جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 12:15
پاکستان کا مکہ معاہدہ: وہ بندوقیں جو غزہ کو کبھی نہیں ملیں

حوزہ/ جب عرب اور مسلم ممالک کے دارالحکومتوں سے سرکاری بیانات اور اعلامیے جاری ہورہے تھے، انصار اللہ عملی اقدام کررہی تھی۔ اس نے بحری جہاز رانی کو متاثر کیا، جوابی کارروائیاں برداشت کیں، امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کیا اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ فلسطینیوں کے قتلِ عام کے کچھ نہ کچھ نتائج ضرور ہونے چاہییں۔

تحریر: جنید ایس احمد

حوزہ نیوز ایجنسی| کچھ بدصورت حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں کہ سفارت کاری کی کوئی زبان ان کی قباحت کو چھپا نہیں سکتی۔ تین برس تک غزہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتا رہا۔ بچے کنکریٹ کے ملبے تلے دفن ہوتے رہے۔ ہسپتالوں پر بم برسائے گئے۔ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پورے پورے محلے صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے۔ فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری رہا، جبکہ مسلم دنیا کی طاقتور ترین حکومتیں محض بیانات جاری کرتی رہیں، اجلاس بلاتی رہیں، ’’کشیدگی میں اضافے‘‘ کی مذمت کرتی رہیں اور اس فن میں مہارت حاصل کرتی رہیں کہ اس طرح غم و غصے کا اظہار کیا جائے کہ کوئی ایسا عملی قدم نہ اٹھانا پڑے جس سے واقعی کوئی فرق پڑ سکتا ہو۔

ان کے پاس فوجیں تھیں، طیارے تھے، میزائل تھے اور پیسہ بھی۔ جو چیز ان کے پاس نہیں تھی، وہ غزہ کے لیے ان میں سے کسی چیز کو استعمال کرنے کا عزم تھا۔

پھر سعودی عرب پر حملہ ہوا اور اچانک مسلم دنیا کو ہنگامی صورتِ حال کی سنگینی کا احساس ہوگیا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عملی پیش رفت شروع کردی، جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی بھی شامل ہے۔

اب ترجیحات کی درجہ بندی چھپانا ممکن نہیں رہا۔ غزہ کو بھوکا رکھا جاسکتا تھا، اس پر بم برسائے جاسکتے تھے، اسے ملبے میں تبدیل کیا جاسکتا تھا، مگر اس کے نتیجے میں کوئی بامعنی اجتماعی فوجی کارروائی ضروری نہیں سمجھی گئی۔ لیکن جیسے ہی سعودی عرب کی سلامتی کا مسئلہ سامنے آیا، احتیاط اور ضبط کی جگہ فوری طور پر عسکری نقل و حرکت نے لے لی۔

اور جس فریق کے خلاف یہ فوجی طاقت متحرک کی جارہی ہے، وہ انصار اللہ ہے—یعنی وہ قوت جس نے وہ کام کیا جس سے خطے کی دولت مند ترین اور جدید ترین اسلحے سے لیس ریاستیں گریز کرتی رہیں: اس نے غاصب اور جارح طاقت پر غزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم کی حقیقی قیمت عائد کرنے کی کوشش کی۔

یہی بات اس صورتِ حال کو اتنا تکلیف دہ بناتی ہے۔

جب عرب اور مسلم ممالک کے دارالحکومتوں سے سرکاری بیانات اور اعلامیے جاری ہورہے تھے، انصار اللہ عملی اقدام کررہی تھی۔ اس نے بحری جہاز رانی کو متاثر کیا، جوابی کارروائیاں برداشت کیں، امریکی اور اسرائیلی حملوں کا سامنا کیا اور مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ فلسطینیوں کے قتلِ عام کے کچھ نہ کچھ نتائج ضرور ہونے چاہییں۔

دنیا یہ فرق صاف دیکھ سکتی تھی: جن ریاستوں کے پاس سب سے زیادہ وسائل تھے، انہوں نے سب سے کم کیا، جبکہ یمنیوں کے پاس وسائل اور تحفظ سب سے کم تھا مگر انہوں نے سب سے بڑا خطرہ مول لیا۔ یہی وجہ ہے کہ انصار اللہ نے یمن سے کہیں زیادہ وسیع حلقوں میں پذیرائی حاصل کی۔ اس لیے نہیں کہ لوگوں کو ایک اور نعرے کی ضرورت تھی، بلکہ اس لیے کہ غزہ نے الفاظ اور قربانی کے درمیان موجود فرق نمایاں کردیا تھا۔

اور اب ممکن ہے کہ پاکستان اسی فریق کو سزا دینے میں مدد کرے جس نے قربانی دی۔

پاکستان کو اس معاملے میں زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔ 2015 میں سعودی عرب نے اسلام آباد سے یمن کی جنگ کے لیے فوجی دستے، طیارے اور جنگی بحری جہاز مانگے تھے۔ پاکستان کی پارلیمان نے اس درخواست پر بحث کی اور متفقہ طور پر یمن کی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔ پاکستان نے سعودی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع کا عہد کیا، لیکن ایک واضح حد بھی مقرر کردی: سعودی عرب کا دفاع کرنا اور سعودی عرب کی جنگیں لڑنا ایک ہی بات نہیں۔

اس حد کو خودمختاری کا نام دیا گیا تھا۔

گیارہ برس بعد اسلام آباد بظاہر اسی حد کو مٹانے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔

مکہ معاہدے کو ہمیشہ کی طرح انہی الفاظ میں پیش کیا گیا: ڈیٹرنس، برادرانہ تعلق، اجتماعی سلامتی اور باہمی دفاع۔ چونکہ اس کی عملی تفصیلات واضح نہیں تھیں، اس لیے بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کسی جغرافیائی سیاسی ’’ہیلتھ انشورنس‘‘ کی طرح ہے، یعنی مستقبل میں پیدا ہونے والی کسی ہنگامی صورتِ حال کے لیے تحفظ، نہ کہ سعودی عرب کے یمن سے متعلق پہلے سے موجود تنازع کے لیے خودکار فوجی کوریج۔

مگر بظاہر اب پالیسی بدل گئی ہے۔

اب بیمہ فراہم کرنے والا ادارہ اس پہلے سے موجود بیماری کا علاج بھی کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔

اور اس مرتبہ پاکستانی عوام کو 2015 کی پارلیمانی بحث جیسی کوئی وضاحت بھی نہیں دی گئی۔ کتنے فوجی بھیجے جائیں گے؟ ان کی کمان کس کے پاس ہوگی؟ ان کا مشن کیا ہوگا؟ وہ کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوں گے؟ کیا ’’دفاع‘‘ کا مطلب صرف سعودی سرزمین کے اوپر آنے والے ڈرونز کو روکنا ہوگا؟ یا اس میں انٹیلی جنس تعاون، اہداف کی نشاندہی میں مدد یا یمن کے اندر فضائی کارروائیاں بھی شامل ہوں گی؟ اور یہ فیصلہ آخر کس نے کیا ہے؟

یہ محض تکنیکی نوعیت کے سوالات نہیں ہیں۔ یہی وہ سوالات ہیں جو کسی اتحادی کے دفاع اور کسی جنگ میں براہِ راست داخل ہونے کے درمیان فرق طے کرتے ہیں۔ یہی سوالات خودمختاری اور کسی دوسرے ملک کو اپنی عسکری طاقت ٹھیکے پر دینے کے درمیان بھی فرق واضح کرتے ہیں۔

پاکستان نے 2026 کے دوران ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے، خود کو ثالث کے طور پر پیش کرنے اور باہم متصادم علاقائی کیمپوں کے درمیان اعتماد برقرار رکھنے کی اپنی صلاحیت اجاگر کرنے میں خاصی محنت کی ہے۔ یہ سفارتی اعتبار جتنی تیزی سے حاصل نہیں ہوا، اس سے کہیں زیادہ تیزی سے ختم ہوسکتا ہے۔

