۱ خرداد ۱۴۰۱ |۲۰ شوال ۱۴۴۳ | May 22, 2022
مولانا تطہیر زیدی

حوزہ/ جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر ماڈل ٹاون میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے لئے نظام زندگی تشکیل دیتا ہے اور قرآن کو کتاب ہدایت بنا کر بھیجا ہے تو ہم اپنی مرضی کیوں چلاتے ہیں؟!

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر ماڈل ٹاون میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے مولانا سید تطہیر حسین زیدی نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے لئے نظام زندگی تشکیل دیتا ہے اور قرآن کو کتاب ہدایت بنا کر بھیجا ہے تو ہم اپنی مرضی کیوں چلاتے ہیں؟ اگر ہم قرآن مجید کے مطابق زندگی گزاریں گے تو ہماری ہر سانس عبادت بن جائے گی ۔ عفو سے مراد یہ ہے کہ ضروریات زندگی ،آسائشات زندگی اور سہولیات زندگی کے علاوہ جو بچ جاتا ہے وہ زکوٰۃ اور خمس کی صورت میں ادا کردیں ۔اگر زکوٰۃ اور خمس کے بعد بھی بچ جائے تو امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اپنے دن کا آغاز صدقہ و خیرات سے کرو ۔ اگر تمہارے پاس کم بھی ہو تو صدقہ دینے سے شرماﺅ نہیں ۔اگر تم صدقہ سے ابتداء کرو گے تو ہم تمہیں نقصان پہنچانے ہی نہیں دیں گے ۔اگر ایک روپیہ بھی صدقہ ہو تو وہ صدقہ ستر بلاﺅں کو بھی دور کر دیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خداوند تعالیٰ نے اپنی مخلوق انسان کے لئے تعلیم و تربیت کا خود انتظام کیا ہے ۔ تعلیم و تربیت کے لئے آسمانی کتب اور تربیت کے لئے اپنے رسول بھیجے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے رسول کودو قسم کے علم دئیے ۔ ایک وحی کے ذریعے اور دوسرا علم لادونی ۔ اس لئے رسول اللہ مدینۃ العلم کہلاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر میں آپ کا خالق ہوں تو تم اپنی مرضی کیوں کرتے ہو ؟تم اپنی مرتضی سے اپنا کلچر کیوں بناتے ہو ؟ تم اپنی مرضی سے اپنی تعلیمات کیوں دیتے ہو ؟لیکن اگر تم ہماری تعلیم یعنی قرآن کے مطابق زندگی گزارو گے تو تمہاری ہر ہر سانس بھی عبادت بن جائے گی ۔

ان کا کہنا تھاکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن مجید نے ہمیں دنیا و آخرت دونوں کی تعلیم دی ہے کہ دنیا بھی مانگو تو اچھی مانگو اور آخرت بھی مانگو تو اچھی مانگو ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : تمہاری صرف نمازیں اور روزے ہی عبادت نہیں بلکہ اللہ کے امور میں غور و فکر کرنا بھی عبادت ہے ۔ اگر ہم اپنی زندگی میں غور وفکر شروع کر دیں تو ہماری زندگی میں انقلاب آجائے گا ۔ اس آیہ مجیدہ کے نظریہ کو امام رضا علیہ السلا م نے ان الفاظ میں بیان فرمایا :ہمارا ماننے والا وہ نہیں ہے جو دنیا کو دین کے لئے ترک کر دے یا دین کو دنیا کے لئے ترک کر دے ۔اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھانے والا ہوگا۔ یہاں سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اگر ہم دنیاوی زندگی کو درست نہیں کریں گے تو دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہوںگے ۔

مولانا تطہیر زیدی نے کہا ہمیں قرآن مجید ایسا پڑھنا چاہیے جیسے ہمارے ہادیان برحق پڑھتے تھے ۔ جہاں قرآن میں رحمت کی آیت آتی تھی تو امام جعفر صادق علیہ السلام دست دعا بلند کر دیتے تھے کہ اے پروردگار ! ان رحمتوں میں مجھے بھی شامل فرما اور جب وہ آیات آتی تھیں کہ جن میں جہنم کا ذکر ہوتا تو قرآن بند کرکے کہتے تھے کہ میرے اللہ! مجھے ان سزاﺅں اور عذابوں سے بچا لینا۔خداوند سبحان فرماتا ہے کہ :اے رسول تم سے یہ پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو فرماﺅ عفو(بچا ہوا) ۔ عفو سے مراد یہ ہے کہ ضروریات زندگی ،آسائشات زندگی اور سہولیات زندگی کے علاوہ جو بچ جاتا ہے وہ زکوٰة اور خمس کی صورت میں ادا کریں ۔اگر زکوٰۃ اور خمس کے بعد بھی بچ جائے تو امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اپنے دن کا آغاز صدقہ و خیرات سے کرو ۔ اگر تمہارے پاس کم بھی ہو تو شرماﺅ نہیں ۔اگر تم صدقہ سے ابتداء کرو گے تو ہم تمہیں نقصان پہنچانے ہی نہیں دیں گے ۔اگر ایک روپیہ بھی صدقہ ہو تو وہ صدقہ ستر بلاﺅں کو بھی دور کر دیتا ہے ۔معصوم فرماتے ہیں جب تم سوتے ہو تو ستر مصبیبتیں آتی ہیں کہ جنہیں تم صدقے کے ذریعے دور کر سکتے ہو۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 12 =