۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
دکتر احمد راسم النفیس

حوزہ/ مصر میں شیعہ گروہ التحریر کے سربراہ نے اسلام سے یہودیوں کی دیرینہ دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "صہیونیت یہودی منصوبے کا سیاسی پہلو ہے جو تقریبا ۱۰۰/ سو سال پہلے ابھر کر سامنے آیا ، جو عیسائی صہیونیت اور صہیونی نواز پروٹسٹنٹ نظریہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور یہودی ابتداء سے ہی اسلام کے خلاف محاذ آراء رہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، احمد راسم النفیس نے آج، جمعرات کو ایک کانفرنس میں جو کہ "جنگ سیف القدس،محور مقاومت اور مسجد اقصی کا دفاع" کے عنوان سے قم میں منعقد ہوئی اس میں کہا:ہم ایک نظریاتی طرز تفکر کے خلاف ہیں اور میں یہ نہیں کہتا کہ مذہب اور نسلی جنگ کا تعلق کسی خاص آب و ہوا اور وطن سے نہیں ہے۔

لہذا، یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہمارے سامنے جو کچھ ہے اس کی صحیح تصویر بنائیں ، کیونکہ یہ نسلی یا علاقائی جنگ نہیں ہے ، بلکہ یہ جنگ ، ایک عقیدتی جنگ ہے ، اور تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ  اس مسئلے پر ایک معین نظریہ رکھیں۔

انہوں نے بتایا: "سادات کے قتل کے دوران ، میں ایک سال کے لئے مصر میں قید تھا ، اور شیخ احمد عزام میرے ساتھ 10 مہینے رہا ، اور کچھ فلسطینی جہادی اسلامی جہاد تحریک کے بانی، اس کے ساتھ تھے۔"

راسم النفیس نے کہا: میں جب بھی اس واقعہ کا تذکرہ کرتا ہوں تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں مختلف ناموں کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، ہمارے لئے جو اہم ہے وہ اسلام کا بنیادی مسئلہ ہے ، جیسا کہ حالیہ ماضی جھروکوں میں دیکھیں تو ممالک اور سرحدوں کے مسئلے کا نام و نشان نہیں تھا۔

ان کے بقول ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے مابین رحمت اور مسلمانوں کی حمایت ہے، لیکن آج جو مسئلہ فلسطین کے طور پر جانا جاتا ہے وہ سچ ہے کہ وہ اس تنازعہ میں سب سے آگے ہیں اور اس تنازعہ اور تصادم میں ان کی ذمہ داری صرف اس وجہ سے زیادہ ہے کہ وہ واقعے سے نزدیک ہیں جبکہ فلسطین کے مسائل کی حمایت کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔

راسم النفیس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: میں یہ نہیں کہہ رہا کہ عرب کی جنگ یا اسرائیل کی جنگ، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب مسلمانوں کا فرض ہے۔ مرکزی نقطہ یروشلم اور فلسطین کے مابین محاذ آرائی ہے لیکن شعاع اور رقبہ کے لحاظ سے یہ مسئلہ عالم اسلام کے مشرق اور مغرب کے تمام جغرافیے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

انہوں نے اسلام سے یہودیوں کی دیرینہ دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "صہیونیت یہودی منصوبے کا سیاسی پہلو ہے جو تقریبا ۱۰۰/ سو سال پہلے ابھر کر سامنے آیا ، جو عیسائی صہیونیت اور صہیونی نواز پروٹسٹنٹ نظریہ کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور یہودی ابتداء سے ہی اسلام کے خلاف محاذ آراء رہے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .