۱۵ مهر ۱۴۰۱ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 7, 2022
علامه سید ساجد نقوی

حوزہ/ عالمی یوم امن کے موقع پر اپنے ایک بیان میں ایس یو سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اب ایک نئی گیم کے ذریعے اسرائیل کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، جس سے خود اسلامی دنیا میں خلیج بڑھ گئی ہے، کشمیر و فلسطین کو صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہ سمجھا جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں، استعماری قوتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ریاستوں کو ریاستوں سے اور عوام کو عوام سے لڑانے کی سازشیں کرتی ہیں، امت مسلمہ کو سمجھنا ہوگا کہ ایک کے بعد دوسرا ملک اس سازش کا شکار ہو رہا ہے، جن ممالک کے پاس وسائل ہیں، انہیں بیرونی جارحیت پر آمادہ کیا جاتا ہے اور جو ممالک ترقی پذیر ہیں، وہاں داخلی عدم استحکام پیدا کرنے سازشیں کی جاتی ہیں، دنیا کے پائیدار امن کے لئے مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل عوامی امنگوں کے مطابق ضروری ہے، سنجیدہ فکر شخصیات کو بھی امن کے لئے آگے آنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم امن پر اپنے بیان میں کیا۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ صرف ایک دن مختص کرنے سے دنیا میں امن قائم نہیں ہوگا، اس سلسلے میں اقدامات بھی اٹھانا ہونگے، جنوبی ایشیاء میں مسئلہ کشمیر اور مشرق وسطیٰ میں مسئلہ فلسطین عالمی اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے ،عراق اور افغان جنگ کے بعد اثرات پوری دنیا سمیت جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ پر پڑے جس سے افغانستان اور عراق کے ساتھ ان کے ہمسائیہ ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگیں بھی ایک سازش کے تحت مسلط کی گئیں اور اب ایک نئی گیم کے ذریعے اسرائیل کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے، جس سے خود اسلامی دنیا میں خلیج بڑھ گئی ہے، مسئلہ کشمیر و فلسطین کے مستقل حل کے لئے عوامی امنگوں کے مطابق حل ضروری ہے۔

کشمیر و فلسطین کو صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہ سمجھا جائے، یہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جہاں اپنی ہی سرزمین پر ان مظلوموں پر ظلم و تشدد کے ذریعے انہیں بے وطن کیا جا رہا ہے یا قیدی بنا لیا گیا ہے۔ دنیا کی باضمیر اور سنجیدہ شخصیات کے لئے یہ بڑا سوال ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی داخلی طور پر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، ماضی میں عوام میں دوریاں بڑھانے کی سازش ہوئی، جسے ہم نے ناکام بنایا۔ اب چند ماہ سے ایک فضا بنا کر نفرت، فرقہ واریت پھیلانے کی پھر سازش کی جا رہی ہے، ہم اس ملک میں اتحاد وحدت کے بانیوں میں سے ہیں اور ہم ایک مرتبہ پھر اس فتنے کے ذریعے ملکی وحدت کے خلاف کی گئی سازش کو اتحاد کے ذریعے ناکام بنائیں گے۔ البتہ دیگر طبقات کے سنجیدہ فکر افراد کو اس جانب توجہ دینا ہوگی اور مزید کسی نئی سازش سے بچنا ہوگا۔ اس وقت کشمیر، فلسطین سمیت مظلوم مسلمان طاقت ور مسلمان ملکوں کی جانب دیکھ رہے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 5 =