حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بڈگام-سرینگر/ جموں و کشمیر انجمن شرعیہ شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے مرکزی امام باڑہ بڈگام میں اپنے خطبۂ جمعہ کے دوران نوجوان نسل کی اخلاقی، روحانی اور دینی تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔
اپنے خطاب میں آغا سید حسن موسوی الصفوی نے فرمایا کہ ملت اسلامیہ کا مضبوط اور روشن مستقبل نوجوانوں کے کردار، ایمان اور طرز عمل سے وابستہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی زندگیوں کو قرآن مجید کی تعلیمات، اللہ تعالیٰ پر ایمان، نماز کی پابندی، اخلاقی ذمہ داری اور مشکلات کے وقت صبر و استقامت کے اصولوں پر استوار کریں۔

انہوں نے حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے فرزند کو دی گئی قرآنی نصیحتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک صالح اور باکردار اسلامی زندگی کی بنیاد اللہ پر ایمان، نماز کا قیام، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، مصائب و آزمائشوں میں صبر، اور فروتنی و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے میں مضمر ہے۔
آغا سید حسن موسوی الصفوی نے اس بات پر زور دیا کہ نماز محض ایک دینی فریضہ نہیں بلکہ روحانی تربیت، اخلاقی مضبوطی اور اللہ تعالیٰ سے قربت کا عظیم ذریعہ ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نماز کی پابندی کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنائیں اور عبادت کے اثرات کو اپنے کردار، معاملات اور معاشرتی ذمہ داریوں میں نمایاں کریں۔

خطبۂ جمعہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی قرآنی ذمہ داری کو بھی خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔ آغا سید حسن موسوی الصفوی نے کہا کہ بھلائی کے فروغ اور برائی کی روک تھام کے لیے اخلاقی جرات، اخلاص اور احساس ذمہ داری ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک صالح اور بااصول معاشرے کی تشکیل کے لیے نیکی کی دعوت اور برائی سے باز رکھنے کا فریضہ حکمت، دانائی اور اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے احساس کے ساتھ انجام دیا جانا چاہیے۔
نوجوانوں کو درپیش مختلف آزمائشوں اور چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے صبر، ثابت قدمی اور استقامت کی ضرورت پر زور دیا۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں انہوں نے کہا کہ زندگی میں مشکلات اور امتحانات آتے رہتے ہیں، لیکن اہل ایمان کا راستہ ایمان، تحمل اور حق پر ثابت قدمی کا راستہ ہے۔ صبر انسان کو داخلی قوت عطا کرتا ہے اور راہ حق پر قائم رہنے والوں کے لیے ایک لازمی صفت ہے۔

آغا سید حسن موسوی الصفوی نے تکبر، غرور اور خود پسندی سے بچنے کی سخت تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور لوگوں کے ساتھ احترام اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے۔ فروتنی، انکساری اور اچھے اخلاق اسلامی شخصیت کی بنیادی علامتیں ہیں، جبکہ غرور اور خود نمائی فرد اور معاشرے، دونوں کی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتی ہیں۔
صدر انجمن شرعیہ شیعیان نے حضرت علی اکبر علیہ السلام اور حضرت قاسم علیہ السلام کی عظیم و مثالی زندگیوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کی دینداری، شجاعت، ایثار، قربانی اور حق کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کو نوجوان نسل کے لیے ایک روشن نمونہ قرار دیا گیا۔ نوجوانوں سے کہا گیا کہ وہ ان مقدس ہستیوں کے کردار سے رہنمائی حاصل کریں اور ایمان، اخلاقی پاکیزگی اور حق کی خدمت کے جذبے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

خطبے میں اس ضرورت کو بھی نمایاں کیا گیا کہ بدلتے ہوئے ثقافتی اثرات کے درمیان اسلامی تشخص، دینی شعور اور اخلاقی اقدار کا تحفظ کیا جائے۔ آغا سید حسن موسوی الصفوی نے والدین، بزرگوں اور پورے معاشرے پر زور دیا کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی دینی تربیت کو سنجیدگی سے لیں، تاکہ وہ قرآن مجید، تعلیمات اہل بیت علیہم السلام، نماز اور اسلامی اخلاقیات سے مضبوط تعلق قائم رکھ سکیں۔
خطبۂ جمعہ کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ نوجوان نسل روحانی طور پر بیدار، اخلاقی طور پر مضبوط اور معاشرتی طور پر ذمہ دار بنے؛ ایسی نسل جو ایمان سے وابستہ، قرآنی حکمت سے رہنمائی یافتہ، نماز کی پابند، تکبر سے پاک اور صبر و شجاعت کے ساتھ حق کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو۔










آپ کا تبصرہ