حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خمینیؒ نے حوزات علمیہ کو اسلام کی حفاظت کا مضبوط قلعہ قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ اگر فقہ، دینی علوم اور علمائے دین کی تربیت کا سلسلہ کمزور پڑ گیا تو آنے والی نسلیں اسلام کی تعلیمات سے محروم ہو سکتی ہیں۔
امام خمینیؒ نے اپنے اہم خطاب میں حوزات علمیہ کی مضبوطی اور فقہ کے روایتی طریقے کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلام آج جس شکل میں ہم تک پہنچا ہے، اس میں فقہائے اسلام کی صدیوں کی محنت کا بنیادی کردار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قم، مشہد، تبریز اور دیگر شہروں کے دینی مراکز کو مضبوط نہ کیا گیا اور ایسے علما و فقہا تیار نہ کیے گئے جو اسلامی علوم کو آگے منتقل کریں تو ایک وقت ایسا آ سکتا ہے کہ اسلام کا نام بھی باقی نہ رہے۔
امام خمینیؒ نے فرمایا کہ اگر صدرِ اسلام سے آج تک فقہائے اسلام موجود نہ ہوتے تو آج ہمیں اسلام کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوتا۔ فقہا نے اسلام کو سمجھا، فقہ کی تعلیم دی، کتابیں لکھیں اور اپنی محنت سے یہ علمی ورثہ اگلی نسلوں تک پہنچایا۔ اس لیے حوزات علمیہ کو مضبوط کرنا ایک دینی اور شرعی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوزہ ہائے علمیہ میں ایسے افراد کا ہونا ضروری ہے جو سماجی اور سیاسی امور میں بھی کردار ادا کریں، لیکن اس کے ساتھ فقہ اور دینی علوم سے غفلت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر فقاہت کو نظر انداز کر دیا گیا تو اسلام کی تعلیمات بھی رفتہ رفتہ لوگوں کے ذہن سے محو ہو سکتی ہیں۔
امام خمینیؒ نے مزید تاکید کی کہ حوزات علمیہ کو ہر روز پہلے سے زیادہ مضبوط ہونا چاہیے۔ فقہ، دینی کتابوں، علمی بحث و تحقیق اور اسلامی علوم کے ان شعبوں کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ پسِ پشت چلے گئے ہیں۔
انہوں نے فقہ اور دینی علوم کو اسلام کا مضبوط قلعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اسلام کو اسی طرح اگلی نسل تک پہنچائیں جس طرح وہ ہم تک پہنچا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسے اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کرتی رہیں اور بالآخر اسے اس کے حقیقی وارث امام مہدیؑ کے سپرد کریں۔
ماخذ: صحیفہ امام خمینیؒ، جلد 15، صفحہ 219









آپ کا تبصرہ