پیر 26 اکتوبر 2026 - 16:23
قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات سے وابستگی ہی راہِ ہدایت پر ثابت قدمی کی ضمانت ہے، آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی

حوزہ/ سرینگر کے قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ایامِ فاطمیہ اور حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد حسین الموسوی الصفوی کی برسی کی مناسبت سے مجلسِ عزا منعقد ہوئی، جس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے قرآن مجید اور اہل بیتؑ کی تعلیمات سے وابستگی، اخلاقی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور حق و باطل کی کشمکش میں حق پر ثابت قدم رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرینگر/جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ایام فاطمیہ اور مقتدر عالم دین حجتہ الاسلام والمسلمین آغا سید محمد حسین الموسوی الصفوی کی برسی کے مناسبت سے قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کی قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں عزاداروں کے جم غدیر سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی، جنرل سیکرٹری انجمن شرعی شیعیان، نے مجلس عزا سے اپنے پُرمغز خطاب میں اہل ایمان پر زور دیا کہ وہ اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں، اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھائیں اور قرآن مجید اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی تعلیمات سے مضبوط وابستگی قائم رکھیں۔

قرآنی تعلیمات کی روشنی میں آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے بیان کیا کہ حق اور باطل کی کشمکش ہر الٰہی مشن کے ساتھ رہی ہے۔ انہوں نے مؤمنین کو فکری و اخلاقی بصیرت پیدا کرنے کی تلقین کی تاکہ وہ حق، ہدایت اور نیکی کو پہچان سکیں، فریب اور ناانصافی کا مقابلہ کر سکیں اور ان قوتوں کے سامنے ثابت قدم رہیں جو ایمان اور اخلاقی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

خطاب میں ولایت اور خانوادۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا، بالخصوص امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور ائمۂ اطہار علیہم السلام کی روحانی رہنمائی کو نمایاں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ وابستگی صرف جذباتی عقیدت کا نام نہیں، بلکہ ایسا عملی عہد ہے جو نماز، عبادت، حلال طرز زندگی، گناہوں سے اجتناب اور دینی فرائض کی ادائیگی میں ظاہر ہونا چاہیے۔

آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے اس قرآنی وعدے پر بھی روشنی ڈالی کہ ایمان اور عمل صالح کے نتیجے میں بالآخر حق کو غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے امید کے اس پیغام کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے شیعہ عقیدے سے مربوط کرتے ہوئے کہا کہ باطل اور ظلم ہمیشہ باقی نہیں رہ سکتے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے آپ کے بلند روحانی مقام اور ہدایت، قربانی، پاکیزگی اور استقامت کے دائمی پیغام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عزا کو ان اقدار سے تعلق کی تجدید کا ذریعہ بننا چاہیے اور معاشرے میں ایمان، عدل اور اصولی کردار کی بنیاد کو مضبوط کرنا چاہیے۔

خطاب کے اختتام پر یاد دلایا گیا کہ قرآن مجید حق و باطل، دوستی و دشمنی، اور ہدایت و گمراہی کے درمیان امتیاز کا بنیادی معیار ہے۔ اہل ایمان پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی دینی سمجھ بوجھ کو گہرا کریں، اپنی روحانی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے پیش کردہ اقدار سے وفاداری کے ساتھ وابستہ رہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha