۷ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 29, 2021
تصاویر/ نشست تخصصی بررسی تحولات اخیر افغانستان

حوزہ/حجۃ الاسلام والمسلمین ناصری داودی نے کہا کہ امریکہ اور وہابیت کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تنظیموں کی ضرورت ہے،لیکن یہ اس وقت تک ممکن ہے جب تک کہ یہ گروہ امریکی مفادات کے مطابق کام کرے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،استاد جامعۃ المصطفی العالمیۃ حجۃ الاسلام والمسلمین ناصری داودی نے، حوزہ نیوز ایجنسی میں افغانستان کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کے عنوان سے منعقدہ ایک خصوصی نشست میں افغانستان کی حالیہ تاریخ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طالبانی گروہ 1375شمسی میں مختلف ممالک کی حمایت سے کابل کو فتح کرنے اور برسر اقتدار آنے میں کامیاب ہوا،اس گروہ نے 5 سال تک افغانستان پر  حکمرانی کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملا محمد حسن ربانی کا بطور طالبانی سیاسی رہنماء 5سالہ اقتدار افغانستان کے لئے سیاہ ترین سال تھا،ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی بندش سے لے کر بڑی تعداد میں لوگوں کی ہجرت تک، خواتین اور اقوام کے حقوق کی پائمالی،یونیورسٹیوں اور سائنسی مراکز کی بندش افغانستان میں بحران کا بدترین دور تھا،اس دور کے بعد سے، ہزارہ عوام کے لئے بہت ہی مشکل صورتحال پیش آئی اور افغانستان کے شیعوں پر سخت دباؤ پڑا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین ناصری نے کہا کہ نائن الیون اور افغانستان پر امریکی حملے کے بعد حامد کرزئی برسر اقتدار آئے،اس عرصے میں ظاہری طور پر طالبانی حکومت کافی حد تک تباہ ہو گئی تھی،لیکن اس گروپ نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے دہشت گردوں کو اکٹھا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

 المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے استاد نے کہا کہ گذشتہ ماہ کے دوران افغانستان کی تقریباً تمام بندرگاہوں کو طالبان نے فتح کیا ہے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ طالبان کے بارے میں بہت ساری بے بنیادمعلومات اور پوشیدہ زاویے موجود ہیں،مزید کہا کہ ابھی تک طالبان کے بارے میں عالمی سطح پر درست معلومات فراہم نہیں ہوئی ہیں اور اس گروپ کے بہت سے نظریات کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔

استاد حوزہ نے کہا کہ افغان حکمرانوں میں موجود بدترین کرپشن،لوگوں کی حوصلہ شکنی اور آئے دن طالبان کے حامیوں میں اضافے کا باعث بنی ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین ناصری داودی نے کہاکہ امریکہ اور وہابیت کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تنظیموں کی ضرورت ہے،لیکن یہ اس وقت تک ممکن ہے جب تک کہ یہ گروہ امریکی مفادات کے مطابق کام کریں۔

انہوں نے افغانستان کے بحران سے نکلنے کے طریقۂ کار پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان رہنماؤں،سیاسی جماعتوں اور افغان حکومت کے مابین مذاکرات کا انعقاد کیا جائے توکسی حد تک فائدہ مند نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین ناصری نے کہا کہ طالبان نے افغانستان کے معاشی اداروں پر قبضہ کرلیا ہے،اس کے باوجود حکومت کو ان سے مذاکرات کو اہم سمجھنا چاہئے۔

المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے استاد نے کہا کہ عدالت کی بنیاد پر ایک مرتبہ قانون اساسی  پر نظر ثانی کرنا بھی افغانستان کے بحرانوں کو کم کرنے کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج اور حکام کو یہ جان لینا چاہئے کہ افغانستان میں امن و امان اور مصالحت پاکستان کے مفاد میں ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین ناصری داودی نے بیان کیا کہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے ذریعے انتخابات کا انعقاد بحرانوں کے حل کے لئے دوسرا راستہ ہوسکتا ہے۔

آخر میں،انہوں نے کہاکہ یقینی طور پر،افغانستان میں حکومت اسلامی کے قیام کے ساتھ ہی نئے بحران اور تنازعات پیدا ہوں گے اور اس ملک کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 14 =