حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سوامی سارنگ نے نئی دہلی میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے اعزاز میں منعقدہ خصوصی پروگرام میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے تعلقات صرف سیاسی اور اقتصادی مفادات تک محدود نہیں ہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تاریخی اور تہذیبی رشتے قائم ہیں۔

انہوں نے ایرانی صدر سے ملاقات کو ہندوستان اور ایران کی دو قدیم تہذیبوں کے درمیان دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی گفتگو قرار دیا اور کہا کہ صدر پزشکیان کے رویے میں ہندوستان اور اس کی تہذیبی روایات کے لیے احترام واضح طور پر نظر آتا ہے۔

سوامی سارنگ نے کہا کہ دونوں ممالک اپنی مشترکہ علمی اور ثقافتی وراثت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صحت، روایتی طب، تعلیم، ثقافت اور انسانی فلاح جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی سفارت کاری صرف معاہدوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد ملکوں اور عوام کے درمیان اعتماد اور دوستی کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ انہوں نے مستقبل قریب میں ہندوستان سے ایک خصوصی امن وفد کے ساتھ ایران کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، امن، باہمی احترام اور انسانی اقدار کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے پڑوسی اور دوست ممالک کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہے۔ طاقت کا اصل مقصد کسی پر غلبہ حاصل کرنا نہیں بلکہ امن اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
سوامی سارنگ نے امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور ایران کی دوستی آنے والے دنوں میں مزید مضبوط ہوگی اور دونوں قدیم تہذیبیں مل کر دنیا کے سامنے امن، باہمی احترام اور انسانی اقدار کی ایک اچھی مثال پیش کریں گی۔
اس موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پروگرام میں ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی، ہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی، میرواعظ عمر فاروق سمیت مختلف شعبوں کی اہم شخصیات موجود تھیں۔









آپ کا تبصرہ