۲۸ خرداد ۱۴۰۳ |۱۰ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 17, 2024
الکاظمی

حوزہ/وزیر اعظم کے ماتحت فوجیوں کا عراق کے خود دفاعی دستے کے ایک اڈے پر حملے نے یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ کیا مصطفیٰ الکاظمی سامنے آگئے ہیں اور مکمل طور پر امریکہ کی طرف چلے گئے ہیں؟

حوزہ نیوز ایجنسی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جمعرات کی رات عراق کی انسداد دہشت گردی فورس اور امریکی فوجیوں کی مشترکہ نفری نے جنوبی بغداد میں ایک رضاکارانہ اڈے پر حملہ کیا اور عراقی حزب اللہ کے متعدد فوجیوں کو گرفتار کرلیا۔ دعوی کیا گیا تھا کہ وہ بغداد میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ مشترکہ فورسز نے مذکورہ اڈے سے متعدد فوجی سازوسامان کے شواہد بھی برامد کیے جبکہ رضاکار فورس عراقی فوج کا حصہ ہے اور دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کے لئے فوجی سازوسامان رکھتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ عراق کے وزیر اعظم کے حکم کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ مسلح افواج کے کمانڈر ہیں، لہذا اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ ان کی کمان میں ہوا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انہوں نے یہ حکم اپنی مرضی سے دیا ہے یا انہوں نے یہ حکم امریکہ کے حکم پر اور امریکی حکام کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے کیا ہے؟ یا امریکہ کی طرف سے دی گئی غلط معلومات کی بنیاد پر انہوں نے اس حملے کا حکم جاری کیا ہے؟

اس بات کا امکان نہیں ہے کہ الکاظمی نے غلطی سے یہ حکم دیا ہوگا کیونکہ وہ پہلے عراقی انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے اور وہ تمام حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ یہاں تک کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ حملہ امریکیوں کی غلط معلومات کی وجہ سے کیا گیا ہے، تب بھی یہ بات گلے سے نہیں اترتی کیونکہ انہیں عراقی انٹلیجنس کی جانب سے دی گئی معلومات کی بنیاد پر کام کرنا چاہئے نہ کہ امریکی فوج کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر، جو رضاکارانہ طاقت کو توڑنے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے۔

اب یہی خیال باقی بچتا ہے کہ عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے امریکی عہدیداروں کے کہنے پر ایسا کیا ہے جنہوں نے وزیر اعظم بننے کے لئے ان کی حمایت کی تھی اور اسی وقت ان سے کچھ وعدے بھی لیے ہوں گے۔ عراق کے حشد الشعبی سے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی عداوت کے پیش نظر، یہ خیال غیر متوقع نہیں ہے۔ روئیٹرز کی اس رپورٹ سے بھی اس خیال کو تقویت ملی ہے کہ الکاظمی کا یہ اقدام امریکہ سے ان کے وعدے کا ایک حصہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عراقی وزیر اعظم جلد ہی امریکہ کا دورہ کرنے جارہے ہیں۔ ان تمام چیزوں کے پیش نظر، لگتا ہے کہ الکاظمی کھل کر سامنے آچکے ہیں جس نے ان کی شخصیت کو بے نقاب کردیا ہے ورنہ وہ ملک کے پارلیمنٹ کے بل کو نافذ کرنے اور امریکی فوجیوں کو ملک سے بے دخل کرنے کے بجائے رضاکارانہ طاقت پر حملہ کرنے کا آرڈر کیوں جاری کرتے؟

اس ضمن میں ایک اور بات پر بھی توجہ دی جائے اور وہ یہ کہ امریکہ بھی اور الکاظمی بھی ایسے فیصلے کرکے بڑی بھول کر رہے ہیں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اس قدم سے شیعوں میں پھوٹ پڑ جائے گی اور عراق میں امریکی فوج کی موجودگی کا معاملہ دب جائے گا، لیکن یہ خیال فوراً ہی غلط ثابت ہوگیا اور رضاکار فورس کے ٹھکانے پر حملے کے بعد عراقی عوام کا شدید منفی رد عمل سامنے آیا جس کے بعد الکاظمی کو معافی مانگنی پڑی اور گرفتار فوجیوں کو رہا کرنا پڑا۔ اب عراقی عوام اس بات کو بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ جب تک عراق میں امریکی فوجی باقی ہیں رضاکارانہ قوتوں پر حملے ہوں گے، چاہے وہ امریکہ، اسرائیل یا داعش کی طرف سے ہوں یا امریکہ کے لیے کام کرنے والے عراقیوں کی طرف سے۔ اس سازش کو ختم کرنے کا واحد راستہ، دہشت گرد امریکی فوجیوں کو عراق سے بے دخل کرنا ہے، پارلیمانی انتخابات کروانا اور آزاد حکومت تشکیل دینا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .