۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
آل انڈیا كونسل آف شیعہ علماء كابینہ

حوزہ/ جلسہ میں علمائے کرام کا کہنا تھا کہ علما حاکم بن كر نہیں بلكہ خادم بن كر قوم کی خدمت کریں اور ٹكنالوجی سے استفادہ كرتے ہوئے قوم و ملت كو آگے بڑھائیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،آل انڈیا كونسل آف شیعہ علماء كابینہ کی آن لائن مٹنگ ہوئی جس كی سرپرستی لکھنؤ سے آیت اللہ سید حمیدالحسن صاحب اور ممبئی سے بزرگ عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید علی مہدی تقوی اور آسٹریلیا سے مولانا سیدابوالقاسم رضوی نے فرمائی۔

صدر و موسس حجۃالاسلام مولانا سيد كلب عباس كی اپیل پر دہلی، لكھنؤ،اله آباد، کانپور فتح پور مظفر نگر ممبئی، آندھراپردیس ،تمل ناڈو، بنگال، ایران ،عراق اورآسٹریلیا سے تقریبا٢٩ علمائے كرام نے شركت كی اور اپنے اپنے خیالات کااظہار فرمایا۔

سبھی نے مل جل كر خدمت كرنے اور ساتھ دینے كا وعده كیا اور حاكم بن كر نہیں بلكہ خادم بن كر كام كرنے اور ٹكنالوجی سے استفاده كرتے ہوئے قوم و ملت كو آگے بڑھانے اور ان كے مسائل کو حل کرنے كے لئے گفتگو و تبادلہ خیال کیا ۔اور بہت جلد ایک آف لاین جلسہ كی تجویز بھی رکھی گئی جس پر انشإاللہ عمل ہوگا۔نظامت كے فرائض کو مولانا كرار خان غدیری صاحب ممبئی نے انجام دیا۔

آل انڈیا كونسل آف شیعہ علماء كے سرپرست آیت اللہ سید حمیدالحسن صاحب قبلہ نے كابینہ كی میٹنگ میں تمام علماء كو مبارک باد پیش كی اور دعائیں دیں اور ممبئی سے حجۃ الاسلام مولانا سید علی مہدی تقوی نے علماء سے متحد ہوكر خدمت دین كرنے اور تمام شركاء كی حوصلہ افزائی كرتے ہوئے آل انڈیا كونسل آف شیعہ علماء كی سرپرستی كو قبول فرمایا اور حجۃ الاسلام مولاناسیدابوالقاسم رضوی نے بھی آسٹریلیا سے سرپرستی کو قبول فرمایا اور اس میٹنگ كو بہترین میٹنگ قراردیا۔

منعقدہ سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا كونسل آف شیعہ علماء مولانا عابد علی کرناٹک نے کہا کہ آپسی اتحاد سے بہت كچھ كام كرسكنے اور قوم میں حاكم نہیں خادم بن كے كام كرنے كے کی تاکید کی۔

آل انڈیا كونسل آف شیعہ علماء كے نائب صدر مولانا سید ذیشان حیدر زیدی ممبئی نے علماء كے ساتھ شانہ بہ شانہ كام كرنے كا وعده كیا۔

آخر میں آل انڈیا كونسل شیعہ علماء كے موسس و صدر حجۃ الاسلام مولانا سید كلب عباس رضوی صاحب قبله نے فرداً فرداً سب كا شكریہ ادا كیا اور بہت جلد دوسری میٹنگ اور جلسہ كی تیاری كے لئے بھی وعدہ کیا۔ كابینہ میں ممبران اور مجلس مشاورات میں ملک و بیرون ملک سے علمائے كرام ۔شامل ہوۓ۔ معلوم رہے كه یہ كابینہ و مجلس مشاورات ۵؍سال كے لئے تشكیل دی گئی ہے ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 11 =