۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
اسلام آباد علماء و ذاکرین کانفرنس

حوزہ/ اسلام آباد میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام کا کہنا تھا کہ اتحاد و وحدت کیلئے ہم ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں اور آپ ہمیں ہر اول دستے میں پائیں گے۔ ہمارے لئے سب سے اہم ترین قومی وحدت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اسلام آباد میں قومی کانفرنس برائے دفاع عزاداری و تحفظ حقوق تشیع، بعنوان علماء و ذاکرین کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد مکتب تشیع کے بنیادی عقائد کے خلاف ہونے والی یلغار کے خلاف اتحاد کا عملی مظاہرہ کرنا تھا۔

کانفرنس سے علامہ ساجد علی نقوی، علامہ ریاض حسین نجفی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، شیخ محسن علی نجفی، علامہ شہنشاہ نقوی، امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ امین شہیدی، علامہ عارف حسین واحدی، علامہ ناظر تقوی، علامہ اقبال بہشتی، شیخ احمد علی نوری، علامہ حسن ظفر نقوی، شیخ شفا نجفی، علامہ احمد اقبال رضوی، علامہ افتخار نقوی، علامہ گلفام ہاشمی، شیخ انور علی جعفری، ناصر عباس شیرازی، علامہ ضیغم عباس، آئی ایس او کے مرکزی صدر عارف حسین، اصغریہ اسٹوڈنٹس کے مرکزی صدر، شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ اسد اقبال زیدی، منقبت خواں مقدس کاظمی اور علامہ رمضان توقیر نے خطاب کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری یہ کانفرنس کسی مسلک کے خلاف نہیں، ہم بین المسالک اتحاد کے بانی ہیں۔ پڑوسی ملک میں جب انقلاب آیا تو یہاں گروہ بنائے گئے اور تکفیریت کو منظم کیا گیا۔ 33 دہشت گرد تنظیموں کو خدمات دی گئیں مگر وہ ناکام ہوئے، تکفیریوں کو استعمال کیا جاتا ہے، مختلف بہانے بنائے جاتے ہیں، ہم آئین پاکستان کے مطابق عزاداری کا حق رکھتے ہیں۔ چند بے ہودہ تکفیری ہماری اذان کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اہلکار اپنا رویہ بدلیں، آپ کو رویہ بدلنا ہوگا۔ ہم ذمہ داری سے بات کرتے ہیں، ہم کل کو اس ملک کے حکمران بن سکتے ہیں۔ ہم پرکھیں گے کہ کون محب وطن ہے۔ پاکستان بھر کے علمائے کرام کا اجتماع ہی ہمارا سب سے بڑا اقدام ہے، اس سے جو پیغام جائے گا، اس کا ہم جائزہ لیں گے اور ہم آئندہ کیلئے اپنی قسمت کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق خود کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ریلیاں نکالی گئیں، تاکہ قانون سازی کی جائے، یہ انداز غلط ہے، اسے بدلنا چاہیئے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ چہلم سید الشداء بھرپور انداز میں منا کر ایک نئی مثال قائم کیجئے، یہ رکاوٹیں حائل نہیں ہونی چاہیئے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ وحدت کے پرچم تلے اگر علمائے کرام کا اجتماع یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہ مسلم پاکستان ہے مسلکی پاکستان نہیں ہے۔ جتنی بھی ایف آئی آر کٹی ہیں، تکفیریوں کے مظاہرے کروائے گئے، اس کا جواب پچھلے سال کا اربعین تھا۔ اس سال جو ہمارے حقوق پامال کئے گئے ہیں، اس کا جواب چند دن بعد سید الشہداء کا اربعین ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ کس طرح حسینی گھروں سے نکل کر یزیدیت کو ان کے عزائم سمیت دفن کر دیں گے۔ اتحاد و وحدت کیلئے ہم ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں اور آپ ہمیں ہراول دستے میں پائیں گے۔ ہمارے لئے سب سے اہم ترین قومی وحدت ہے، جو علماء دے سکتے ہیں، اب ہم آگے بڑھیں گے۔

سربراہ حوزہ علمیہ جامعہ الکوثر اسلام آباد علامہ شیخ محسن نجفی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم وطن عزیز سے محبت کرتے ہیں اور پاکستانی بھی بہترین شہری ہیں، ہمیں اس وطن کے رکھوالوں سے شکایت ہے، لیکن ملک کی نظریاتی و جغرافیائی محافظوں سے بھی محبت ہے۔ ہم سے بہتر کوئی محب وطن نہیں، وطن سے محبت ایمان کی نشانی ہے، اگر کوئی اندرونی یا بیرونی سازش ہوتی ہے تو ہم اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہم حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ سے پیار سے مخاطب ہیں۔ تکفیری عناصر نہ پاکستانی ہیں اور نہ ہی محافظین میں شمار ہوتے ہیں۔ محبین اہلبیت سے گزارش کرتا ہوں کہ تکفیری عناصر کو باز رکھا جائے، اہلسنت کی معتبر ترین کتابوں کے راوی اہل تشیع ہیں۔ کافر کافر کہنے والے جاہل ہیں۔ تکفیر کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔ علامہ امین شہیدی کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اربعین سید الشہداء مکتب تشیع کی بیداری کا دن ثابت ہوگا۔ مکتب تشیع کو عالمی سازش کے تحت سازشوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، توہین کے نام پر ہمارا استحصال کیا جاتا ہے، ہم توہین کے قائل نہیں ہیں اور اس تکفیری پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہیں۔

