جمعہ 6 نومبر 2026 - 12:02
امام زمانہؑ سے توسل کا مجرب طریقہ؛ شیخ جعفر مجتہدی کی خصوصی ہدایت

حوزہ/ عارف واصل مرحوم شیخ جعفر مجتہدی نے امام زمانہ حضرت امام مہدیؑ سے توسل اور حاجت روائی کے لیے ایک خصوصی طریقہ بیان کیا ہے، جس میں حضرت نرجس خاتونؑ کے وسیلے سے امام زمانہؑ سے مدد طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت علیہم السلام سے توسل مؤمنین کے لیے مشکلات اور پریشانیوں میں ایک اہم ذریعہ ہے۔ عرفاء اور بزرگوں نے اپنی تعلیمات اور تجربات کی روشنی میں توسل کے مختلف طریقے بیان کیے ہیں۔ اسی سلسلے میں عارف واصل مرحوم شیخ جعفر مجتہدی سے منقول ایک واقعہ اور ان کی بتائی ہوئی خصوصی ہدایت پیش کی جا رہی ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسین ہاشمی نژاد نقل کرتے ہیں:

ایک روز میرے ایک طالب علم دوست اپنی ایک انتہائی اہم حاجت کے سلسلے میں میرے پاس آئے۔ انہوں نے اپنی پریشانی بیان کرنے کے بعد درخواست کی کہ ہم دونوں شیخ جعفر مجتہدیؒ کی خدمت میں حاضر ہوں تاکہ ان سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کی حاجت واقعی ان کی زندگی کے لیے بہت اہم ہے، اس لیے ان کی درخواست قبول کرلی اور ہم شیخ مجتہدی کے گھر پہنچ گئے۔

شیخ صاحب علیل ہونے کے باوجود بڑی شفقت سے ہم سے ملے۔ جب ہم نے ان کے سامنے پوری بات رکھی تو انہوں نے میرے دوست سے فرمایا:

آپ مسجد جمکران تشریف لے جائیں اور امام زمانہؑ سے منسوب نماز ادا کریں۔ اس نماز کا ثواب حضرت امام زمانہؑ کی والدہ ماجدہ حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا کی پاک روح کو ہدیہ کریں۔

نماز کے بعد سجدے میں پڑھی جانے والے صلوات مکمل کرنے کے بعد قبلہ رخ بیٹھیں اور 313 مرتبہ «یا حجۃ اللہ» کہیں۔ اس کے بعد حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا سے عرض کریں:

’’آپ اپنے عزیز فرزند امام زمانہ علیہ السلام سے کہیں کہ وہ میری مشکل دور فرما دیں۔‘‘

شیخ مجتہدی نے مزید فرمایا کہ والدین کے ساتھ احسان اور ان کا احترام واجب ہے، اس لیے حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیہا کے وسیلے سے امام زمانہؑ سے درخواست کی جائے تو ان شاء اللہ حضرت ضرور عنایت فرمائیں گے۔

سید حسین ہاشمی نژاد مزید بیان کرتے ہیں کہ شیخ مجتہدی کی ہدایات سننے کے بعد ہم وہاں سے واپس آگئے۔ اسی روز عصر کے وقت میرے دوست مسجد جمکران گئے اور بتائے گئے طریقے کے مطابق نماز اور توسل انجام دیا۔ اگلے ہی روز وہ میرے پاس آئے اور خوش خبری سنائی کہ امام زمانہ علیہ السلام کے لطف و کرم سے ان کی بڑی مشکل آسانی سے حل ہوگئی ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ اس واقعے کو تقریباً بیس سال گزر چکے ہیں۔ اس دوران میں نے خود بھی کئی مرتبہ اس طریقے سے توسل کیا اور دوسروں کو بھی اس کی ہدایت کی۔ خدا کے فضل اور امام زمانہؑ کے لطف سے ان کی حاجتیں پوری ہوئیں۔

ماخذ: لالہ‌ای از ملکوت، جلد 3، صفحات

200 تا 201۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha