جمعہ 6 نومبر 2026 - 20:11
سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا (س) اولاد کی بہترین دینی و اخلاقی تربیت کا عملی نمونہ ہے: مولانا نقی مہدی زیدی

حوزہ/ امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر حجۃ الاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے خطبۂ جمعہ میں بچوں کے حقوق اور تربیت کے حوالے سے سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی روشنی میں کہا کہ اولاد کی صحیح تربیت کے لیے عبادت، اخلاق، حیا، ایثار، خود اعتمادی اور قناعت جیسی اقدار کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تاراگڑھ اجمیر حجۃالاسلام مولانا سید نقی مہدی زیدی نے خطبۂ جمعہ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے وصیت نامے کی شرح و تفسیر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چھوٹوں کے حقوق بیان کئے انہوں نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور بچوں کی تربیت کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ:‌قرآن کریم میں اولاد کی تربیت کے حوالے سے بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں، سورۂ لقمان میں حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں اس کی بہترین مثال ہیں، جہاں عبادت، اخلاق اور صبر کو بنیادی ستون قرار دیا گیا۔

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی عملی زندگی میں قرآنی اصولوں کو اس طرح نافذ کیا کہ آپ کا گھرانا قرآن کی عملی تفسیر بن گیا، آپ کی تربیت کا انداز محض زبانی نصیحتوں پر مبنی نہیں تھا، بلکہ وہ عمل، کردار اور محبت کا ایک حسین امتزاج تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ: جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے بچوں کے سامنے یہ بات واضح کی کہ انسان صرف اپنے لیے نہیں جیتا بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا اس پر حق ہے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ"رَأَيْتُ أُمِّي فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ قَامَتْ فِي مِحْرَابِهَا لَيْلَةَ جُمُعَتِهَا فَلَمْ تَزَلْ رَاكِعَةً سَاجِدَةً حَتَّی‌ اِتَّضَحَ عَمُودُالصُّبْحِ وَسَمِعْتُهَا تَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَتُسَمِّيهِمْ وَتُكْثِرُ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَلاَ تَدْعُو لِنَفْسِهَا بِشَيْءٍ فَقُلْتُ لَهَا يَا أُمَّاهْ لِمَ لاَ تَدْعِينَ لِنَفْسِكِ كَمَا تَدْعِينَ لِغَيْرِكِ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ اَلْجَارَ ثُمَّ اَلدَّار"، میں نے اپنی والدہ ماجدہ کو شب جمعہ پوری رات محرابِ عبادت میں کھڑے ہو کر صبح تک رکوع اور سجدے کرتے دیکھا۔ آپ پڑوسیوں کے لیے دعا فرماتیں لیکن اپنے لیے دعا میں کچھ نہ کہتیں، اس سے سبق ملتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی ترجیح خدا کی بندگی اور خلقِ خدا کی خیرخواہی ہونا چاہیے۔

خطیب جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے اخلاقِ حسنہ اور ایثار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ: سورۂ دہر (سورۂ انسان) کے شانِ نزول میں اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کا وہ عظیم ایثار مذکور ہے جب انہوں نے مسلسل تین دن خود روزہ رکھا اور افطار کے وقت اپنا کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو کھلا دیا، ماں باپ کا یہ عمل دیکھ کر بچے خود بخود سخاوت، ایثار، اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا سیکھتے ہیں، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے عملی طور پر اپنے بچوں کو درسِ سخاوت دیا۔

امام جمعہ تاراگڑھ مولانا نقی مھدی زیدی نے کھیل اور کھیل کے ذریعے شخصیت سازی (Child Psychology) کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ:والدین اکثر بچوں کے کھیل کود کو بلاوجہ کی مصروفیات سمجھتے ہیں، لیکن جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے کھیل کو بچوں کی خود اعتمادی اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنایا، آپ اپنے بچوں (امام حسن اور امام حسین علیہما السلام) کے ساتھ کھیلتی تھیں اور کھیل کھیل میں انہیں اشعار سنا کر بلند ہدف اور شجاعت کا درس دیتی تھیں، امام حسن علیہ السّلام کو جھولاتے ہوئے آپ فرماتی تھیں "اشْبِهْ اَباك ياحَسَنُ، وَاخْلَعْ عَنِ الْحَقِّ الرَّسَنَ، وَاعْبُدْ اِلهًا ذَا مَنَنٍ، وَلا تُوالِ ذَا الإِحَنِ"، اے حسن! اپنے بابا پر جاؤ، حق پر سے پابندیاں ہٹا دو، نعمتیں دینے والے رب کی عبادت کرو، اور کینہ پرور شخص سے دوستی نہ رکھو، یعنی کھیل کے دوران بچوں کے اندر مثبت پیغام، حق گوئی اور غیرتِ ایمانی کی تخم ریزی کرنا۔

انہوں نے مزید حجاب اور حیا کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ:جب ایک نابینا صحابی عبد اللہ بن مكتوم گھر پر آئے تو جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے پردہ فرما لیا، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا "اے فاطمہ! یہ تو نابینا ہے، تمہیں نہیں دیکھ سکتا، تو آپ نے وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:"إِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَانِي فَإِنِّي أَرَاهُ وَ هُوَ يَشَمُّ اَلرِّيحَ فَقَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّی‌ اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَشْهَدُ أَنَّكِ بَضْعَةٌ مِنِّي"، اگر وہ مجھے نہیں دیکھ رہا تو میں تو اسے دیکھ رہی ہوں، یعنی بچوں بالخصوص بچیوں کے اندر حیا کا مادہ پیدا کرنا اور انہیں معاشرتی حدود سے آگاہ کرنا سیرتِ فاطمی کا ایک روشن باب ہے۔

امام جمعہ تاراگڑھ حجۃالاسلام مولانا نقی مھدی زیدی نے کہا کہ: جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا گھر مادی آسائشوں سے خالی تھا لیکن معنوی اعتبار سے مالا مال تھا، ہاتھ سے چکی پیسنا، پانی کے مشکیزے اٹھانا، اور سادگی سے زندگی بسر کرنا ان کے معمولات میں شامل تھا، بچوں کو ناز و نعم اور بے جا مادی آسائشوں کا عادی بنانے کی بجائے، انہیں محنت، قناعت اور مشکل حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کا خُوگر بنانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں اگر ہم چاہتے ہیں کہ اولاد معاشرے کا مفید اور باکردار رکن بنے، فحاشی، گمراہی اور نفسیاتی الجھنوں سے محفوظ رہے، تو ہمیں "سیرتِ فاطمی" کو اپنا نصابِ زندگی بنانا ہوگا۔

خطبہ کے اختتام پر مولانا سید نقی مھدی زیدی نے مظلوموں کی نصرت، امتِ مسلمہ میں بیداری و اتحاد، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام پر عمل اور امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل اور ہمیں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے اپنی اولاد کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کرنے کی توفیق کے لئے دعا فرمائی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha