۴ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 23, 2024
علامہ سید جواد نقوی

حوزہ/ خدا کرے کہ 1940 کی طرح ایک دن ایسا آئے کہ تمام پاکستان کے مسالک، تمام علماء،زعماء،دانشور و دانشمند جمع ہوں اور اسی یادگار پاکستان میں اجتماع کرکے قرارداد تشکیل امت محمدی منظور کریں اور پھر اس قرارداد کے مطابق امت تشکیل دیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کے زیر انتظام جامعہ عروۃ الوثقی میں پیغام پاکستان کانفرنس کا انعقاد ہوا جس کی صدارت تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کی۔

کانفرنس میں علامہ سید عبد الخبیر آزاد، امیر العظیم، ڈاکٹر مفتی راغب نعیمی، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، پیر خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، پیر سید ھارون علی گیلانی، پیر غلام رسول اویسی، پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، علامہ میر آصف اکبر، مفتی زبیر احمد فہیم، ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا، علامہ محمد عاصم مخدوم، ڈاکٹر سید محمود غزنوی، علامہ اصغر عارف چشتی، چیئرمین سنی رابطہ فورم، مفتی سید عاشق حسین، پیر وقاص منور مجددی، ڈاکٹر سید ایاز حسین شاہ و دیگر مکاتب فکر سے اکابرین شریک ہوئے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریکِ بیداری امتِ مصطفیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھاکہ پاکستان اسلام کے نام پر آزاد ہوا لیکن افسوس کہ ہم نہ اسلام کا نظام لا سکے اور نہ ہی مغربی نظام کی غلامی سے آزاد ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی قوم کیلئے جو قرآن اور اہلبیت (ع) جیسا خزانہ رکھتی ہو، مغربی نظام کی غلامی اور پیروی باعثِ ننگ ہے۔ مغربی جمہوری نظام کی پیروی کے باعث پاکستان روزبروز زوال کا شکار ہو رہا ہے اور یہ زوال صرف حکومتی شعبے میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہے۔ سیاسی اور انتظامی زوال کے علاوہ اخلاقی اور معاشرتی زوال بہت تکلیف دہ ہے اور آئے دن اسیے واقعات ہوتے ہیں جن کو سن کر انسان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا کہ یومِ پاکستان ایک فرصت ہے کہ ہم اپنی منتخب کردہ راہوں اور منتخب کردہ نظاموں پر نظرِثانی کریں اور آزاد قوم کی حیثیت سے وہ راہیں چنیں جو ہمیں عزت اور شرف سے ہمکنار کر سکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 23 مارچ قومی ارادوں کی فتح، تشکیل، مضبوطی و استحکام کا دن کہ کس طرح قومی ارادے غلامی و ستم پر غلبہ پاتے ہیں. یہ دن صرف جھنڈے، پریڈ اور رسموں کا دن نہیں، وہ آداب جو آزاد قوموں کے ہیں وہ ہمیں حاصل کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلامی کا نظام قوموں کیلئے بدترین نجاست ہے۔ غلامی کا تعلیمی نظام، اسکا کلچر، اسکی تہذیب، اسکی فرہنگ، اسکی زبان، اسکا قانون جس کو ہم فخریہ طور پر اپنائے بیٹھے ہیں ہماری سب سے بڑی نادانی ہے۔

23 مارچ کی صبح جامعہ عروۃ الوثقی میں پریڈ، سکاؤٹ سلامی اور پرچم کشائی کی پروقار تقریب بھی منعقد ہوئی۔ مجمع المدارس کے زیر انتظام 20 تا 27 مارچ ہفتہ پاکستان کے تحت اسلام آباد، گلگت، پشاور، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر شہروں میں بھی کانفرنسز منعقد ہونگی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .