۱۶ آذر ۱۴۰۰ |۲ جمادی‌الاول ۱۴۴۳ | Dec 7, 2021
کانفرنس

ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے مجلس علمائے ہند کی جانب سے ’سیرت رسول ؑ کی عصری معنویت اور وحدت اسلامی ‘ کے موضوع پر وبینارکا انعقاد عمل میں آیا،شیعہ و سنّی علماء و مفکرین نے اظہار خیا ل کیا

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر مجلس علمائے ہند کی جانب سے ہفتہ ٔ وحدت کی مناسبت سے ’بین الاقوامی ویبینار‘ کا انعقاد عمل میں آیا۔یہ وبینار ’سیرت پیغمبر اسلامؐ کی عصری معنویت اور اتحاد اسلامی ‘ کے موضوع پر منعقد ہوا جس میں شیعہ و اہلسنت علماء و مفکرین نے اظہار خیال کیا ۔پروگرام کا آغاز قاری مزمل عباس نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔اس کےبعد عادل فراز کی نظامت میں وبینار میں شریک علماء و دانشوروں نے سیرت رسول اسلامؐ کی معنویت اور وحدت اسلامی کے موضوع پر تقریریں کیں۔

انجمن فلاح دارین لکھنؤ کے صدر مولانا جہانگیر عالم قاسمی نے افتتاحی تقریر میں سیرت پیغمبر ؐ کی روشنی میں اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت ہے۔مسلمانوں کو چاہے کہ نزاع اور انتشار سے پرہیزکریں کیونکہ اختلاف و انتشار کی بنیاد پرامت کمزور ہوجائے گی ۔مولانانے کہاکہ تمام انبیاء نے اپنی امت کو متحد رہنے کی دعوت دی ۔رسول خداؐ نے اتحاد امت کے لیے نماز جمعہ اورعیدین کی نمازوں کا قیام کیا تاکہ ہفتہ میں ایک بار نماز جمعہ میں اور سال میں نماز عیدین کے موقع پر ایک جگہ جمع ہوکر عملی طورپر اپنے اتحاد کا ثبوت پیش کیا جائے۔ کیونکہ نمازوں میں ذات پات ،اونچ نیچ اور چھوٹے بڑے کی کوئی تفریق نہیں ہوتی ۔لہذا نماز جمعہ اور عیدین اتحاد امت کا بہترین مرکز ہیں ۔مولانانے کہاکہ اگر کبھی کسی کی بات ناگوار گذرے تو اس کے لیے نزاع کی اجازت نہیں ہے بلکہ اس پر صبر کیا جائے ۔نزاع اور انتشار نے امت کو کمزور اور پسماندگی کا شکار بنادیاہے ۔آج کا مسلمان اسی لیے انتشار اور پسماندگی کا شکار ہے کیونکہ ان کے یہاں قدم قدم پر اختلاف و تنازعات ہیں ۔رسول اسلام ؐ نے امت کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا تھاکہ یاد رکھو گذشتہ امتیں اس لیے تباہ و برباد ہوگئی تھیں کیونکہ ان کے یہاں حسد اور بغض تھا ۔آج اختلاف و انتشار کی بنیاد حسد اور بغض ہی ہے ۔

مجلس علمائے ہند کے سکریٹری اورمعروف شیعہ عالم دین حجۃ الاسلام مولانا سید تقی آغا(حیدرآباد) نے اپنی تقریر میں کہاکہ نبی کریم ؐ کی سیرت ہردور میںانسانیت کے لیے بہترین نمونۂ عمل اور باعث رحمت ہے ۔جس طرح زمانۂ جاہلیت میں لوگ طبقاتی نظام ،بغض و حسد،حق تلفی ،آپسی تنازعات ،ظلم و تشدد ،قطع رحمی ،شرک ،ناانصافی اور بے عدالتی کا شکار تھے اوررسول اسلام ؐ کی ذات مقدسہ نے انہیں عدالت و انصاف کی طرف مائل کیا ۔ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوا ۔طبقاتی نظام کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں گئیں ،حقوق معین کیے گئے اور صلۂ رحمی کا حکم دیا گیا ۔آج اگر طبقاتی نظام اور بے عدالتی و ناانصافی کا بول بالا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے سیرت رسولؐ کو درکنارکردیاہے ،اسی لیے آج ہم انہی مصائب و آلام میں گرفتار ہیں جن میں زمانۂ جاہلیت کے لوگ گرفتار تھے ۔مولانانے کہاکہ موجودہ عہد میں سیرت رسولؑ کی معنویت اور اہمیت کو سمجھنا بیحد ضروری ہے ۔ رسول اسلام ؐنے انسان کی روح کو پاک کرکے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں اور اسرار کو اپنی تربیت اور اخلاق کے ذریعہ اجاگر کیا اور نئے سماج کی تعمیر کی ۔آج  بھی سیرت رسول پر عمل کیے بغیر انسانیت کی فلاح اور نجات ممکن نہیں ہے ۔

