حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کے ایران میں نمائندہ حجۃالاسلام شیخ قیس طائی اور طلابِ ہندوستان کے نمائندے مولانا سید احمد شمس کی موجودگی میں قم میں ہندوستانی طالبات کے ساتھ ایک اہم علمی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں طالبات کی تعلیم و تربیت اور معاشرے کی تعمیر میں خواتین کے کردار پر گفتگو ہوئی۔
نشست سے خطاب کرتے ہوئے استاد شیخ قیس طائی نے خواتین کی تعلیم کو ایک بہتر، باشعور اور صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے نہایت اہم قرار دیا اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرتِ طیبہ اور علمی و تربیتی کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو علم حاصل کرنے، اپنی فکری صلاحیتوں کو نکھارنے اور معاشرے کی اصلاح میں مؤثر کردار ادا کرنے کا حق دیا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون نہ صرف اپنے خاندان کی بہترین تربیت کر سکتی ہے بلکہ معاشرے میں علم، اخلاق، دینی شعور اور مثبت اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
حجۃالاسلام شیخ قیس طائی نے مزید کہا کہ خواتین کے لیے علم کا حصول محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بھی ہے۔ طالبات کو چاہیے کہ وہ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم میں بھی مہارت حاصل کریں، تاکہ وہ اپنے زمانے کے مسائل کو سمجھ کر حکمت، بصیرت اور اسلامی اقدار کی روشنی میں ان کا حل پیش کر سکیں۔
انہوں نے طالبات کو تاکید کی کہ علم کے ساتھ عمل، اخلاص، حیا اور اخلاقِ حسنہ کو بھی اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
اس موقع پر مولث سید احمد شمس نے کہا کہ ایک خاتون کی تعلیم صرف ایک فرد کی تعلیم نہیں بلکہ ایک خاندان، ایک نسل اور پورے معاشرے کی تعلیم ہے۔ جب بیٹیاں علم و شعور سے آراستہ ہوتی ہیں تو وہ اپنے خاندانوں کی بہتر تربیت، معاشرے کی مثبت تشکیل اور آنے والی نسلوں کی فکری و اخلاقی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ تعلیم یافتہ بیٹیاں قوم کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔
نشست کے اختتام پر حجۃالاسلام شیخ قیس طائی نے ہندوستانی طالبات کو دعائے خیر سے نوازا۔ اس موقع پر طالبات کی علمی و اخلاقی تربیت، خواتین کی تعلیم اور معاشرے کی اصلاح میں ان کے مؤثر کردار پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔









آپ کا تبصرہ