۴ مهر ۱۴۰۰ |۱۸ صفر ۱۴۴۳ | Sep 26, 2021
خالد القدومی

حوزہ/ خالد القدومی نے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ اور معرکے کا آغاز ہو چکا ہے،سیاسی اور عسکری میدانوں میں فلسطینیوں کے حق کو دنیا میں انصاف کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یہ فلسطین کی مکمل آزادی کے آغاز کا ایک معرکہ ثابت ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خالدالقدومی نے جمعرات کے روز قم المقدسہ میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار "سیف القدس"سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اسرائیل کے ساتھ جنگوں میں مقاومتی جوان ہی بنیادی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں، فکر مقاومت،جنگ مقاومت اور مزاحمت و مقاومت سے متعلق دیگر امور نے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ مقاومت کو بین الاقوامی سطح پر نظرانداز نہیں کیاجا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی حکومت کا اصل چہرہ ظاہر ہو چکا ہے اور فلسطینی برسوں سے آواز بلند کر رہے ہیں کہ ہم ہرگز اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے ،یہاں تک کہ کچھ مغربی ممالک بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کیوں فلسطینیوں کی مظلومیت کو نظرانداز اور اسرائیل کو حق بجانب قرار دیا جا رہا ہے۔؟

تہران میں تحریک حماس کے دفتری سربراہ نے کہا کہ یہ اسرائیلی قابض حکومت،جو کہ اپنے کو حق بجانب قرار دیتی ہے،کی نابودی اور شکست کے لئے ایک آغاز ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا کے ذریعے "فلسطین آزاد ہشٹک"کا بہت زیادہ استقبال کیا جا رہا ہے اسے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اب مقاومت کا دائرہ وسیع تر ہو چکا ہے لہذا اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

القدومی نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ہم نے سوشل میڈیا پر پہلی دفعہ اسرائیلی فوج پر تنقید کرتے دیکھا،کہاکہ اب اسرائیل خود سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ مقاومتی اور مزاحمتی رہنماؤں سے کیسے بات کی جائے اور یہ سیف القدس جنگ کے نتائج میں سے ایک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقاومت اب صرف غزہ کی پٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ جغرافیائی اعتبار سے پورا فلسطین ایک ریڈ زون کی حیثیت رکھتا ہے اور اب کسی کو بھی فلسطینیوں کے خلاف جارحیت اور محاصرے سمیت حقوق کی خلاف ورزی کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔

القدومی نے کہا کہ فلسطینیوں کو اب اپنے حقوق کے لئے کسی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی ضرورت نہیں ہے،نیتن یاہو کی بادشاہانہ حکومت کا زوال اس بات کی واضح مثال ہے جیسا کہ اسرائیل کی نابودی کی علمائے اسلام اور خاص طور پر رہبر انقلاب نے پیشن گوئی کی تھی۔

تحریک حماس کے رہنما نے کہا کہ اسرائیل کی نئی حکومت اور نفتالین کو سبھی جانتے ہیں کہ وہ قانا کے خونی واقعے کو وجود بخشنے والا قاتل اور ایک جنگی مجرم ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اندر ایک قاتل شخص کے برسر اقتدار آنے پر مغربی ممالک اس کی تائید کر رہے ہیں جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر جمہوریت کے مطابق ایک انصاف پسند اور معتدل انسان کے انتخاب پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے یہ غیر منصف سیاست دانوں کی غیر منصفانہ مدیریت کی دلیل ہے۔

خالد القدومی نے کہا کہ فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ اور معرکے کا آغاز ہو چکا ہے،سیاسی اور عسکری میدانوں میں فلسطینیوں کے حق کو دنیا میں انصاف کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یہ فلسطین کی مکمل آزادی کے آغاز کا ایک معرکہ ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قدس شریف کے بغیر فلسطین کوئی حیثیت نہیں رکھتا،قدس ہی ہماری مسلح مقاومت کی دلیل ہے اور تمام فلسطینیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ غاصب صہیونی نابود ہو جائیں گے اور فلسطین آزاد ہو جائے گا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 5 =