معروف سنّی صوفی عالم مولانا امیر حمزہ اشرفی نظامی(مالیگائوں) نےاپنے خطاب میں کہاکہ اگر امت مسلمہ نبی اکرمؐ کی بات پر صدق دل سے عمل کرنے لگے تو ایک پل میں تمام تر اختلاف و انتشار ختم ہوجائیں ۔رسول اسلامؐ نے فرمایا کہ اگر کسی مسلمان کو مشرق میں تکلیف ہو اور مغرب کے مسلمان کو اس کا احساس نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں ہے ۔اس سے زیادہ اتحاد اور اتفاق کا پیغام اور کیا ہوسکتاہے۔سرکار رسالت مآبؐ کی پوری زندگی ہمارے لیے نمونۂ عمل ہے ۔پیغمبراسلام ؐکی سیرت میں جگہ جگہ پر اتحاد اور اتفاق کا پیغام ہے ۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بغیر محبت اہلبیت رسولؐ اور سیرت ائمہ طاہرین ؑ پر عمل کیے ہوئے اتحاد ممکن نہیں ہے ۔رسول اسلام ؐنے فرمایا تھاکہ میں تمہارے درمیان قرآن مجید اور اپنے اہلبیتؑ کو چھوڑ کر جارہاہوں ،اس لیے بغیر قرآن مجید اور دامن اہلبیتؑ سے تمسک اختیار کیے ہوئے اتحاد نہیں ہوسکتا ۔

معروف شیعہ اسکالر حجۃ الاسلام مولانا سید نجیب الحسن زیدی(مقیم قم ایران) نے تقریر کرتے ہوئے کہاکہ قرآن مجید میں رسول اسلامؐ کی عظمت اور ان کی رأفت و رحمت کو اس طرح پیش کیا گیا کہ ہم نے تمہارے درمیان اس رسولؐ کو بھیجا جو تم میں سے ہے ۔جو تمہاری مصیبتوں پر تڑپ اٹھتاہے ۔وہ تمہاری ہدایت کے لیے حریص ہے اور تمہارے لیے عزیز و رحیم ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایک معنوی وجود اپنے ذاتی فائدے کے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ انسانیت کے نفع و نقصان کے بارے میں فکر مند رہتاہے ،بلکہ وہ عالمین کے بارے میں غوروفکر کرتاہے ۔امام حسن ؑنے فرمایاکہ رسول اکرمؐ ہمیشہ غوروفکر میں غرق رہتے تھے اور انہیں کبھی امت مسائل سےپرسکون اور بے فکر نہیں پایاگیا ۔مولانانے کہاکہ پیغمبرخداؐ نے ہمیشہ سچ بولا، اس لیے ہم سے بھی سیرت پیغمبر ؑ کایہی مطالبہ ہے کہ ہمیشہ حق بیانی سےکام لیں ۔پیغمبرؑاکرم نے ہمیشہ امانتوں کو ادا کیاہے اس لیے سیرت کا مطالبہ یہی ہے کہ ہم بھی امانت دار رہیں ۔پیغمبرخداؐ نے فرمایا کہ روز قیامت سب سے زیادہ میرے نزدیک وہ ہوگا جو سب سے زیادہ سچا اور امانت دار ہوگا ،جو اپنے عہدو پیمان کو وفا کرنے والا ہوگا ،جس کا اخلاق حسین اور جو لوگوں سے سب سے زیادہ نزدیک ہوگا ۔کیونکہ پیغمبر اسلام ؐانسانیت کے لیے روئوف و رحیم تھے اس لیے ان کے پیروکاروں کو بھی رأفت و رحمت کا دامن تھامنا ہوگا ۔لہذا ضروری ہے کہ انسانیت کی فلاح و نجات کے بارے میں غوروفکر کی جائے اور لوگوں کے ساتھ حسن خلق سے پیش آیا جائے۔

معروف مذہبی دانشور مولانا سید سرورچشتی گدی نشین ،خادم درگارہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے اپنی تقریر میں ناصبیت اور خارجیت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ میں عاشقان رسولؐ سے سوال کرنا چاہتاہوں کہ آخر کیا وجہ ہےکہ عشق رسولؐ کا دعویٰ کرنے والے’ اہل کسا ‘کو فراموش کربیٹھے ہیں؟ ۔پنجتن پاکؑ سے خصومت ،ان کی حق تلفی ،ان کے دشمنوں کی مدح سرائی کیوں کی جارہی ہے؟ ۔حضرت رسول خداؐ کے کفیل حضرت ابوطالب ؑ کی دشمنی میں زمین و آسمان کے قلابے ملانا دراصل رسول اسلامؐ سے دشمنی کی دلیل ہے ۔کیا شہیدان کربلا اور اسیران کربلا کی قربانیوں کو بھلایا جاسکتاہے ؟۔ کوئی شخص ان سے محبت کادعویٰ کرے اور ان کی شہادت کے دنوں میں شادیاں بھی کرے ،یہ کیسے ممکن ہے ؟۔رسولؐ اور آل رسول ؑسے محبت کا دعویٰ کرنے والا ان کی مصیبت اور شہادت کے دنوں میں خوشی نہیں مناسکتا ۔انہوں نے کہاکہ عاشق رسول ؐ کبھی یزیدملعون کا ہم نوا نہیں ہوسکتا ۔آج یزید نوائی بڑھ رہی ہے ۔یہ امام حسینؑ کی دشمنی میں نہیں بلکہ رسول خداؐ سے دشمنی کا نتیجہ ہے ۔مولانانے کہاکہ سلفیت اور تکفیریت نے اسلام کو جتنا نقصان پہونچایا کسی دوسری تحریک نے نہیں پہونچایا ۔مولانانے کہا کہ اتحاد امت کے لیے رسول اور آل رسولؑ سے محبت شرط ہے انکے دشمنوں سے اتحاد کی بات کرنا بھی فضول ہے ۔

