۱۷ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 7, 2021
پیر معصوم حسین نقوی

حوزہ/ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑے بغیر پاکستان میں انتشار کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ ناصبی خارجی عناصر کی سرکوبی بھی ضروری ہے، حیرت ہے کہ اہل سنت کے لبادے میں بھی کچھ عناصر ناصبیت کا پرچار کر رہے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ محبت اہل بیت ایمان کا حصہ ہے ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور/ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ ممتاز عالم دین اہل سنت سید محمد معصوم حسین نقوی نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کے باعث ملک کے اندر استحکام پیدا ہوا اور بیرونی دشمنوں کا مقابلہ بھی کیا گیا ۔دہشت گردوں نے سابقہ فاٹا کے علاقے میں قبضہ جما لیا تھا، جسے افواج پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دے کر کلیئر کروایا ۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا اعتراف قابل تحسین ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس ، اٹلی سمیت دیگر عالمی قوتیں بھی پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کریں اور آئندہ کسی قسم کی پراکسی وار سے اجتناب کریں ۔

اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑے بغیر پاکستان میں انتشار کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ ناصبی خارجی عناصر کی سرکوبی بھی ضروری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف چار سالہ آپریشن ردالفساد کے اثرات کو زائل ہونے سے بچانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کروانا ہوگا۔حیرت ہے کہ مختلف ایشوز کھڑت کرکے قوم میں انتشار پیدا کیا جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ دہشتگرد کالعدم تنظیموں کے سرغنے دندناتے پھر رہے ہیں،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے،ریاستی ادارے اہل بیت عظام علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیوں پر مبنی مواد کو ہٹائیں ورنہ حالات درست نہیں رہیں گے۔ ہمیں شدید تحفظات ہیں کہ ناقص تفتیش کے باعث خاتون جنت دختر رسول کی شان میں گستاخی کرنے والا ضمانت پر رہا ہوجاتا ہے اور امجد صابری کے قاتل چار سال بعد بری ہوجاتے ہیں۔جے یو پی کے سربراہ نے کہا کہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ آپریشن ردالفساد کے اثرات کوزائل ہونے سے بچانے کے لیے دہشت گردی کوروکیں۔ حیرت ہے کہ اہل سنت کے لبادے میں بھی کچھ عناصر ناصبیت کا پرچار کر رہے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ محبت اہل بیت ایمان کا حصہ ہے ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 6 =