حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر مدرسہ عالی تاریخ، سیرت و تمدن اسلامی کی جانب سے افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے سربراہ اور مجلس خبرگان رہبری کے رکن حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی عباسی، حوزات علمیہ کے ممتاز اساتذہ، علما، ذمہ داران اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر گزشتہ سال علمی، ثقافتی اور دینی شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مختلف ممالک کے طلبہ میں اسناد اور انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی عباسی نے صدرِ اسلام کے شہدا سے لے کر عصر حاضر کے تمام جانبازوں، بالخصوص شہید رہبر انقلاب کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعۃ المصطفیٰ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پیش آنے والے اہم اور تاریخی حالات کے باوجود علم و معرفت کے حصول کا سلسلہ جاری رکھا اور اساتذہ، طلبہ اور ادارے کے ذمہ داران نے اپنی علمی ذمہ داریوں کو عزم و استقامت کے ساتھ نبھایا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں درپیش تشویش اور مشکلات کے باوجود جامعۃ المصطفیٰ میں تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رہا، جو علمی سرگرمیوں کے تسلسل اور ذمہ داری کے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے سربراہ نے کہا کہ آج دنیا تاریخ کے ایک حساس مرحلے سے گزر رہی ہے اور انسانیت بتدریج اس حتمی ہدف کے قریب پہنچ رہی ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ اور انبیائے الٰہی نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ راستہ اور یہ کارواں بالآخر اپنی منزل تک پہنچے گا۔
انہوں نے جامعۃ المصطفیٰ کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ایک عالمی علمی مرکز کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں رکھتا ہے۔ علم اور معارفِ الٰہی کے حصول اور انہیں اقوام عالم تک پہنچانے کے لیے طلبہ نے ہجرت کا جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ حق و باطل کے درمیان جاری جدوجہد کا حصہ ہے۔

تقریب سے مدرسہ عالی تاریخ، سیرت و تمدن اسلامی کے چانسلر اور ایران کے معروف خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر ناصر رفیعی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے طلبہ کی علمی زندگی میں تین بنیادی عناصر علم، استاد اور ہم درس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ان تینوں سے بھرپور استفادے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے روایات کی روشنی میں علماء کی خدمت میں حاضری کے بعض آداب بیان کرتے ہوئے کہا کہ عالم کے عیوب بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور علما کی موجودگی میں سکون، احترام اور ادب کے ساتھ گفتگو کرنی چاہیے۔ اسی طرح ایسے غیر ضروری سوالات سے بھی اجتناب کرنا چاہیے جن سے استاد کو رنج پہنچے۔

مدرسہ عالی تاریخ و تمدن اسلامی کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر حسین عبدالمحمدی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے طلبہ کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے علم کے حصول اور عالمِ ہستی میں اس کے مقام پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ متقی عالم کا مرتبہ اس کے علم کے مطابق بلند ہوتا ہے، اس لیے علم کا حصول اور علمی جدوجہد طلبہ کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔
انہوں نے علم کے ساتھ تربیت، اخلاق اور قرآن مجید سے انس پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور ادارے کے مختلف تعلیمی و ثقافتی پروگراموں کے بارے میں تفصیلات پیش کیں۔
مقررین نے علم و تحقیق کے فروغ، دینی تعلیم کے ساتھ ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیوں میں طلبہ کی فعال شرکت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ و اساتذہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ہندوستانی طلبہ کی علمی و دینی خدمات کا اعتراف
تقریب کے اختتام پر گزشتہ تعلیمی سال کے دوران علمی، ثقافتی اور دینی شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے مختلف ممالک کے طلبہ میں اسناد و انعامات تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر ہندوستان سے تعلق رکھنے والے تین طلبہ مولانا سید فیاض محسن عابدی، مولانا وسیم رضا قمی اور مولانا سید محمود حسن رضوی کو بھی ان کی علمی، دینی اور معارفِ اہل بیتؑ سے متعلق خدمات کے اعتراف میں اسناد سے نوازا گیا۔

ہندوستانی طلبہ میں مولانا سید فیاض محسن عابدی کو سیرتِ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر پی ایچ ڈی تھیسس کی تکمیل اور اعلیٰ نمبروں کے حصول پر سندِ امتیاز دی گئی۔

مولانا وسیم رضا قمی کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے۔ وہ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں دینی تعلیم کے ساتھ مختلف ٹیلی ویژن چینلز پر دینی، ثقافتی اور سیاسی موضوعات پر تجزیہ کار اور مبصر کی حیثیت سے بھی شرکت کرتے ہیں۔ وہ کشمیر سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ولایت ٹائمز کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ بھی ہیں۔

مولانا سید محمود حسن رضوی حوزہ نیوز ایجنسی کے شعبہ اردو کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے صحافتی خدمات انجام دینے کے ساتھ دینی و تبلیغی میدان میں بھی سرگرم ہیں۔ انہیں بھی علمی، دینی اور معارفِ اہل بیتؑ کے فروغ سے متعلق خدمات کے اعتراف میں سند سے نوازا گیا۔
تقریب میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دیگر طلبہ کو بھی ان کی علمی، ثقافتی اور دینی سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی پر اسناد اور انعامات پیش کیے گئے۔
یہ اسناد و انعامات طلبہ کی علمی و دینی سرگرمیوں کے اعتراف کے ساتھ ان کی مزید علمی جدوجہد اور ذمہ داریوں کی جانب توجہ دلانے کا ذریعہ بھی قرار پائے۔









آپ کا تبصرہ