت کے سامنے خطبہ دیا، دلیلوں دیں، آیات پڑھیں، اور اپنا تعارف کیا اور حکومتی مشینری کو غلط ثابت کردیا۔ یعنی عورت نہ تو صرف گھر کی ملازمہ ہے نہ بازار کی نمائش، وہ تربیت گاہ بھی ہے معلمہ بھی ہے، وہ ماں بھی ہے اور ریاست ساز بھی۔

یہ سوال اگر نصاب میں آ جائے تو تمہارے سارے جعلی بت گر جائیں گے۔ اب ہر دور میں ایک فاطمی سوچ زندہ رہتی ہے جو پوچھتی ہے کہ اسپتال کے لیے ایکسپرٹ اور ریاست کے لیے جاہل کیوں؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha