پیر 2 نومبر 2026 - 12:31
بابا! کیا خدا کو بھی مٹھائیاں پسند ہیں؟

حوزہ/ بچے اکثر خداوند متعال کے بارے میں اپنی روزمرہ زندگی سے جڑے دلچسپ سوالات کرتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا خدا بھی انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور چیزوں کو پسند کرتا ہے؟ ایسے سوالات کے آسان اور سادہ جواب بچوں میں خدا کی صحیح پہچان پیدا کرنے اور خالق و مخلوق کے فرق کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بچے اکثر خداوند متعال کے بارے میں اپنی روزمرہ زندگی سے جڑے دلچسپ سوالات کرتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا خدا بھی انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور چیزوں کو پسند کرتا ہے؟ ایسے سوالات کے آسان اور سادہ جواب بچوں میں خدا کی صحیح پہچان پیدا کرنے اور خالق و مخلوق کے فرق کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

سوال: بابا! کیا خدا کو بھی چاکلیٹ اور آئس کریم پسند ہے؟ اگر ہم خدا کے لیے مٹھائی لے جائیں تو کیا وہ خوش ہوگا؟

جواب:

دیکھو میرے پیارے بیٹے! ہم انسانوں کو کچھ کھانے پینے کی چیزیں بہت پسند ہوتی ہیں۔ مثلاً جب ہم چاکلیٹ کھاتے ہیں تو اس کا میٹھا ذائقہ محسوس کرتے ہیں اور ہمیں مزہ آتا ہے۔ لیکن دنیا کی تمام مخلوقات ہماری طرح نہیں ہوتیں۔ اگر تم کسی درخت سے پوچھو کہ تمہیں کیا پسند ہے تو شاید وہ کہے کہ پانی اور سورج کی روشنی، کیونکہ وہ ان سے بڑھتا ہے۔ اگر کسی کبوتر سے پوچھو تو وہ کہے گا کہ مجھے دانہ پسند ہے، کیونکہ یہی اس کی غذا ہے۔ اس طرح ہر مخلوق کی اپنی الگ خصوصیات اور ضرورتیں ہیں۔

لیکن خدا اپنی تمام مخلوقات سے الگ ہے۔ خدا نے درخت، کبوتر، انسان اور دنیا کی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اسی نے پانی، دانہ اور دوسری غذائیں بنائی ہیں تاکہ مخلوقات زندہ رہ سکیں۔ مٹھاس، لیموں کی کھٹاس اور پھلوں کے ذائقے بھی اسی کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ ہم ان چیزوں کو کھاتے ہیں تو ان کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں، لیکن خدا کو زندہ رہنے کے لیے کچھ کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے خدا ہماری طرح مٹھائی نہیں کھاتا اور نہ ہی اسے چاکلیٹ یا آئس کریم کے ذائقے کی ضرورت ہے۔

شاید تم پوچھو کہ پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ خدا بعض چیزوں کو پسند کرتا ہے؟ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ خدا مہربانی کو پسند کرتا ہے۔ یہاں پسند کرنے کا مطلب وہ نہیں ہے جو مٹھائی کھانے کے شوق کے بارے میں ہوتا ہے۔ ہم مٹھائی کھاتے ہیں تو اس کا ذائقہ ہمیں اچھا لگتا ہے، لیکن خدا مہربانی کو پسند کرتا ہے، یعنی وہ چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں، ضرورت مندوں کی مدد کریں، سچ بولیں اور کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔

تو میرے پیارے بیٹے! جب ہم کہتے ہیں کہ خدا ہماری طرح مٹھائی پسند نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ مٹھائی کوئی بری چیز ہے۔ بلکہ مٹھائی اور تمام مزیدار کھانے اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ خدا ہماری طرح کھاتا پیتا نہیں، کیونکہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ وہ ہماری مہربانی، اچھے کاموں اور نیک اعمال کو پسند کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ان خوبیوں کو اپ

نائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha