۱۹ آذر ۱۴۰۱ |۱۶ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 10, 2022
افغانستان میں درسگاہ پر خودکش حملہ، ۳۲ طلباء شہید و ۴۰ زخمی

حوزہ/ افغانستان میں طالبان کی حکومت پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کے باوجود طالبان کا موقف ہے کہ اگر ان کی حکومت کا بائیکاٹ جاری رہا تو طالبان حکومت اور عالمی برادری کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کو افغانستان پر قابض ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اب تک کسی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔

عالمی برادری کا کہنا ہے کہ جب تک طالبان خواتین کے حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام نہیں کرتے اور ایک جامع حکومت نہیں بناتے، ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اتوار کو طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے عالمی برادری سے طالبان حکومت سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر پابندیاں اور بائیکاٹ جاری رہے تو طالبان اور عالمی برادری کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ جائے گی۔

طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایک قانونی حکومت قائم کی ہے جو بین الاقوامی معیارات پر پورای اترتی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اقلیتوں پر  مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل خودکش دھماکا افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ہزارہ اکثریتی علاقے دشت برچی میں تعلیمی ادارے کے باہر ہوا جہاں داخلہ ٹیسٹ جاری تھے اور وہاں 600 سے زائد طلبا موجود تھے، اور  گزشتہ برس طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے کچھ روز قبل بھی اسی علاقے کے ایک اسکول کے قریب 3 بم دھماکوں میں 85 افراد جاں بحق اور 300 زخمی ہو گئے تھے اور اس کے ایک سال بعد دشت برچی میں ہی ایک تعلیمی مرکز میں خود کش حملے میں ۳۲طلباء جاں بحق ہوگئے تھے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 8 =