اگر پاکستانی فوجی طاقت انصار اللہ کے ساتھ سعودی عرب کی محاذ آرائی کا حصہ بن جاتی ہے، جبکہ ریاض ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی علاقائی بندوبست میں مزید گہرائی سے شامل ہوتا جاتا ہے، تو تہران کو یہ سوال اٹھانے کا حق ہوگا کہ آیا پاکستان کبھی واقعی غیر جانب دار تھا بھی یا نہیں۔

اور پاکستانی عوام کو اس سے بھی زیادہ سادہ سوال پوچھنا چاہیے:

جب فلسطینیوں کا قتلِ عام ہورہا تھا تو فوجی کشیدگی میں اضافہ ناقابلِ تصور کیوں تھا، لیکن اب ان یمنیوں کے خلاف یہ اقدام قابلِ تصور کیسے ہوگیا جنہوں نے انہی فلسطینیوں کے لیے کارروائی کی؟

غزہ کے حصے میں تقریریں کیوں آئیں، جبکہ سعودی عرب کے حصے میں فوجی دستے کیوں آئے؟

یہ محض عام معنوں میں منافقت کا معاملہ نہیں۔ یہ ترجیحات کا انکشاف ہے۔

معروف ایرانی تجزیہ کار پروفیسر سید محمد مرندی نے حال ہی میں یمن کے اصل بحران کے دوران پاکستانی قیادت کو عمران خان کا ایک سوال یاد دلایا:

’’کیا پاکستان دوسروں کی جنگوں میں حصہ لے کر پہلے ہی بہت کچھ نہیں سہہ چکا؟‘‘

یہ سوال ان لوگوں سے کہیں زیادہ وقت کی کسوٹی پر پورا اترا ہے جنہوں نے اسے نظرانداز کیا تھا۔

پاکستان نے کئی دہائیوں سے ایسی جنگوں کی قیمت ادا کی ہے جن کے فیصلے کہیں اور کیے گئے۔ اس کے حکمران قلیل مدتی مالی فوائد حاصل کرتے ہیں، ’’اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ کی تعریفیں سنتے ہیں، اور پھر اس کے ردِعمل اور نتائج عوام کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے بعد اسے ’’قومی مفاد‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے۔

لیکن جب کوئی دوسرا دارالحکومت دشمن کا انتخاب کرے اور پاکستان اپنی فوجی طاقت فراہم کرے تو یہ قومی مفاد نہیں رہتا۔

جب پاکستانی فوجی کسی دوسرے ملک کی خارجہ پالیسی کی قیمت بن جائیں تو یہ خودمختاری نہیں رہتی۔

اور جب غزہ برسوں جلتا رہے اور اس کے نتیجے میں کوئی بامعنی اجتماعی اقدام نہ ہو، لیکن ’’برادرانہ اتحاد‘‘ کی پوری مشینری اسی وقت حرکت میں آجائے جب اس ایک قوت کے خلاف کارروائی مطلوب ہو جس نے فلسطینی خون کو محض پس منظر کا شور سمجھ کر نظرانداز کرنے سے انکار کیا، تو اسے مسلم یکجہتی بھی نہیں کہا جاسکتا۔

2015 میں پاکستان نے نہیں کہا تھا۔

2026 میں اسے ایک کہیں زیادہ تلخ صورتِ حال کے لیے ہاں کہنے کا خطرہ درپیش ہے اور وہ بھی ایک ایسی جنگ کے لیے نہیں جو غزہ کو تباہ کرنے والوں کے خلاف ہو، بلکہ ان لوگوں کے خلاف جو غزہ کی تباہی کو خاموشی سے دیکھتے رہنے پر آمادہ نہیں تھے۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha