۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

حوزہ/ جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاﺅن کے خطبہ جمعہ میں کہا کہ اِس دور میں ناجائز صیہونی ریاست کی ظالم حکومت مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ڈہانے کے باوجود عرب ممالک میں نفوذ پیدا کر رہی ہے۔حالانکہ لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس سے لے کر بعد کے تمام اقدامات میں مسلم حکمران فلسطین کے حامی اور اسرائیل کے سخت مخالف تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے عرب ممالک میں اسرائیل کے اثرورسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس دور میں ناجائز صیہونی ریاست کی ظالم حکومت مظلوم فلسطینیوں پر ظلم ڈہانے کے باوجود عرب ممالک میں نفوذ پیدا کر رہی ہے۔حالانکہ لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس سے لے کر بعد کے تمام اقدامات میں مسلم حکمران فلسطین کے حامی اور اسرائیل کے سخت مخالف تھے۔

انہوں نے اس پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جبری طور پر شہریوں کو لاپتہ کردیا جاتا ہے۔ انہیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا۔ کئی کئی سال ان کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہیں۔ ان کے لواحقین سے ملوایا جاتا ہے اور نہی ہی ان کی زندگی اور صحت سے متعلق بتایا جاتا ہے۔ معصوم ؑ کا حکم ہے کہ واجبات کے ساتھ مستحبات ادا کرو تاکہ واجبات ترک نہ ہوں اور حرام سے بچنے کے ساتھ مکروہات سے بھی بچو تاکہ حرام کے نزدیک بھی نہ جا سکو۔نیز فرمایا خالق کی اطاعت اور مخلوق پر شفقت و مہربانی جنت کی ضامن ہے۔

جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاﺅن کے خطبہ جمعہ میں انہوں نے کہا کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اَن گِنت انعامات و نعمات پر متوجہ رہے تو نافرمانی سے بچ سکتا ہے۔قرآن مین ارشاد ہوا جب کشتی طوفان میں گِھر جاتی ہے تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں لیکن جونہی ساحلِ نجات پر پہنچتے ہیں دوبارہ نافرمانی شروع کر دیتے ہیں گویا اللہ کو مشکل وقت میں پکارا ہی نہ تھا۔انسان غور کرے کہ زمین کی گہرایﺅں سے آسمانوں کی بلندیوں تک اسے اللہ کی عطا کردہ طاقتوں سے ہر چیز پر غلبہ حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کرتے ہوئے شیطان نے مٹی سے بنے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور مردود ہو گیا۔اللہ نے شیطان کو انسانوں کی آزمائش کے لئے اجازت دی لیکن اس پر واضح کر دیاتھا کہ اللہ کے مخلص بندوں پر اُس کا بس نہیں چلے گا۔انسانوں کو شیطان سے بچنے کی مسلسل تاکید کی گئی کیونکہ اس نے حضرت آدم ؑ کو بھی جنت سے نکلوایا۔شیطان ہر طرح سے انسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے جس سے انسان کو ہوشیار رہنا چاہئے۔

حافظ ریاض نجفی نے کہا اللہ تعالیٰ نے حق و انصاف اور عدالت کے قیام کے لئے انبیاءؑ کے ساتھ کتابوں کو بھی نازل فرمایاتاکہ سب کے ساتھ انصاف کا برتاﺅ کیا جائے، گھر والوں حتیٰ کہ اپنے ساتھ بھی انصاف کیا جائے یعنی ایسا نہ ہو کہ غلط کاریوں کی بنا پر سزا بھگتنا پڑے۔اعمال کی جزا و سزا قیامت کے دن ملے گی لیکن دنیا میں بھی گناہوں کی سزا ملتی ہے۔انفرادی یا اجتماعی مصیبتیں انسان کو غفلت سے بیدار کرنے اور اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے آتی ہیں۔کرونا ایک عالمگیر مصیبت ہے۔

انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے انبیاؑءکو معجزات دیئے تاکہ ہٹ دھرم لوگ ایمان لائیں لیکن پھر بھی کافر ان معجزات کو جادو قرار دے کر حق کا انکار کرتے رہے۔معراج کا معجزہ نہایت محیّر العقول تھا ۔شَقّ القمر بھی ایسے ہی تھا جو ہندوستان، سری لنکا میں دیکھ کر بادشاہ مسلمان ہو گیا تھا ۔پہاڑ سے جناب صالح علیہ السلام کی ناقہ کا برامد ہونا بھی ایسا ہی معجزہ تھا لیکن کافر نہ مانے۔ سورہ مبارکہ بنی اسرائیل میں آں حضرت کے ایک خواب اور شجرہءملعونہ کا ذکر ہے جسے بعض مفسرین نے معراج سے تعبیر کیا ،بعض نے صلحِ حدیبیہ سے لیکن کچھ مفسرین نے اس خواب کی تفصیل بیان کی کہ آپ نے اپنے منبر پر بندر ناچتے دیکھے جس کے بعد آپ کو مسکراتے نہ دیکھا گیا۔اس سے مراد بنواُمیّہ کی حکومت تھی جنہوں نے مال اکٹھا کرنے ، اقرباءپروری اور دیگر سنگین جرائم کے علاوہ حضور کے اہلبیتؑ پر مظالم کے پہاڑ توڑے ۔مکہ و مدینہ پر حملے کئے۔ فخرالدین رازی اور بعض دیگرمفسرین کے مطابق بنو امیہ شجرہءملعونہ ہیں جنہوں نے اسلام ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔یہاں تک کہ جس شخص کا نام بھی رسول اکرم کے نام پر تھااسے یا تو قتل کردیا جاتا یا اسے اقتصادی طور پر نادار کرنے کے لئے بیت المال سے اس کا نام ختم کر دیا جاتا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .