ہفتہ 10 اکتوبر 2026 - 06:05
لکھنؤ میں 23ویں قومی کتاب میلے کا انعقاد؛ شہید رہبرِ انقلاب کی حیات و افکار پر مبنی کتابوں کی خصوصی پذیرائی

حوزہ/ لکھنؤ میں منعقد ہونے والے 23ویں قومی کتاب میلے میں مختلف موضوعات پر شائع ہونے والی کتابوں کے ساتھ شہید رہبرِ انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی حیات، افکار اور جدوجہد پر مبنی کتابوں نے بھی قارئین اور اہلِ علم کی خصوصی توجہ حاصل کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ میں منعقد ہونے والے 23ویں قومی کتاب میلے میں مختلف موضوعات پر شائع ہونے والی کتابوں کے ساتھ شہید رہبرِ انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی حیات، افکار اور جدوجہد پر مبنی کتابوں نے بھی قارئین اور اہلِ علم کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ ولایت فاؤنڈیشن اور کوثر پبلیکیشنز کے مشترکہ اسٹال پر پیش کی گئی ان کتابوں میں بالخصوص ’’250 سالہ انسان‘‘ قابلِ ذکر رہی، جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب تھی۔

کتابی میلے میں لوگوں کی دلچسپی اور کتابوں کے مطالعے کا رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مطالعہ، علم و ادب اور فکری ورثے سے وابستگی آج بھی برقرار ہے۔

رپورٹ کے مطابق لکھنؤ کے بلرام پور گارڈن میں منعقدہ قومی کتابی میلے میں ملک کے مختلف اشاعتی اداروں نے اپنی مطبوعات پیش کیں۔ اس موقع پر ولایت فاؤنڈیشن اور کوثر پبلیکیشنز کے اسٹال پر مذہبی، فکری، تاریخی اور اسلامی موضوعات پر مشتمل کتابیں قارئین کی توجہ کا مرکز رہیں۔ اسٹال پر بچوں اور بڑوں، دونوں کے لیے مختلف موضوعات پر کتابیں دستیاب تھیں۔

’’250 سالہ انسان‘‘ خصوصی توجہ کا مرکز

اسٹال پر شہید رہبرِ انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تصانیف میں ’’250 سالہ انسان‘‘ کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔ اس کتاب میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی زندگیوں کو الگ الگ واقعات کے بجائے ایک مسلسل جدوجہد کے مختلف مراحل کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اسلامی تعلیمات کا احیا ہے۔ کتاب کے اردو اور انگریزی نسخوں کی دستیابی نے مختلف زبانوں کے قارئین کو اس کے مطالعے کی طرف متوجہ کیا۔

اس کے علاوہ ’’سیل نمبر 14‘‘ اور ’’زنداں سے پرے رنگِ چمن‘‘ جیسی کتابیں بھی قارئین کی دلچسپی کا باعث بنیں۔ ان تصانیف میں قید و بند کے تجربات، استقامت، امید اور فکری آزادی جیسے موضوعات کو جگہ دی گئی ہے۔

اسٹال پر موجود دیگر نمایاں کتابوں میں ’’تعلیمِ احکام‘‘، ’’فلسطین‘‘ اور ’’صادقِ آلِ محمدؑ‘‘ شامل تھیں۔ ’’تعلیمِ احکام‘‘ میں روزمرہ زندگی کے شرعی مسائل کو آسان زبان میں بیان کیا گیا ہے، جب کہ ’’فلسطین‘‘ میں مسئلۂ فلسطین کی تاریخ اور اس حوالے سے شہید رہبرِ انقلاب کے موقف کو پیش کیا گیا ہے۔ ’’صادقِ آلِ محمدؑ‘‘ امام جعفر صادق علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ، علمی خدمات اور اس دور کے سیاسی و سماجی حالات سے روشناس کراتی ہے۔

عادل فراز کی اردو کتابوں کی صورتِ حال پر تشویش

معروف قلم کار عادل فراز نے کتابی میلے میں اردو کتابوں کی صورتِ حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلرام پور گارڈن میں منعقدہ قومی کتاب میلہ اردو کے حوالے سے زیادہ امید افزا نہیں ہے، تاہم ولایت فاؤنڈیشن، مجلس تحقیقات و نشریات اسلامی، اردو اکادمی لکھنؤ اور ریختہ کی موجودگی اندھیرے میں روشنی کی مانند ہے۔

انہوں نے کہا کہ ولایت فاؤنڈیشن اور کوثر پبلیکیشنز مذہبی لٹریچر کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں، البتہ انہیں اپنی کتابوں کی تشہیر کے لیے جدید ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، اسٹال پر بچوں اور بڑوں، دونوں کے لیے کتابیں موجود تھیں اور بالخصوص شہید رہبرِ انقلاب کی تصانیف نے خصوصی توجہ حاصل کی۔

عادل فراز نے اردو اکادمی کے حوالے سے نئی مطبوعات کی کمی کی نشان دہی کی، جب کہ ریختہ فاؤنڈیشن کی اردو ادب کے لیے خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سرگرمیوں میں ہندی کی ترویج پر بھی زیادہ توجہ دکھائی دی۔

انہوں نے اردو کی علمی و ادبی میراث کے تحفظ اور فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لکھنؤ جیسے علمی و ادبی شہر میں کتابی میلے کے دوران اردو کے اسٹالوں پر سناٹا نظر آنا باعثِ تشویش ہے۔ ان کے بقول، ہمیں اپنی علمی میراث کے تحفظ اور فروغ کے لیے بیدار ہونا چاہیے۔

کتابی میلے میں ولایت فاؤنڈیشن اور کوثر پبلیکیشنز کی شرکت نے مذہبی و فکری لٹریچر کی ترویج کے ساتھ اس ضرورت کو بھی اجاگر کیا کہ معیاری کتابوں کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانے کے لیے جدید ذرائعِ تشہیر اختیار کیے جائیں اور نئی نسل میں مطالعے کا شوق پروان چڑھایا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha