حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیخ علی دعموش نے بئر العبد میں واقع مجتمع سیدہ زینب سلام اللہ علیہا میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران کہا کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ اور ریپبلکنز کی شکست اور ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکی پالیسی کے بنیادی اہداف تبدیل نہیں ہوں گے۔ صرف ان اہداف کو حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی انتخابی شکست میں ایران کے خلاف جنگ میں ناکامیوں اور امریکی عوام میں صہیونی حکومت اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بیداری کا بھی کردار رہا، تاہم اس سے اسرائیل کے حوالے سے امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔
لبنان میں امریکی مداخلت پر تنقید
شیخ دعموش نے لبنان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ سیاسی، سکیورٹی، عدالتی اور مالی فیصلوں پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے اور لبنانی عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک طرف مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ دوسری طرف صہیونی حکومت کو جنوبی لبنان کے دیہات میں قتل و غارت اور تباہی کی کھلی چھوٹ دے رہا ہے۔
جنوبی لبنان کا دفاع قومی ذمہ داری ہے
انہوں نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنوبی لبنان کے دفاع، صہیونی جارحیت کے خاتمے، بے گھر افراد کی واپسی اور تعمیر نو کو اولین ترجیح دے۔
شیخ دعموش نے واضح کیا کہ مزاحمت غاصبانہ قبضے کے خلاف ایک قومی اور قانونی حق ہے اور جب تک قبضہ باقی ہے، مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت عاشورائی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے کسی دباؤ کے سامنے تسلیم نہیں ہوگی۔










آپ کا تبصرہ