پروگرام کے آخر میں مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے میزبان کی حیثیت سے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔مولانانے سیرت رسول اسلامؐ اور وحدت اسلامی کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے کہاکہ ایک زمانے سے عالمی سطح پر یہ سازش ہورہی ہے کہ مسلمان آپس میں متحد نہ ہونے پائیں ۔کیونکہ اگر مسلمان آپس میں متحد ہوگئے تو کوئی بھی سپر پاور ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔اس لیے لوگوں کو خریدا جاتاہے تاکہ وہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف ورغلاتے رہیں ۔اسلام کے نام پر مختلف تنظیمیں بنائی جاتی ہیں تاکہ انہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جاسکے ۔یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان مسلمان کو ماررہاہے ۔افغانستان ،عراق ،شام ،یمن اور دیگر ملکوں میں مسلمان صرف مسلمانوں کا قتل عام کررہاہے ۔یہ استعماری طاقتوں کی سازشیں ہیں ۔امریکہ اور اسرائیل نے ایسی تنظیموں کو جنم دیاہے جو اسلام کے نام پر دہشت گردی کو فروغٖ دے رہی ہیں ۔اسی لیے ہفتہ وحدت منایا جاتاہے تاکہ استعماری طاقتوں کو شکست دی جاسکے ۔مولانانے کہاکہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کا نتیجہ ہے کہ آج ہفتہ وحدت منایاجارہاہے تاکہ استعماری سازشوں اور حربوں کو ناکام بنایا جاسکے ۔امام خمینیؒ نے فرمایاتھا کہ مسلمان اس بات پر لڑ رہاہے کہ نماز ہاتھ کھول کر پڑھی جائے یا ہاتھ باندھ کرپڑھی جائے ،اور دشمن ان کے ہاتھ کاٹنے کی فکر میں ہے ۔ہم ایک امت ہیں اور امت واحدہ کے عنوان سے ہمیں ایک رہنا چاہیے ۔مولانانے مزید کہاکہ افسوس یہ ہے کہ بنام اسلام جاری دہشت گردی پر مسلمان لیڈروں کی طرف سے مذمتی بیان تک نہیں آتا ۔افغانستان میں جس طرح شیعوں کا قتل عام کیا گیا وہ قابل افسوس ہے لیکن ہندوستان کے مسلمان رہنمائوں کی طرف سے اس واقعہ کی مذمت تک نہیں گئی ۔مولانانے کہاکہ اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اس کے لیے دوونوں طرف کے لوگوں کو آگے آنا چاہیے ۔مولانانے کہاکہ دہشت گردی کو ُدہرے معیار نے فروغ دیاہے ۔عالمی طاقتوں کے ساتھ مسلمان حکمران بھی دُہرے رویے کاشکار ہیں ۔شیعہ علما و فقہا کا ایک ہی پیغام ہے کہ متحد رہاجائے ۔رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای حفظہ اللہ تعالیٰ ،مرجع عالیقدر آیت اللہ سیستانی مد ظلہ العالی اور دیگر مراجع کرام نے واضح الفاظ میں اتحاد کی دعوت دی ہے اور کہاہے کہ مقدسات اہلسنت کی توہین جائز نہیں ہے ۔لہذ مسلمانوں کے دیگر فرقوں کی طرف سے بھی اتحاد کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔فقط اتحاد اور اخوت کے نعروں سے کچھ نہیں ہوگا ۔

پروگرام کے آخر میں مولانا سید کلب جواد نقوی نے مجلس علماء ہند کی طرف سے تمام شرکا کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اتحاد امت پر زور دیا ۔پروگرام کے کنوینر اور ناظم عادل فراز نقوی نے تمام مہمانوں کا مختصر تعارف پیش کیا اور کہاکہ ان شاء اللہ آیندہ بھی اتحاد اسلامی کے فروغ کے لیے اس طرح کے نمایاں پروگرام ہوتے رہیں گے ۔آیندہ یہ کوشش کی جائے گی کہ اس سلسلے میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہو تاکہ مسلمانوں کی عظیم ہستیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاسکے ۔یہ پروگرام مجلس علمائے ہند کے ’یوٹیوب چینل ‘ پر نشر کیا گیا ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 7 =