حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیوزی لینڈ کے شہروں آکلینڈ، ہیملٹن اور کرائسٹ چرچ میں ایامِ عزائے فاطمیہ سلام اللہ علیہا کے سلسلے میں منعقدہ مجالس سے معروف خطیب و مبلغ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے خطاب کیا۔

ان مجالس میں مؤمنین و مؤمنات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مولانا ابوالقاسم رضوی نے اپنے خطاب میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظیم المرتبت شخصیت، سیرت و کردار، مقام و منزلت، تربیتی اصولوں اور دینی و سماجی زندگی میں آپ کے اسوۂ حسنہ کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذاتِ گرامی صرف خواتین ہی نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے نمونۂ عمل ہے۔ آپ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک عظیم مقام و منزلت رکھتی ہیں اور آپ کی زندگی ہر دور کے انسان کے لیے ہدایت، پاکیزگی، صداقت اور بندگی کا پیغام ہے۔ آپ اپنے فرزندان، امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی تربیت کے ذریعے ایک ایسی مثالی ماں کے طور پر سامنے آتی ہیں جن کی سیرت آج بھی والدین، بالخصوص ماؤں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسی طرح امام زمانہ حضرت حجۃ بن الحسن العسکری عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنے لیے اسوہ اور نمونۂ عمل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں والدین کی ایک اہم شکایت یہ ہے کہ اولاد ان کی توقعات کے مطابق نیک، باکردار اور دین دار نہیں بن رہی۔ یقیناً یہ ایک تشویش ناک صورتِ حال ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمیں اپنا محاسبہ بھی کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنی اولاد کی تربیت میں سیرتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو واقعی اپنا رہنما بنایا ہے؟ کیا ہماری گھریلو زندگی میں وہ دینی ماحول، اخلاقی تربیت، محبت، حیا، ذمہ داری اور عملی نمونہ موجود ہے جس کے ذریعے صالح نسل تیار ہوتی ہے؟
مولانا ابوالقاسم رضوی نے مزید کہا کہ اولاد کی تربیت محض نصیحتوں اور توقعات سے نہیں ہوتی، بلکہ والدین کے کردار، گھر کے ماحول اور عملی رویّوں سے ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں دین دار، بااخلاق اور ذمہ دار ہوں تو ہمیں سیرتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرف رجوع کرنا ہوگا اور آپ کے اندازِ تربیت کو اپنی زندگیوں میں دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایامِ عزائے فاطمیہ کی مجالس کا مقصد صرف غم و مصائب کا تذکرہ نہیں، بلکہ دفاعِ ولایت، معرفتِ اہلِ بیت علیہم السلام اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی تیاری بھی ہے۔ ان مجالس سے حاصل ہونے والا پیغام ہماری انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی میں نمایاں ہونا چاہیے۔ عزائے فاطمیہ کا حقیقی اثر اس وقت ظاہر ہوگا جب ہم مجلس سے اٹھ کر اپنے گھروں میں بھی تعلیماتِ فاطمی کو عملی طور پر نافذ کریں گے۔
مولانا سید ابوالقاسم رضوی نے مومنین و مومنات کو دعوت دی کہ وہ ان مجالس کی برکتوں کو اپنے گھروں تک لے جائیں اور اپنی زندگیوں میں صداقت، دیانت، شرافت، عفت، حیا اور اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام کی اطاعت کو بنیادی اصول بنائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان اخلاقی اقدار کو اپنی اولاد کی تربیت کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں اس حقیقت پر بھی زور دیا کہ ایک پاکیزہ، صالح، عادل اور الٰہی معاشرے کی تشکیل مکتبِ فاطمی کی تعلیمات سے وابستگی کے بغیر ممکن نہیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت ہمیں عبادت و بندگی، خاندانی ذمہ داری، اخلاقی عظمت، حق گوئی، ظلم کے مقابلے میں استقامت اور حق و ولایت کے دفاع کا درس دیتی ہے۔
نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی ان مجالس نے مومنین و مومنات کو سیرتِ زہرا سلام اللہ علیہا سے تجدیدِ عہد اور اپنی دینی و اخلاقی زندگی کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا۔











آپ کا تبصرہ