۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
لاہور، جشن مولود کعبہؑ کے سلسلہ میں جامعہ المنتظر میں تقریب

حوزہ/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور مہتمم اعلیٰ نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام متضاد صفات کے حامل تھے۔ فقر کی حالت میں سخاوت، شُجاعت کے ساتھ نرم دلی، حکومت کے ہوتے ہوئے زُہد و پرہیزگاری، قدرت و طاقت کے باوجود صبر و تحمل،اختیار کے باوجود عفو و درگذر ان کی ذات گرامی کا حصہ تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور/ جامعتہ المنتظر میں جشنِ میلاد امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام منایا گیا۔ اس حوالے سے تقریب علی مسجد میں منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور مہتمم اعلیٰ جامعتہ المنتظر حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ محمد افضل حیدری نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام کی پرورش، کفالت، اور تربیّت کی ذمہ داری رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود قبول فرمائی۔ امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے تھے رسول اللہ نے انہیں علم ایسے دیا جیسے پرندہ اپنے بچے کو غذا دیتا ہے یعنی حضور نے اللہ سے جیسے علم لیا ویسے علی کو دیا۔ جبکہ مولا علی کا فرمان ہے کہ پیغمبر نے مجھے علم کا ہزار باب تعلیم کیا۔اسی وجہ سے انہوں نے سلونی قبل ان تفقدونی یعنی جو چاہو پوچھو کا غیر معمولی دعویٰ کیا۔

تصویری جھلکیاں: جشن مولود کعبہؑ، جامعہ المنتظر لاہور میں تقریب کا انعقاد

علامہ محمد افضل حیدری نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام متضاد صفات کے حامل تھے۔ فقر کی حالت میں سخاوت، شُجاعت کے ساتھ نرم دلی، حکومت کے ہوتے ہوئے زُہد و پرہیزگاری، قدرت و طاقت کے باوجود صبر و تحمل،اختیار کے باوجود عفو و درگذر ان کی ذات گرامی کا حصہ تھے۔ اور پوری زندگی اسی پر کاربند رہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت علی کی عدالت ضرب المثل ہے حتیٰ کہ آپ کی ذوالفقار بھی دشمنوں کو بالکل برابر کے دو حصوں میں کاٹتی تھی۔مولا علی علیہ السلام زندگی بھر عدالت پر اس سختی سے کاربند رہے کہ یہی صفت آپ کی شہادت کا باعث بنی اور کہا گیا قُتِل علی فی محرابہ لشدة عدلہ عدالت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی وجہ سے علی کو محراب میں قتل کیا گیا۔ان کا کہنا تھاکہ حضرت مریم علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے بیت المقدس سے باہر جانے کا حکم دیا گیا جبکہ حضرت علی کی والدہ فاطمہ بنت ِاسدکے لئے کعبہ کی دیوار شگافتہ ہوئی ،وسطِ کعبہ میں علی ؑ پیدا ہوئے۔تین دن بعد دوبارہ دیوار شگافتہ ہوئی اور وہ بچے کو لے کر باہر آئیں۔

علامہ افضل حیدری نے کہا کہ تین دن تک بچے نے آنکھیں کھولیں ،نہ ماں کا دودھ پیا۔کعبہ سے باہر آنے کے بعد رسول اللہ کے ہاتھوں پر آنکھیں کھولیں اور پیغمبر کی زبان مبارک کو چوسا۔اور تین دن کی عمر میں ہی سیدالمرسلین کے ہاتھوں پر سورہ مبارکہ المومنون کی ابتدائی آیات کی تلاوت کی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 3 =