۲۴ تیر ۱۴۰۳ |۷ محرم ۱۴۴۶ | Jul 14, 2024
مولانا سید کلب جواد نقوی

حوزہ/ مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری اور لکھنؤ ہندوستان کے امام جمعہ مولانا سید کلب جواد نقوی نے حرم مطہر امام رضا علیہ السلام دو روزہ مجلسِ عزاء سے خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غیر ایرانی زائرین کے ادارے کی دعوت پر مولانا سید کلب جواد نقوی نے رواق غدیر حرم مطہر امام رضا علیہ السلام میں دو روزہ مجالس سے خطاب کیا۔

زیارت کے ساتھ معرفت بھی ضروری ہے، مولانا کلب جواد نقوی

مجالس میں کثیر تعداد میں اردو زبان زائرین کے علاؤہ علمائے کرام و طلاب عظام نے شرکت کی۔

مولانا نے آداب زیارت اور معرفت امام رضا علیہ السلام پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان صرف اپنے یہاں آنے کے بعد اس کوشش میں نہ رہے کہ ہم کسی طریقہ سے ضریح چوم لیں اور ہماری زیارت ہو جائے۔ اس کو زیارت اور معرفت نہیں کہتے ہیں، بلکہ ہر وہ انسان جو زیارت امام رضا علیہ السلام کے لئے یہاں پر آئے وہ اپنے آپ کو صرف ضریح سے قریب نہ کرے، بلکہ معرفت کے ساتھ اپنے آپ کو امام رضا علیہ السلام سے قریب کرے۔

زیارت کے ساتھ معرفت بھی ضروری ہے، مولانا کلب جواد نقوی

انہوں نے کہا کہ صرف مادی طور آمادہ ہوکر زیارت کے لئے نہ آئیں، بلکہ معنوی طور آمادہ ہو کر زیارت کریں، تاکہ ہمیں خود محسوس ہو سکے کہ ہم کس ذات سے ملاقات کرنے کے لئے آئیں ہیں۔

مولانا سید کلب جواد نقوی نے امام رضا علیہ السّلام کی زیارت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے کردار اور عمل سے ظاہر ہو کہ ہم زائر امام رضا علیہ السلام ہیں ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ جب ہم اس عالی مرتبت مقام پر آئے ہیں تو جب ہم یہاں سے واپس جائیں تو ہمیں خود اس بات کا احساس ہو کہ ہم امام رضا علیہ السلام کے یہاں کچھ واپس لے کے جا رہے ہیں جس کو ہمیں اپنی روز مرہ کی زندگی میں عملی جامہ پہنانا ہے۔

زیارت کے ساتھ معرفت بھی ضروری ہے، مولانا کلب جواد نقوی

مولانا نے دوران مجلس اس چیز کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ہم کس طریقے سے اپنے آپ کو اللہ اور اہل بیت علیہم السّلام سے قریب کریں؟ اس کا راستہ کیا ہے؟ اس کا طریقہ کیا ہے؟ کونسا طریقہ اور راستہ ہم اختیار کریں کہ ہمارے قلوب معرفت خداوند اور معرفت اہل بیت علیہم السلام سے پر ہو جائیں۔

مجلس میں زائرین کے علاؤہ مسؤلین اور خادمان حرم مطہر امام رضا علیہ السلام بھی موجود تھے۔

زیارت کے ساتھ معرفت بھی ضروری ہے، مولانا کلب جواد نقوی

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .