حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ جواد مروی نے قم میں مدرسہ آیت اللہ العظمیٰ گلپائیگانی کی مسجد میں حوزہ علمیہ کے طلبہ اور فاضل علماء کو درسِ خارجِ فقہ دیتے ہوئے نظامِ ولایتِ فقیہ کی عظیم قیادت، اتحاد و یکجہتی کے تحفظ کی ضرورت، ولایتِ فقیہ کا علمی پیش رفت اور جہادی مزاحمت کا محور ہونا اور میدانی ذمہ داریوں کے ساتھ علمی ذمہ داریوں پر زور دیا۔
آیت الله جواد مروی کے درس خارج کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے:
انہوں نے کہا کہ طویل تعطیلات کے بعد فقہ و اصول کے مباحث کے آغاز میں پہلے چار نکات کی طرف اشارہ کروں گا، پھر اصل بحث میں داخل ہوں گے۔
پہلا نکتہ: نظامِ ولایتِ فقیہ کی قیادت کی عظمت
قائدِ امت کی شہادت ایک ایسا غم ہے جو اب بھی مؤمن عوام کے سینوں کو جلا رہا ہے اور ایک ایسی آگ ہے جو دلوں میں شعلہ ور ہے۔ ایک طرف ہمیں اس شہادت کے اثرات پر اپنی جگہ تفصیل سے گفتگو کرنی چاہیے اور دوسری طرف اس شہید قائد کے مکتب کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔ یہ وہ مکتب ہے جس کی بنیاد استکبار دشمنی، آزادی و خودمختاری کی طلب، مقاومت، عزت اور اسلامی امت اور ایران کی سربلندی پر ہے۔ اس مکتب کی مضبوط قیادت و مدیریت ایک قیمتی امانت ہے، جس کی ہمیں اپنی جان کی طرح حفاظت کرنی چاہیے۔
آپ عملی طور پر ولایتِ فقیہ کی قیادت اور ہمارے شہید قائد کی مدیریت کے ایک نتیجے کو دیکھ رہے ہیں۔ امریکی ظالم حکومت نے ایرانی عوام کے خلاف براہِ راست مقابلہ شروع کیا۔ وہ امریکہ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دنیا کی فوجی طاقتوں میں اس کی فوج کا شمار سرفہرست میں ہوتا ہے؛ کہا جاتا تھا کہ وہ دنیا کے ہر خطے میں اعلیٰ ترین سطح پر فوجی کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا تھا کہ لاجسٹک اعتبار سے امریکی فوج کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں فوج، ایندھن، گولہ بارود اور فوجی سازو سامان منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کئی دہائیوں کے دوران خطے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اطراف میں بڑے بڑے فوجی اڈے قائم کیے۔ دوسری جانب صیہونی حکومت کی سفاک فوج نے اپنی تمام تر طاقت میدان میں جھونک دی، خطے کی تمام کٹھ پتلی حکومتوں نے اپنی پوری توانائی استعمال کی اور نیٹو نے بھی براہِ راست یا بالواسطہ اپنی تمام صلاحیتیں امریکہ کے اختیار میں دے دیں۔ سب نے مل کر حملہ شروع کیا اور ان سب کے واضح اعلان کے مطابق ان کا ابتدائی ہدف اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کو گرانا تھا۔

یہاں نظامِ ولایتِ فقیہ پر مبنی نظام کی عظمت اور ہمارے شہید قائد کی مدیریت کی عظمت کو دیکھیں!
عراقی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے خود مجھے بتایا کہ جب وزارتِ عظمیٰ کے معاملے پر یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ عراقی پارلیمنٹ کو کیا کرنا چاہیے تو امریکیوں نے پیغام بھیجا کہ ایک ہفتہ انتظار کریں؛ ایک ہفتے بعد آپ دیکھیں گے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام ختم ہو جائے گا، لہٰذا آپ کو ایران کے بجائے ہمارے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
پوری دنیا نے واضح طور پر دیکھا کہ جب وہ اپنے اس ہدف میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے اپنا ہدف تبدیل کیا اور کہا کہ ایران کا افزودہ شدہ یورینیم حاصل کرنا ہے، لیکن وہ اس میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کے بعد وہ تیسرے ہدف کی طرف گئے، یعنی آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوشش کی۔
آج اس عوام کے ساتھ چھ ماہ کی ہمہ گیر جدوجہد کے بعد بھی وہ نہ صرف کامیاب نہیں ہوسکے، بلکہ انہیں واپسی کا راستہ بھی نہیں مل رہا اور وہ انتہائی بے بسی اور استحصال کا شکار ہوچکے ہیں۔
ولیِ فقیہ اور شہید قائد نے اس ملک کو کس طرح چلایا کہ اقتصادی محاصرے، بعض انتظامی امور میں کمزور مدیریت اور وسیع پابندیوں کے باوجود ملک نے اتنی علمی پیش رفت حاصل کی اور ہماری مسلح افواج، جو براہِ راست ولیِ فقیہ کی قیادت میں تھیں، اس قدر اہم آمادگی پیدا کرنے میں کامیاب ہوئیں؟
ہر گزرتے دن کے ساتھ دنیا پر اسلامی جمہوریہ ایران اور نظامِ ولایتِ فقیہ کی قائدانہ عظمت مزید واضح ہوتی جارہی ہے۔ وہ جتنی بھی دھمکی دیتے ہیں، انہیں عوام اور مسلح افواج کی جانب سے اس سے زیادہ مضبوط جواب ملتا ہے۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ جب عالمِ عرب کے ایک سیاست دان سے پوچھا گیا کہ ایران کی اتنی علمی پیش رفت اور عالمی طاقتوں کے مقابلے میں اس کی استقامت، جبکہ اس کے مقابلے میں عرب ممالک کی کمزوری اور بے بسی کی کیا وجہ ہے؟ تو اس نے جواب دیا: فرق یہ ہے کہ ایران کے پاس نظامِ ولایتِ فقیہ ہے، جبکہ ہم عربوں کے پاس نظامِ ولایتِ سفیہ ہے۔
دوسرا نکتہ: اتحاد و یکجہتی کے تحفظ کی ضرورت
دشمن کا بنیادی منصوبہ یہ ہے کہ وہ اپنی فوجی کاروائیوں کو سڑکوں پر ہونے والے ہنگاموں کے ساتھ جوڑ دے اور کسی بھی طریقے سے لوگوں کے ایک گروہ کو اس نظام کے مخالف کے طور پر میدان میں لاکر بدامنی اور انتشار پیدا کرے۔ ایسے حالات میں سب کی، بالخصوص علماء کی ذمہ داری نہایت حساس ہے۔ میدان میں موجود رہنا اور داخلی اتحاد کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اس نفسیاتی مریض شخص (ٹرمپ) کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹس میں سے ایک میں کہا گیا کہ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ایرانی عوام میدان میں آئیں اور نظام کے خلاف کاروائی کریں۔
لہٰذا اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنا اور عوام کا میدان میں موجود رہنا انتہائی اہم ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
یہیں میں ان جلیل القدر، فاضل، نوجوان اور باصلاحیت علماء کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران میدان خالی نہیں چھوڑا۔ تہران، جنوبی علاقوں اور دیگر شہروں سے متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ انہوں نے عوام کو میدان میں لایا اور دشمن کو عوام کو سڑکوں پر دکھایا۔

تیسرا نکتہ: ولایتِ فقیہ، علمی پیش رفت اور جہادی مقاومت کا محور
دنیا میں رہبرِ شہید کے خون کے اثرات کے بارے میں تفصیل سے گفتگو ہونی چاہیے۔ فی الحال صرف اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کے کئی سال بیرونِ ملک تعلقات اور روابط میں گزارے ہیں۔
انقلاب کی کامیابی سے قبل، یعنی ۱۳۵۶ ہجری شمسی میں، جب میں سولہ سال کا نوجوان تھا، ترکی، شام، اردن اور سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔ سعودی عرب میں، سلفیت کے معروف عالم احسان الٰہی ظہیر کی تحریریں پڑھنے کے بعد، جب وہ بھی پاکستان سے حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب آئے ہوئے تھے، تو شبِ نوروز مدینہ منورہ میں ان سے گفتگو ہوئی اور میں نے ان کی بعض کتابوں پر تنقید کی، جس پر انہیں بہت تعجب ہوا۔ اس کے بعد بھی بیرونِ ملک سفر اور وہاں کے لوگوں سے روابط کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ انقلاب کی کامیابی کے تین سال بعد ایران سے ایک وفد شام، ترکی اور لبنان کے علمی و جامعاتی مراکز میں گفتگو اور تقاریر کے لیے گیا اور میں اس وفد میں سب سے کم عمر فرد تھا۔ اس طویل تجربے اور بیرونِ ملک روابط کی بنیاد پر، بغیر کسی مبالغے کے، میں کہتا ہوں کہ میں نے کبھی ایسا زمانہ نہیں دیکھا جس میں دنیا کے عوام انقلابِ اسلامی، مکتبِ تشیع اور شیعی تعلیمات کی طرف اتنی توجہ رکھتے ہوں جتنی آج رکھتے ہیں۔
دنیا کے لوگوں میں ایک غیر معمولی توجہ پیدا ہوئی ہے۔ صرف مسلمان ہی نہیں، بلکہ غیر مسلم بھی انقلابِ اسلامی کو سمجھنا اور مکتبِ تشیع کو جاننا چاہتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ وہ کون سا خصوصی اکسیر ہے جو آپ کے پاس ہے اور جس نے یہ علمی پیش رفت اور یہ مقاومت پیدا کی ہے؟ ہمیں بھی اس سے آگاہ کریں۔
لہٰذا آج علماء کی ذمہ داری بہت بھاری ہے۔ ہمیں دوسروں سے روابط قائم کرنے چاہئیں، ان تعلیمات کو دوسروں تک منتقل کرنا چاہیے اور ان کے سوالات کے جوابات دینے چاہئیں۔
چوتھا نکتہ: میدانی ذمہ داریوں کے ساتھ علمی ذمہ داریوں پر توجہ
سڑکوں پر موجود رہنا، جو بذاتِ خود جنگ کا ایک میدان ہے، کے ساتھ ساتھ علماء کو علم حاصل کرنے اور علمی سرمایہ جمع کرنے سے غفلت نہیں کرنی چاہیے۔ہمیں مکمل طور پر میدان میں موجود رہنا چاہیے اور اپنی پوری توانائی اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب کی خدمت کے لیے علم و دانش کے حصول کی راہ میں صرف کرنی چاہیے۔ ہمیں خود کو اس مقصد کے لیے تیار کرنا چاہیے کہ ہم علم حاصل کریں اور پھر اسے لوگوں تک منتقل کریں۔ کبھی کبھی ہمیں اپنے اسلافِ صالح اور بزرگ علماء کے حالاتِ زندگی میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جو ہمارے لیے ایک سبق بھی ہوتی ہیں اور جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو خود سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس قدر جدوجہد کرتے تھے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟

فاضل جواد، صاحبِ کتاب مفتاح الکرامہ کے حالات کا مطالعہ کریں! جنہوں نے فقہی کتابوں کے مطالعے اور تتبع میں غیر معمولی محنت کی۔ مفتاح الکرامہ کے بعض حصے انہوں نے اس جنگ کے دوران تحریر کیے جب وہابیت کے پیروکاروں نے عراق، حلہ، کربلا اور نجف پر حملہ کیا، ایک بہت بڑا سانحہ برپا کیا، لوٹ مار کی اور متعدد افراد کو شہید کردیا۔
ان حالات اور مشکلات کے باوجود وہ ایک طرف جہاد اور دفاع میں مصروف تھے اور دوسری طرف علمی کام بھی جاری رکھا۔ صاحبِ اعیان الشیعہ ان کے بارے میں لکھتے ہیں: اور ان تمام جنگوں اور محاصروں کے دوران بھی وہ تدریس اور تألیف میں مصروف رہے۔(اعیان الشیعہ، ج ۴، ص ۲۹۰)
خود فاضل جواد نے مفتاح الکرامہ کی کتاب الہبہ میں لکھا ہے: الحمدللہ، جس طرح اس کی حمد کا حق ہے، صدقہ اور ہبہ کا باب جمادی الاولیٰ کی سترہ تاریخ، سنہ ۱۲۲۶ ہجری میں مکمل ہوا۔ اسی دوران وہابی لشکر ہمارے پاس آیا اور عراق کے اطراف، جیسے حلہ اور مشہدین، میں قتلِ عام، بالخصوص زائرین اور آنے جانے والوں کے قتل، لوٹ مار اور کھیتیوں کو جلانے کی صورت میں ایک عظیم مصیبت برپا ہوگئی۔ اس وقت ہم نجف اشرف میں گویا محاصرے میں تھے۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو محمد اور ان کی پاکیزہ آل پر۔
اس تمام صورتِ حال کے باوجود اس بندے نے علمی مصروفیات ترک نہیں کیں، حالانکہ خود جسمانی بیماری میں مبتلا تھا اور میرا بیٹا بھی بیمار تھا۔ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ میں نے یہ تحریر اس وقت لکھی جب میری عمر ستر برس کے عشرے میں تھی۔
پس اے بھائیو! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر حال میں علم حاصل کرنے کے لیے بھرپور محنت اور جدوجہد کرو۔
یہ اس عالم کی وصیت ہے جو خود علم اور عمل کے میدان میں ایسی غیر معمولی سنجیدگی اور جدوجہد کا مظاہرہ کرتا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ اگر جہاد و دفاع اور تحصیلِ علم کے درمیان ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ دونوں کو بیک وقت انجام دینا ممکن نہ ہو تو یقیناً جہاد اور دفاع مقدم ہوگا۔ لیکن جب دونوں کو یکجا کرنا ممکن ہو اور ہمارے اسلافِ صالح بھی اسی طرح دونوں ذمہ داریوں کو ادا کرتے رہے ہوں، تو ہماری ذمہ داری بھی یہی ہے۔
ہاں، چند ماہ قبل ہم نے بعض بزرگ علماء کے ساتھ اس مسئلے کا جائزہ لیا تھا اور دیکھا کہ اگر حوزہ کے دروس شروع کردیے جائیں تو ممکن ہے کہ مختلف شہروں میں نوجوان فضلاء کے محور پر جاری عوامی تحریک میں خلل پیدا ہو۔ چنانچہ ہم نے کہا کہ حوزہ کے دروس فی الحال تعطیل رہیں۔
لیکن اب اس حوالے سے تدبیر کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا میری گزارش ہے کہ ہم جہاد و دفاع کے میدان میں بھی مضبوطی سے موجود رہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی علومِ اہلِ بیت علیہم السلام کا حصول اور ان علوم کو عوام تک منتقل کرنے سے بھی غفلت نہ کریں۔ ہمیں ان دونوں ذمہ داریوں کو باہم جمع کرنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