وفاق المدارس شیعہ پاکستان کے سربراہ آیت اللہ حافظ ریاض نجفی کا کہنا تھا کہ ملک کے محافظین کا سب سے بڑا نشان، نشان ِحیدر ہے۔ یزیدیت مٹ جائے گی، مگر عزاداری نہیں رکے گی۔ اربعین کے موقع پر کروڑوں زائرین جمع ہوتے ہیں اور پاکستان میں بھی لاکھوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ چند تکفیریوں سے عزاداری میں کوئی فرق نہیں پڑنے والا، ہمیں آپس میں متحد ہونا چاہیئے، دنیا کی کوئی طاقت ہمارا بال بھی بھیگا نہیں کرسکتی۔

سربراہ امت واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کادن مکتبِ تشیع کے تمام گروہوں اور اداروں کےیک آواز ہونے کے حوالہ سے بہت بڑا دن ہے۔آج سب کےدلوں میں امیدکی کرن جاگی ہے۔اس دن کاسب کو انتظار تھا کہ ہم سب، ہم آواز ہوکر دشمنانِ دین و دشمنانِ پاکستان کے مقابلہ میں اپنی یکجہتی اور اُخوت کا اظہار اور اعلان کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ زیارتِ عاشوراکےالفاظ ہیں: "انی سلم لمن سالمکم و حرب لمن حاربکم"۔ آج امام حسین علیہ السلام سے اپنی یکجہتی اور محبت کے اظہار کے ساتھ ان کےمحبین اور دوستوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا دن ہے اور اُن کے دشمنوں کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننےکا موقع بھی ہے۔مزید کہا کہ آج ہمارے لئے ریاست کی پالیسیز ایک بہت بڑاسوال ہیں۔کہا گیا کہ ضیاء الحق دور کی پالیسیز میں تبدیلی آچکی ہے، لیکن نواز شریف دور کے اختتامی عرصہ اور آج عمران خان کے دور میں تشیع کے حوالہ سے اپنائی گئی پالیسیز کے تحفظ کے لئے ریاستی دہشتگرد، تکفیری و ناصبی عناصر کو استعمال کیا جارہا ہے۔

علماء و ذاکرین کانفرنس سے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین الجانی نے اپنے خصوصی خطاب میں کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علمائے کرام ہمارے سر کا تاج ہیں اور ہم ان سے ہمیشہ رہنمائی چاہتے ہیں اور آئندہ بھی علمائے کرام کے دیئے گئے لائحہ عمل پر لبیک کہیں گے۔ مرکزی صدر نے کہا کہ ملت تشیع پاکستان کو عزاداری پر پابندیاں، بے بنیاد مقدمات اور جبری گمشدگیوں جیسی مشکلات کا سامنا ہے، لاپتہ شیعہ افراد پر قومی جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔

علامہ ظفر عباس شاہانی نے کانفرنس کا اعلامہ پیش کیا۔ اعلامیہ کے مطابق عزاداری ہماری شہ رگِ حیات ہے اور عزاداری کے راستے میں حائل تمام رکاوٹوں اور سازشوں کو ناقابل قبول قرار دیا گیا، مکتبِ اہلبیت کی تکفیر اور اس کے مقدسات کی توہین کے مرتکب افراد اور اداروں کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ملک دشمن منافرت آمیز مہم کو چلانے والے افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے نیز حکومتی و غیر حکومتی سطح پر منعقد ہونے والے پروگراموں میں ان کی شرکت پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ محرم الحرام کے دوران سینکڑوں شیعہ افراد پر تعصب پر مبنی ہونے والے مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ نصاب مرتب کرتے ہوئے اس کے تمام مراحل کو تمام اسلامی مکاتب فکر کی متفقہ رائے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ NCOC کے تحت جاری کردہ اربعین پالیسی کو مسترد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ”شیعہ مسنگ پرسنز“ کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے بے گناہ افراد کو فوری رہا کیا جائے نیز اسی ضمن میں بیرون ملک شیعہ مسنگ پرسنز جو کہ پاکستان کے محب وطن شہری ہیں، انہیں وطن واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 4 =