حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ اعرافی نے عتبہ علویہ کے متولی سید عیسیٰ خرسان سے ملاقات کے دوران نجف اشرف میں رہبرِ معظم انقلاب کی تشییع جنازہ کی باوقار تقریب کے انعقاد اور اس سلسلے میں عتبہ علویہ کے بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بالخصوص جنازے میں حوزۂ نجف کے علماء، فضلاء اور طلبہ کی بامعنی اور مؤثر شرکت کو بہترین تدبیر قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ عراق میں رہبرِ معظم انقلاب کی تشییع جنازہ کی تقریب ایران و عراق کی دو قوموں اور قم و نجف کے دو عظیم علمی مراکز کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی۔ انہوں نے اسے محاذ مقاومت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے ایک نئے مرحلے کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عظیم اجتماع نے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخی تشییع جنازہ ایران اور عراق کے عوام کے درمیان محبت، یکجہتی اور عراق کے عوام کی جانب سے فقاہت و مرجعیت کے احترام کا واضح ثبوت تھا، جس نے امتِ مسلمہ کے دشمنوں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ نے دونوں اداروں کے درمیان علمی اور ثقافتی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے نجف اشرف کی تاریخ، وہاں کے اکابر علماء اور دینی و مذہبی ورثے کو محفوظ کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے حوزۂ نجف کی عظیم شخصیات پر ایک جامع اور مستند علمی انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
اس موقع پر عتبہ علویہ کے متولی سید عیسیٰ خرسان نے کہا کہ امامِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ایؒ کی شہادت پر اہلِ عراق بھی غمزدہ ہیں اور اس عظیم سانحے کو اپنا ذاتی غم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشییع جنازہ کے سلسلے میں عتبہ علویہ کی تمام خدمات ان کا دینی اور انسانی فریضہ تھیں۔
انہوں نے حوزۂ علمیہ قم اور عتبہ علویہ کے درمیان تعلقات اور تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ملاقات کے اختتام پر آیت اللہ اعرافی نے عتبہ علویہ کی انتظامیہ اور عملے کی خدمات کے اعتراف میں سید عیسیٰ خرسان کو یادگاری لوحِ سپاس پیش کی۔









آپ کا تبصرہ