پیر 19 اکتوبر 2026 - 00:23
سکردو میں نہج البلاغہ کانفرنس کا انعقاد / علماء کے خطابات میں تعلیماتِ امیرالمؤمنین (ع) کی اہمیت پر زور

حوزہ / مرکز افکار اسلامی اور مرکزی انجمن امامیہ بلتستان کے زیر اہتمام کانفرنس میں نہج البلاغہ کے علمی، فکری، اخلاقی اور تربیتی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکز افکار اسلامی اور مرکزی انجمن امامیہ بلتستان کے زیر اہتمام 18 اکتوبر 2026ء کو سکردو میں نہج البلاغہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں حجت الاسلام لیاقت علی اعوان، حجت الاسلام مقبول حسین علوی اور حجت الاسلام والمسلمین پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین نے خطاب کیا۔

کانفرنس کا مقصد نہج البلاغہ کی علمی و فکری اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے فرامین اور تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنے کی ضرورت کو نمایاں کرنا تھا۔

مقررین نے نہج البلاغہ کو اسلامی معارف، اخلاقی تربیت، عدل و انصاف اور انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں رہنمائی فراہم کرنے والا عظیم علمی سرمایہ قرار دیا۔

سکردو میں نہج البلاغہ کانفرنس کا انعقاد / علماء کے خطابات میں تعلیماتِ امیرالمؤمنین (ع) کی اہمیت پر زور

حجت الاسلام لیاقت علی اعوان نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کی اہمیت اور اس کی تعلیمات سے استفادہ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ نہج البلاغہ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی بصیرت، حکمت اور سیرت کا آئینہ دار ہے، جس میں انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے جامع رہنمائی موجود ہے۔

حجت الاسلام لیاقت علی اعوان نے واضح کیا کہ نہج البلاغہ کا مطالعہ صرف علمی معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کے کردار، طرزِ فکر اور عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ آج کے معاشرے میں پائے جانے والے اخلاقی انحطاط، ناانصافی اور سماجی مسائل کے تناظر میں اس کی تعلیمات سے رجوع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سکردو میں نہج البلاغہ کانفرنس کا انعقاد / علماء کے خطابات میں تعلیماتِ امیرالمؤمنین (ع) کی اہمیت پر زور

انہوں نے اس بات کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا کہ علمائے کرام، اساتذہ اور دینی ادارے نئی نسل کو نہج البلاغہ سے روشناس کرانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ نوجوان اس کے علمی و اخلاقی پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں۔

سرپرست مرکز افکار اسلامی حجت الاسلام مقبول حسین علوی نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کے اخلاقی، تربیتی اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا: امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی تعلیمات انسان کو حق شناسی، تقویٰ، دیانت داری، عدل و انصاف اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں۔ ان اصولوں کو عملی زندگی میں اختیار کرکے ایک صالح اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔

سرپرست مرکز افکار اسلامی نے اس امر پر زور دیا کہ نہج البلاغہ کی تعلیمات کو محض مجالس اور علمی نشستوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان اصولوں کو گھریلو زندگی، تعلیمی اداروں، سماجی تعلقات اور اجتماعی معاملات میں بھی نافذ کیا جانا چاہیے۔ بالخصوص نوجوان نسل کو ان تعلیمات سے وابستہ کرنا ضروری ہے، تاکہ ان میں اخلاقی شعور، فکری پختگی اور معاشرتی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔

سکردو میں نہج البلاغہ کانفرنس کا انعقاد / علماء کے خطابات میں تعلیماتِ امیرالمؤمنین (ع) کی اہمیت پر زور

انہوں نے مزید اس ضرورت کی جانب توجہ دلائی کہ نہج البلاغہ کے مضامین کو آسان اور مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا جائے تاکہ معاشرے کے مختلف طبقات اس کے پیغام سے مستفید ہو سکیں۔

حجت الاسلام والمسلمین پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین نے اپنے خطاب میں نہج البلاغہ کے علمی و فکری مقام اور عصر حاضر میں اس کی معنویت پر گفتگو کی۔

انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ نہج البلاغہ ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جس کا مطالعہ انسان کو فکر و نظر کی وسعت، اخلاقی بصیرت اور زندگی کے مسائل کو اصولی انداز میں سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین نے کہا: موجودہ دور میں نوجوان نسل کو فکری انتشار اور مختلف نظریاتی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے حالات میں نہج البلاغہ کی تعلیمات ان کی فکری و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ نہج البلاغہ کے مطالعے کو فروغ دیا جائے اور اس کے مضامین پر تحقیقی و علمی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے۔

سکردو میں نہج البلاغہ کانفرنس کا انعقاد / علماء کے خطابات میں تعلیماتِ امیرالمؤمنین (ع) کی اہمیت پر زور

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دینی و تعلیمی اداروں میں نہج البلاغہ کی تدریس، تشریح اور تحقیق کو اہمیت دی جائے تاکہ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے افکار و فرامین نئی نسل تک مؤثر انداز میں منتقل ہوں اور ان سے معاشرتی اصلاح و تربیت کے لیے رہنمائی حاصل کی جا سکے۔

کانفرنس کے مقررین نے مجموعی طور پر نہج البلاغہ کے مطالعے، اس کی تعلیمات کو سمجھنے اور انہیں عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس امر کو اہم قرار دیا کہ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے علمی و اخلاقی میراث کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے علمی نشستوں، تحقیقی پروگراموں اور تربیتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

مرکز افکار اسلامی اور مرکزی انجمن امامیہ بلتستان کے زیر اہتمام منعقدہ اس کانفرنس کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ نہج البلاغہ سے وابستگی کو مطالعہ اور گفتگو تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی تعلیمات کو انفرادی کردار، اجتماعی رویوں اور معاشرتی معاملات میں عملی صورت دی جائے تاکہ عدل و انصاف، اخلاقی اقدار اور انسانی ذمہ داریوں کا شعور فروغ پا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha