حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی میں اہل سنت کے علماء، دینی مدارس کے ذمہ داروں اور جامعۃ المصطفیٰ ہندوستان کے نمائندہ دفتر کے درمیان ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد اہل سنت کے علماء، دانشوروں اور مدارس کے ذمہ داروں کے ساتھ رابطے اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
جامعۃ المصطفیٰ ہندوستان کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی نے سورۂ بقرہ کی آیت 257 کی روشنی میں علم و آگاہی کی اہمیت اور معاشرے کے تئیں علماء کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔
انہوں نے علم کو الٰہی نور کی نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمان کے ساتھ علم انسان کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی تک پہنچاتا ہے۔ ان کے مطابق، خدا کی ولایت میں حاصل ہونے والا علم انسان کو حق، عاجزی اور امن کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ ایمان اور الٰہی ہدایت سے خالی علم ظلم اور سرکشی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے حدیث «العلماء ورثة الأنبياء» (علماء انبیاء کے وارث ہیں) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انبیاء علیہم السلام کا حقیقی ورثہ علم، حکمت اور ہدایت ہے۔ اسی لیے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائیں، دینی احکام کی ترویج کریں، نیکی کی دعوت دیں اور الٰہی اقدار کی حفاظت کریں۔
اجلاس کے اختتام پر حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی نے جامعۃ المصطفیٰ کی تعلیمی و علمی سرگرمیوں، بالخصوص اہل سنت کے لیے مخصوص شعبے کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعۃ المصطفیٰ تمام اسلامی مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اہل سنت کے مدارس کے ساتھ مختلف علمی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون کے لیے آمادگی بھی ظاہر کی۔










آپ کا تبصرہ