۶ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 25, 2024
یوسف الحاضری سخنگوی سابق وزارت بهداشت یمن

حوزہ/ یمنی وزارت صحت کے سابق ترجمان نے کہا کہ ہم تہران اور ریاض کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں؛ اس سلسلے میں سعودی نظام کو سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں اور سعودیوں کو اس معاہدے کو صرف ایک سیاسی عمل کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیئے۔

حوزه نیوز ایجنسی نے رمضان المبارک کی مناسبت سے یمنی وزارت صحت کے سابق ترجمان ڈاکٹر یوسف الحاضری سے خصوصی گفتگو کی ہے، جس کا تفصیلی متن درج ذیل ہے:

حوزه: کیا ہم رمضان المبارک کو اتحاد، رواداری، اختلافات پر قابو پانے، ملت کی فلاح و بہبود اور اس کے اسلامی اتحاد کیلئے کوشش کرنے کا موقع قرار دے سکتے ہیں؟

رمضان المبارک کا عظیم مہینہ، قرآن کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ہی امت اسلامیہ کے درمیان موجود مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے، ورنہ قصور وار ہم ہی ہوں گے اور گناہ بھی ہماری گردن پر ہی آئے گا۔ جو بھی اختلافات کو بالائے طاق رکھنے کیلئے کوشش کرتا ہے، قرآن مجید کی نگاہ سے قابلِ تعریف ہے۔

حوزہ: رمضان المبارک کے عظیم مہینے کو ملت اسلامیہ کے خلاف چیلنجوں اور سازشوں سے نمٹنے، اختلافات کو ترک کرنے اور باہمی گفتگو کیلئے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟

ہمیں جب بھی معلوم ہو کہ ہمارا دشمن کون ہے، ہم اختلافات کو پس پشت ڈال کر ان کی سازشوں کا بھرپور مقابلہ کرتے ہیں۔ قرآن مجید نے یہودیوں کو ہمارا دشمن قرار دیا ہے، کیونکہ یہودیوں ہی نے دین اسلام کے خلاف طرح طرح کے اقدامات کئے ہیں۔

حوزہ: ہم قدس اور فلسطین کی آزادی کیلئے فلسطینی عوامی مزاحمت کے ساتھ کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں اور ان کی حمایت کا طریقۂ کار کیا ہو سکتا ہے؟

ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کو قبلہء اول کے تعلق سے پورا کرنا چاہیئے، جس کی زندہ مثال، امام خمینی رحمۃ اللّٰہ علیہ کے فرمان کے تحت رمضان المبارک کا آخری جمعہ (جمعۃ الوداع) اور یوم القدس ہے۔ ہمیں اس خطے کی آزادی کیلئے قرآن کی طرف لوٹنا چاہیئے۔ اگر ہم نے فلسطین کی آزادی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا تو ہم غدار کہلائیں گے۔

حوزہ: آپ امت مسلمہ اور مقدسات اسلامیہ کے خلاف دشمن کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور اتحاد و وحدت جو کہ خیانت ہے، کے بارے میں کیا کہیں گے؟

دشمنوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا، دین اسلام اور دنیائے عرب کے ساتھ غداری ہے اور دوسرے ممالک صہیونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے ممالک کو غدار سمجھتے ہیں اور یہ پروگرام ناکام ہو کر رہے گا۔

حوزہ: اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا حالیہ معاہدہ اور خطے پر اس کے اثرات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ہم تہران اور ریاض کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں؛ اس سلسلے میں سعودی نظام کو سنجیدگی سے اقدامات اٹھانے چاہئیں اور سعودیوں کو اس معاہدے کو صرف ایک سیاسی عمل کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیئے۔ ہم دیگر ممالک کو بھی اس سلسلے میں اقدام اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں، یقیناً یہ معاہدہ خطے کیلئے درست اور مثبت ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .