حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی کے ایوانِ غالب میں علماء، ائمہ، دانشوروں اور دینی مدارس کے ذمہ داروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سنی شیعہ مکاتب و مدارس کے تحفظ و استحکام، تعلیمی و تربیتی نظام کی بہتری، علماء کی سماجی و دینی ذمہ داریوں اور مختلف اسلامی تعلیمی اداروں کے درمیان علمی و تعلیمی تعاون کے فروغ پر گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ملک ہندوستان میں جامعۃ المصطفیٰ کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید کمال حسینی نے علم و آگاہی کی اہمیت اور معاشرے کے تئیں علماء کی ذمہ داریوں پر خطاب کیا، جبکہ مکاتب و مدارس بورڈ، مجلسِ تعمیرِ ملت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
کانفرنس کا انعقاد اور انتظامی تفصیلات
علماء کانفرنس، جسے اجلاسِ علماء، ائمہ اور مدیرانِ مدارس کے عنوان سے منعقد کیا گیا، کا آغاز مدرسہ باب العلوم، جعفرآباد، دہلی کے ناظم شعبۂ تجوید قاری محمد فاروق کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جبکہ ادارہ تعلیمِ اسلامی، گاندھی نگر، دہلی کے قاری محمد ریحان نے نعتیہ کلام پیش کیا۔
کانفرنس کی سرپرستی مسجد شاہی، بھوگل، نئی دہلی کے امام و خطیب مولوی محمد فاروق مظہر اللہ بجنوری اور مولوی آزاد یونیورسٹی، جودھپور، راجستھان کے سابق وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے کی، جبکہ صدارت کے فرائض مدرسہ تعلیم القرآن، نبی کریم، پہاڑ گنج، دہلی کے ناظم، شیخ الحدیث مولوی عبد السبحان قاسمی نے انجام دیے، جو امارتِ شرعیہ، پھلواری شریف، پٹنہ، بہار کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی ہیں۔
کانفرنس کی نظامت کرتے ہوئے جامعہ شاہ ولی اللہ، دہلی کے صدر مفتی عبد الواحد قاسمی نے اجلاس کے اغراض و مقاصد اور اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے کنوینر مولوی محمد جاوید صدیقی قاسمی، دہلی نے مکاتب و مدارس بورڈ، مجلسِ تعمیرِ ملت کے زیرِ اہتمام 80 سے زائد مکاتب و مدارس میں منعقدہ تربیتی ورکشاپس اور ششماہی امتحانات کے نتائج پر مشتمل بورڈ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔
اس موقع پر مکاتب و مدارس کے تحفظ، استحکام، نظم و ضبط اور تعلیمی و تربیتی معیار کو بہتر بنانے سے متعلق نو تجاویز اور امور پیش کیے گئے، جن پر علماء کرام اور دانشوروں نے تائیدی اظہارِ خیال کیا۔ شرکاء نے کانفرنس کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت اور ایک مستحسن قدم قرار دیا۔
نمائندے جامعۃ المصطفی ہند کا علم، ہدایت اور علماء کی ذمہ داریوں پر خطاب
اجلاس میں جامعۃ المصطفیٰ ہندوستان کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید کمال حسینی نے سورۂ بقرہ کی آیت 257 کی روشنی میں علم و آگاہی کی اہمیت اور معاشرے کے تئیں علماء کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔
انہوں نے علم کو الٰہی نور کی نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمان کے ساتھ علم انسان کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی تک پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق، خدا کی ولایت میں حاصل ہونے والا علم انسان کو حق، عاجزی اور امن کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ ایمان اور الٰہی ہدایت سے خالی علم ظلم اور سرکشی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے حدیثِ نبویؐ «العلماء ورثة الأنبياء» (علماء انبیاء کے وارث ہیں) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انبیاء علیہم السلام کا حقیقی ورثہ علم، حکمت اور ہدایت ہے۔ اسی لیے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائیں، دینی احکام کی ترویج کریں، نیکی کی دعوت دیں اور الٰہی اقدار کی حفاظت کریں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید کمال حسینی نے جامعۃ المصطفیٰ کی تعلیمی و علمی سرگرمیوں، بالخصوص اہل سنت کے لیے مخصوص شعبے کا تعارف بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعۃ المصطفیٰ تمام اسلامی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اہل سنت کے مدارس کے ساتھ مختلف علمی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کے لیے آمادگی کا اظہار بھی کیا۔
مدارسِ اسلامیہ کی دینی و ملی اہمیت
کانفرنس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مدارسِ اسلامیہ ملتِ اسلامیہ کی دینی و مذہبی شناخت اور شعائرِ اسلام کے تحفظ و فروغ کے اہم ذرائع ہیں۔ ملت کی مذہبی ضروریات کی تکمیل میں مدارس بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر مکاتب کا قیام اور ان کا استحکام بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ مکاتب و مدارس کے تحفظ، تعلیمی معیار میں بہتری، نظم و ضبط اور طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے منظم اور مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ اسی مقصد کے تحت مکاتب و مدارس بورڈ کے زیرِ اہتمام تربیتی ورکشاپس اور تعلیمی جائزے کا سلسلہ جاری ہے، تاکہ اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور تعلیمی و تربیتی تقاضوں کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
کانفرنس میں شریک علماء و دانشوروں نے پیش کردہ تجاویز کی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مکاتب و مدارس کے استحکام اور باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
مختلف ریاستوں کے علماء اور دینی شخصیات کی شرکت
کانفرنس میں دہلی، ہریانہ، پنجاب، اتر پردیش، بہار اور مغربی بنگال کے علماء، دینی مدارس کے نمائندگان، منتظمین، اساتذہ، مدرسین، معلمات اور طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مہمانانِ کانفرنس میں جماعتِ اسلامی ہند کے انعام الرحمن رحمانی، دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر پرویز میاں، ہندوستان میں جامعۃ المصطفیٰ کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید کمال حسینی و حجۃ الاسلام و المسلمین افروز مجتبیٰ اور جناب بیات حسینی شامل تھے۔
دیگر شریک شخصیات میں مولوی رحمت اللہ پنجاب، حاجی امین الدین (مسجد و مدرسہ، بھوری بھٹیاری، آئی ٹی او، نئی دہلی)، مفتی محمد قاسم قاسمی (جیت پور، اوکھلا، دہلی)، مفتی نثار الحسینی (امام و خطیب، مسجد انجمن، پہاڑی بھوجلہ، ترکمان گیٹ، دہلی)، مولوی اسلام الدین قاسمی (فرش والی مسجد، منٹو روڈ)، شیخ علیم الدین اسعدی (پرانی دہلی)، مفتی محمد یحییٰ قاسمی، مولوی محمد یونس (مکی مسجد، میر درد روڈ، نئی دہلی)، مولوی محمد احمد (شاہی مسجد کلاں، بستی حضرت نظام الدین، نئی دہلی)، محمد شاداب رضوی (لکشمی نگر، دہلی)، مولوی محمد آصف (جامعہ شمس العلوم، شاہدرہ، دہلی)، حاجی اسعد میاں (ترکمان گیٹ، دہلی)، مفسرِ قرآن مفتی شفاعت حسین قاسمی، مفتی شکیل الرحمن قاسمی، مولوی محمد ابراہیم قاسمی، مفتی محمد طاہر قاسمی (غازی آباد) اور مولوی حسین احمد قاسمی (مہتمم، مدرسہ دارالعلوم رحمانی، شاستری پارک، دہلی) شامل تھے۔
اس کے علاوہ مولوی مدثر مظاہری، قاری نیاز احمد (ادارہ تعلیم اسلامی)، وسیم بھائی، ارشاد اصلاحی، نفیس میاں، محمد عمر فاروق، محمد رضوان، حاجی زبیر احمد، صالحہ جی، کنیز فاطمہ جی، شمع معلمہ صاحبہ، افضل میاں اور مقصود راہی سمیت متعدد علماء، دینی و تعلیمی شخصیات اور مکاتب و مدارس سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
کانفرنس میں علماء و دانشوروں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کے اجتماعات مکاتب و مدارس کے مسائل کے حل، تعلیمی و تربیتی معیار میں بہتری، علماء کے درمیان رابطے اور مختلف اسلامی تعلیمی اداروں کے مابین تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔










آپ کا تبصرہ