حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پریس کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں سمیت مجلس علمائے مکتب اہل بیت، مہران سوشل فورم، وحدت یوتھ ونگ اور آل ڈومکی اتحاد کے نمائندوں نے شرکت کی۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ تقریباً 15 لاکھ آبادی پر مشتمل تاریخی ضلع جیکب آباد کے عوام صحت، تعلیم، امن و امان، ٹرانسپورٹ، بجلی، صاف پانی اور دیگر بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہیں۔ یہ مسائل کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پورے ضلع کے عوام کے مشترکہ مسائل ہیں، جن کے حل کے لیے تمام سیاسی، سماجی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کو متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے سول ہسپتال جیکب آباد کی زبوں حالی، ادویات اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی، مکمل سرکاری یونیورسٹی کی عدم موجودگی اور 162 سرکاری اسکولوں کی بندش یا غیرفعال ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہسپتال میں جدید طبی سہولیات فراہم کی جائیں، ایمرجنسی سروس فعال بنائی جائے، سرکاری یونیورسٹی قائم کی جائے اور تمام بند اسکولوں کو فوری کھولا جائے۔
انہوں نے شہر میں بڑھتی ہوئی چوری، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، قبائلی تنازعات اور منشیات خصوصاً آئس کے پھیلاؤ کو بھی سنگین مسئلہ قرار دیا اور سیف سٹی منصوبے کے فوری آغاز، جدید سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، پولیس گشت میں اضافے اور منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے منشیات کے عادی نوجوانوں کے علاج اور بحالی کے مراکز قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
پریس کانفرنس میں شدید گرمی کے دوران طویل لوڈشیڈنگ، گیس کی عدم فراہمی، پیپلز بس سروس سے محرومی، ریلوے کی سہولیات میں کمی، پارکس اور شاہ لطیف اسٹیڈیم کی خستہ حالی، واپڈا اور نادرا دفاتر کی شہر سے باہر منتقلی، پینے کے صاف پانی، سیوریج اور سڑکوں کے مسائل بھی اجاگر کیے گئے۔

رہنماؤں نے ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری فنڈز کے شفاف آڈٹ، شہری سہولیات کی بحالی اور جیکب آباد کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے اعلان کیا کہ جیکب آباد کے بنیادی مسائل کے حل اور مشترکہ لائحۂ عمل کی تشکیل کے لیے 20 نومبر 2026ء کو ایک عظیم الشان آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں متفقہ قراردادیں منظور کرنے اور مشترکہ رابطہ و ایکشن کمیٹی تشکیل دینے پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری، متعلقہ صوبائی وزراء، منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ سمیت ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جیکب آباد کے عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ جیکب آباد کے عوام اپنے شہر کی ترقی، نوجوانوں کے بہتر مستقبل، صحت و تعلیم کی سہولیات، امن و تحفظ اور منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔










آپ کا تبصرہ