۳۰ دی ۱۳۹۹ | Jan 19, 2021
کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر مسلسل 6 روز سے دھرنا جاری

حوزہ/ دھرنا منتظمین نے مذاکرات کامیاب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرلیے ہیں۔ لواحقین شہداء کی تدفین پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی پاکستان کے نجی ٹی وی کے مطابق،  معاہدے میں دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سانحہ مچھ کی تحقیقات کے لیے وزیرداخلہ بلوچستان کی سربراہی میں خصوصی کمیشن بنایا جائے گا، جس میں اسمبلی کے دو ممبران اور ڈی آئی جی رینک کا افسر اور شہدا کے لواحقین کے دو افراد شامل ہوں گے۔

معاہدے کے تحت جےآئی ٹی نےذمہ دار افسران کو ملوث پایا تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین کو فی کس 15 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا جائے گا۔

حکومت اور لواحقین کے درمیان خصوصی کمیشن کے ٹی او آرز بھی طےکرلیے، جن کے مطابق خصوصی کمیشن سانحہ مچھ کی تحقیقات کی نگرانی کرےگا، کمیشن22 سال میں ہزارہ برادری پرحملوں کی تحقیقات کرےگا، خصوصی کمیشن ہزارہ کمیونٹی کےلاپتہ افرادکی تحقیقات بھی کرےگا۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان حکومت اور حساس ادارے سیکیورٹی کی صورت حال کا ازسرنو جائزہ لیں گے اور نیا سیکیورٹی پلان مرتب کیا جائے گا،  ڈی جی نادرا و پاسپورٹ ہزارہ برادری کےآئی ڈی پاسپورٹ کے مسائل حل کریں گے جبکہ شہداء کے لواحقین کو حکومت بلوچستان روزگار کےمواقع فراہم کرے گی

قبل ازیں دھرنا منتظمین نے مذاکرات کامیاب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرلیے ہیں۔ دھرنا منتظمین نے کہا کہ لواحقین شہداء کی تدفین پر رضا مند ہوگئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ ’جس بھی کمیونٹی کے ساتھ ظلم ہورہا ہے اس کا اختتام ہونا چاہیے، لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے اب ایسے معاملات کو رکنا چاہیے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 4 =