حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا محمد رضا ایلیاؔ نے معروف مرثیہ گو کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمشید رضا المعروف خیرات الحسن مرحوم کی دلسوز اور لحن حزیں سے سجائی گئی مرثیہ خوانی مبارکپور کی عزاداری کی تاریخ کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہے۔ آپ نے اپنی سحر انگیز آواز اور پرخلوص عقیدت کے ذریعے کربلا کے آفاقی پیغام کو دلوں میں یوں اتارا کہ سننے والے بے ساختہ گریہ و زاری پر مجبور ہو جاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کی ولادت10؍دسمبر 1945ء مبارکپور کے ایک معزز اور علمی خاندان میں ہوئی۔ آپ کا اصل نام جمشید رضا تھا۔ آپ استاد الاساتذہ، فخرِ دیارِ شبلی، شاعرِ فی البدیہہ، سلطان القلم، تاجِ مبارکپور، اور شاعرِ اہل بیتؑ الحاج علی حماد صاحب قبلہ مبارکپوری فرزند اکبر تھے۔ اس علمی و ادبی اور حسینی ماحول نے آپ کی شخصیت کو شروع ہی سے رقت اور سوزِ دل سے آراستہ کر دیا تھا۔آپ نے اپنے استادِ محترم جناب اولاد حسین مرحوم سے حاصل کیے۔ آپ کی اس روحانی مساعی میں آپ کے ساتھ جناب غلام عباس اور جناب اسلم پانوالے مرحوم بطور ہمنوا شامل رہے، جن کی سنگت نے مرثیہ خوانی کو مزید مؤثر بنایا۔آپ نے نہ صرف خود اس فن کا حق ادا کیا بلکہ آنے والی نسلوں میں بھی اس سوز کو منتقل کیا۔ آپ کے شاگردوں میں نمایاں نام یہ ہیں:جناب فیضان عباس ،جناب محمد اصغر،جناب مرغوب الحسن ،جناب اعجاز اصغر،جناب مختار مہدی ،جناب محمد تقی وغیرہ تھے ۔
مولانا محمد رضا ایلیا ؔ نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مبارکپور میں عاشورہ کا دن خیرت الحسن صاحب کی دلسوز مرثیہ خوانی کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا تھا۔ روزِ عاشورہ امام بارگاہ’’دربارِ حسینی‘‘ سے تعزیہ کی برآمدگی آپ ہی کی مرثیہ خوانی سے ہوتی تھی۔ اس کے بعد امام بارگاہ ’’دولہا بابا‘‘ سے تعزیہ برآمدگی کے موقع پر آپ جو المناک اور حزیں لحن میں مرثیہ پڑھتے تھے، اسے سننے کے لیے مبارکپور اور گرد و نواح کے عزادار خاص طور پر جمع ہوتے تھے۔ اس وقت جو غم و اندوہ کا عالم، آہ و فغاں اور گریہ و زاری کا سماں بنتا تھا، اسے الفاظ کی قید میں لانا دشوار ہے۔عوام میں مقبولیت اور آخری سفرآپ کی مقبولیت نہ صرف مبارکپور بلکہ اطراف کے تمام علاقوں میں مسلم تھی۔ عزادار آپ کے مرثیے کو غرقِ غم ہو کر نہایت غور و خوض سے سنتے تھے۔خیرت الحسن مرحوم کی دلنشیں آواز، سوزِ خوانی اورحزیں مر ثیہ خوانی مبارکپور کی عزاداری کی فضاؤں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔مختصر علالت کے بعد11؍ستمبر 2026ء کو آپ اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ آپ کی نمازِ جنازہ امامِ جمعہ و جماعت مولانا عرفان عباس صاحب کی اقتدا میں ادا کی گئی، اور آپ کو’’شیعہ عید گاہ پورہ دلہن، مبارکپور‘‘ میں سپردِ خاک کیا گیا۔آپ وارثین میں تین بیٹے چاربیٹیاں ہیں ۔ شاعر اہل بیت جناب فضل علی جاوید ،جناب خورشید رضا آپ کے بھائی ہیں ۔ مولانا محمدرضا ایلیاؔ نے غمزدہ اہل خانہ تئیں بالخصوص شاعر اہل بیتؑ فضل علی جاوید ؔ اورشاعر اہل بیت جناب انیس حیدر ؔ انیس کی خدمت میں تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے پرودگار عالم دعا کی کہ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جوار معصومینؑ میں جگہ عنایت فرمائے۔ آمین









آپ کا تبصرہ