اتوار 30 اگست 2026 - 15:47
زمانہ طالب علمی کے نشیب و فراز میں مایوسی سے بچنے کے لیے علماء کی عظیم ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ہے: آیت اللہ شب زندہ دار

حوزہ/ حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کے سیکریٹری آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے کہا ہے کہ علماء کی عظیم مقام اور اہم ذمہ داریوں پر توجہ رکھنے سے طلبہ اپنی تعلیمی و تبلیغی زندگی کے نشیب و فراز میں مایوسی اور ناامیدی کا شکار نہیں ہوتے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کی سپریم کونسل کے سیکریٹری آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے کہا ہے کہ علماء کی عظیم مقام اور اہم ذمہ داریوں پر توجہ رکھنے سے طلبہ اپنی تعلیمی و تبلیغی زندگی کے نشیب و فراز میں مایوسی اور ناامیدی کا شکار نہیں ہوتے۔

آیت اللہ محمد مہدی شب زندہ دار نے حوزہ علمیہ صوبہ کرمان کے ذمہ داران سے ملاقات میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت بڑی نعمت عطا کی ہے کہ ہمیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے دین کے خادم بننے کا موقع ملا

انہوں نے کہا کہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام مہدی علیہ السلام تمام عالم اور بالخصوص علما و طلبہ کے حالات سے باخبر ہیں، اس لیے ہمیں اپنے کردار اور اعمال میں اس عظیم نعمت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔

آیت اللہ شب زندہ دار نے رضائے الٰہی کو ہمیشہ اپنی ترجیح قرار دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دینی مقاصد اور شریعت کے اعلیٰ اہداف کے حصول کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے، وہ احسان کے مصداق میں شامل ہے؛ جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: «هَل جَزاءُ الإحسانِ إلّا الإحسان»۔

انہوں نے امام جواد علیہ السلام کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اہل بیت علیہم السلام سے حقیقی وابستگی کا نتیجہ قیامت میں ان کی معیت کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو شخص علوم اہل بیت علیہم السلام، ان کے اہداف اور دینی تعلیمات کی خدمت میں زندگی گزارے، اس کے عمل کی قدر و قیمت کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ علماء کے عظیم مقام اور ان کی اہمیت کو سمجھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان طالب علمی کی زندگی میں پیش آنے والے نشیب و فراز کے دوران مایوسی اور ناامیدی کا شکار نہیں ہوتا۔

آیت اللہ شب زندہ دار نے امام زمانہ علیہ السلام کی معروف دعا «و تفضل علی علمائنا بالزهد و النصیحه» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ زہد اور خیرخواہی ایک عالم کی کامیابی کے بنیادی ارکان ہیں۔ عالم دین دنیا سے بے رغبتی اور لوگوں کے ساتھ دلسوزی کے بغیر اپنی دینی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتا۔

انہوں نے زہد کو دنیا سے غیر ضروری وابستگی سے دوری اور نصیحت کو لوگوں کے لیے خیرخواہی و دلسوزی قرار دیا اور شہید رہبر انقلاب کی زندگی میں زہد کی بعض مثالیں بیان کرتے ہوئے طلبہ اور علما کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کامیابی کے لیے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha