منگل 3 نومبر 2026 - 19:51
استکبار کے خلاف جدوجہد ہر مسلمان کا قطعی دینی فریضہ ہے: آیت اللہ علم الہدیٰ

حوزہ/ صوبہ خراسان رضوی میں نمائندہ ولی فقیہ اور امام جمعہ مشہد مقدس آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ نے کہا ہے کہ استکبار کے خلاف جدوجہد محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں، بلکہ قرآن و اسلام کی روشنی میں ہر مسلمان کی قطعی دینی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ ظالموں اور مستکبروں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا یا ان کے خلاف جدوجہد سے پیچھے ہٹنا درحقیقت ان کی طاقت اور تسلط کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علم الہدیٰ نے حرم امام رضا علیہ السلام کے کانفرنس ہال میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس ’’امام شہید کے افکار میں استکبار کے خلاف جدوجہد‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راہِ خدا میں شہید ہونے والے مجاہدین کی قربانیاں ہمیں دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے اور اس جدوجہد کو مسلسل جاری رکھنے کا درس دیتی ہیں۔ استکبار کے خلاف تحریک میں کسی بھی مرحلے پر ٹھہراؤ نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام میں اجتماعی ذمہ داریوں اور دینی فرائض کی اہمیت بہت زیادہ ہے، لیکن بعض اوقات مسلمان انفرادی عبادات اور ذاتی شرعی مسائل پر زیادہ توجہ دیتے ہیں، جبکہ دین اور معاشرے کے تحفظ سے متعلق اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

امام جمعہ مشہد نے قرآن مجید کی آیت ’’وَلَا تَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آیت میں ظالموں کی طرف جھکنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا مفہوم صرف ظالموں پر اعتماد نہ کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ان کی طاقت اور اقتدار کو مضبوط کرنے یا انہیں معاشرے پر مسلط ہونے کا موقع دینے سے بھی اجتناب کرنا ہے۔

آیت اللہ علم الہدیٰ نے مزید کہا کہ استکبار کے خلاف جدوجہد سے دستبرداری درحقیقت ظالموں کی طاقت کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے، اس لیے مسلمانوں کو ہر حال میں اس دینی فریضے پر عمل کرنا چاہیے۔

انہوں نے اسلامی انقلاب کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ نے ایسے وقت میں امریکہ کے خلاف آواز بلند کی جب وہ عالمی سطح پر انتہائی طاقتور تھا، لیکن مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں آج اس کی عالمی حیثیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جب قومیں ظالم طاقتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتی ہیں تو بالآخر ان کی جدوجہد کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہے

انہوں نے کہا کہ استکبار کے خلاف جدوجہد کا آغاز ایک نعرے سے بھی ہو سکتا ہے، لیکن اگر قوم اپنے عزم اور ارادے پر قائم رہے تو یہی جدوجہد بڑی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

آخر میں آیت اللہ علم الہدیٰ نے کانفرنس میں شریک علماء، دانشوروں اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے مزاحمتی محاذ کے نمائندوں کا شکریہ ادا کیا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور، اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینیؒ اور رہبر شہید کی ارواح کے لیے دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha