۶ خرداد ۱۴۰۳ |۱۸ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 26, 2024
عطر قرآن

حوزہ| مسلمانوں کا دین کے دشمنوں کے ساتھ دوستی ختم کرنا، ناگواریوں کے ختم ہونے کا باعث۔ کفر کے محاذ کا ایمانی معاشرے کے سامنے کمزور ہونا، اگر مومنین احکام الہی کے مطابق عمل کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحـــمن الرحــــیم
إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ‎﴿آل عمران، 120﴾

ترجمہ: جب تمہیں کوئی بھلائی چھو بھی جائے تو ان کو برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر سے کام کرو۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو ان کی ترکیبیں اور چالیں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ بے شک جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں خدا اس کا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے.

تفســــــــیر قــــرآن:

1️⃣ مومنین کی تھوڑی سی خیر و خوشی سے بھی دشمنان دین کا ناخوش ہونا.
2️⃣ مومنین کا صبر اور پرہیزگاری، دشمنوں کے دھوکے اور سازشوں سے امان میں رہنے کا باعث.
3️⃣ مسلمانوں کا دین کے دشمنوں کے ساتھ دوستی ختم کرنا، ناگواریوں کے ختم ہونے کا باعث.
4️⃣ کفر کے محاذ کا ایمانی معاشرے کے سامنے کمزور ہونا، اگر مومنین احکام الہی کے مطابق عمل کریں.
5️⃣ مسلمان ہمیشہ دشمنوں کے دھوکے اور سازش کے خطرے سے دوچار ہیں.
6️⃣ دشمان دین کی سازش کے مقابلے تقویٰ اور مقاومت ضروری ہے.
7️⃣ انسان کا کردار اور اس کے افعال، اللہ کے سامنے ہیں.
•┈┈•┈┈•⊰✿✿⊱•┈┈•┈┈•
تفسیر راھنما، سورہ آل عمران

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .