جمعرات 5 نومبر 2026 - 19:13
ایران کا وار، ٹرمپ کی ہار

حوزہ/ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو جھکانے کے لیے جنگ مسلط کرنے کے باوجود ایرانی قوم کی مزاحمت نے امریکی عزائم کو ناکام بنا دیا، جبکہ ۳ نومبر ۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو دونوں ایوانوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ صورتِ حال ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کے سیاسی اثرات اور ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کے نتائج پر کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ مولانا معراج حیدر خان اعظمی اپنے اس تجزیاتی مضمون میں ایران کی مزاحمت، رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور امریکی سیاست پر جنگ کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تحریر: مولانا معراج حیدر خان اعظمی

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخ کے صفحات پر ایک بار پھر یہ حقیقت ثبت ہو گئی کہ طاقت کے نشے میں چور حکمران ہمیشہ فتح یاب نہیں ہوتے، کبھی کبھی غرور کا محل اپنے ہی بوجھ سے زمین بوس ہو جاتا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جھکانے، اس کی خودمختاری مٹانے اور اس کے عزم کو توڑنے کے لیے جنگ کا راستہ اختیار کیا، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ایران پر حملے ہوئے، سرزمینِ ایران لہولہان ہوئی، رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید ہوئے، مگر ان کے خون نے مزاحمت کی شمع کو بجھانے کے بجائے مزید روشن کر دیا۔

ادھر میدانِ جنگ میں ایران کی مزاحمت نے دنیا کو حیران کیا، ادھر امریکہ کے ایوانِ سیاست میں ٹرمپ کی جماعت کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 3 نومبر 2026ء کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھو بیٹھی۔ یوں جنگ کا اثر میدانِ سیاست تک جا پہنچا اور ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں کا سیاسی خمیازہ بھگتنا پڑا۔

یہ شہید خامنہ ای کے خون کی سرخی ہے یا تاریخ کے ماتھے پر حق کی روشنی! یہ کسی ایک شخصیت کی شہادت نہیں، ایک نظریے کی سربلندی ہے؛ یہ ایک جسم کا لہو نہیں، ایک قوم کے عزم کا لہو ہے۔ شہید کا خون زمین پر گرتا ہے تو باطل کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کرتا ہے۔

ٹرمپ نے سمجھا تھا کہ بموں کی گھن گرج سے صدائیں خاموش ہو جائیں گی، میزائلوں کی بارش سے ارادے پاش پاش ہو جائیں گے، مگر اسے کیا خبر تھی کہ شہادتیں تحریکوں کو مٹاتی نہیں، انہیں حیاتِ جاوداں عطا کرتی ہیں۔

تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ تخت و تاج عارضی ہیں، مگر حق کا پرچم دائمی ہے؛ اقتدار کی چمک چند روزہ ہے، مگر شہید کا لہو ابدی ہے۔

آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ غرور کو شکست، استقامت کو سربلندی اور ظلم کو رسوائی نصیب ہوتی ہے۔ ٹرمپ کی سیاسی ہار ہو یا ایران کا دفاعی وار، اصل پیغام یہی ہے:

باطل کے پاس بارود تھا، حق کے پاس ایمان تھا؛

باطل کے پاس طاقت تھی، حق کے پاس شہید کا لہو تھا!

اور جب شہید کا لہو بولتا ہے تو تاریخ کے ایوانوں میں صرف ایک صدا گونجتی ہے:

باطل مٹ جاتا ہے، حق باقی رہتا ہے!

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha