پیر 3 اگست 2026 - 01:00
اربعینِ حسینی تشیع کی شناخت اور امتِ مسلمہ کی بیداری کا عالمی مظہر ہے، مولانا سید تقی رضا عابدی

حوزہ/ مجلس علمائے جنوبی ہند کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید تقی رضا عابدی (تقی آغا) نے اربعین حسینی کے موقع پر نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب پیدل سفر کے دوران حوزہ نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ اربعین حضرت امام حسینؑ کی حقانیت، مکتبِ اہل بیتؑ کی عالمگیر حیات اور اسلام کی بقا کا زندہ معجزہ ہے، جس نے تشیع کی شناخت کو عالمی سطح پر مضبوط کیا اور دنیا کو حق، عدل اور ایثار کا ابدی پیغام دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس علمائے جنوبی ہند کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید تقی رضا عابدی (تقی آغا) نے اربعین حسینی کے موقع پر نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب پیدل سفر کے دوران حوزہ نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربعین حسینی محض ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی حقانیت، اسلام کی حیاتِ نو اور مکتبِ اہل بیتؑ کی عالمگیر تاثیر کا زندہ معجزہ ہے، جس کا مشاہدہ آج پوری دنیا کر رہی ہے۔

انہوں نے اپنے کلام کا آغاز ان اشعار سے کیا:

"چڑھ کے نیزے پہ دو عالم کو ہلا دیتی ہے

کربلا موت کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے باوفا 72 اصحاب کے اربعین کی یاد منا رہی ہے۔ چودہ سو برس سے ہر سال اربعین منایا جا رہا ہے، لیکن اس کی تازگی اور اثرانگیزی ایسی ہے کہ محسوس ہوتا ہے جیسے واقعۂ کربلا ابھی اسی سال پیش آیا ہو۔ یہ حضرت امام حسینؑ کی شہادت کا زندہ معجزہ اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کا روشن مظہر ہے۔

مولانا سید تقی رضا عابدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا کو زندہ رکھنے میں ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کی بے مثال قربانیاں، تعلیمات اور مسلسل جدوجہد کا بنیادی کردار ہے۔ انہی کی کوششوں کے نتیجے میں ہر سال غمِ حسینؑ تازہ ہوتا ہے، کروڑوں دل اس مصیبت پر غمگین ہوتے ہیں اور لاکھوں آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں حکومتیں عظیم شخصیات کو مختلف اوقات میں سرکاری اعزاز پیش کرتی ہیں، لیکن حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر خود اللہ تعالیٰ نے چالیس دن تک اس عظیم سانحے کی عظمت کو نمایاں فرمایا۔ روایات میں مذکور ہے کہ عاشورا کے بعد چالیس دن تک آسمان نے گریہ کیا، یہاں تک کہ بعض تاریخی روایات میں آسمان کے سرخ ہونے اور خون جیسی بارش کے آثار کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس طرح اربعین درحقیقت سب سے پہلے آسمان کی جانب سے منایا گیا، جس کی یاد آج بھی اہل ایمان کے دلوں کو رنجیدہ اور اشکبار کر دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربعین صرف اہلِ زمین ہی نہیں بلکہ روایات کے مطابق اہلِ آسمان بھی اس عظیم مصیبت پر سوگ مناتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر سال غمِ حسینؑ پہلے سے زیادہ تازہ محسوس ہوتا ہے۔

مجلس علمائے جنوبی ہند کے سربراہ نے نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ تک ہونے والی عظیم پیدل زیارت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج اربعین کی یہ عالمی تحریک تشیع کی شناخت، امتِ مسلمہ کی طاقت اور دنیا کے سامنے حق، عدل، ایثار اور انسانیت کا عظیم پیغام بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی زائر اس مقدس سرزمین پر موجود ہو، اسے چاہیے کہ خواہ کچھ دیر کیلئے ہی سہی، اس عظیم پیدل سفر میں ضرور شریک ہو، کیونکہ یہی ہماری شناخت، ہماری قوت اور دنیا کیلئے ہمارا عالمی پیغام ہے۔

مولانا سید تقی رضا عابدی نے مزید کہا کہ اگر اربعین کی یہ عظیم تحریک نہ ہوتی تو عراق کی دینی شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔ ان کے بقول صدام حکومت کے خاتمے کے بعد بیرونی طاقتوں نے عراق میں اپنے مذہبی و ثقافتی اثرات کو وسعت دینے کی کوشش کی، لیکن اربعین کی روز افزوں تحریک نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا اور عراق کو مکتبِ اہل بیتؑ کا مضبوط مرکز بنائے رکھا۔

انہوں نے کہا کہ آج اربعین نے نہ صرف عراق بلکہ پوری دنیا میں اسلام اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے پیغام کو نئی زندگی بخشی ہے۔ لاکھوں زائرین کا نجف سے کربلا تک پیدل سفر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قربانی آج بھی انسانیت کیلئے ہدایت، بیداری اور استقامت کا سرچشمہ ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اربعین حسینی عالم اسلام کے اتحاد، بیداری اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی سب سے بڑی علامت بن چکا ہے، اور یہی تحریک آئندہ بھی امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو دنیا بھر میں زندہ رکھے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha