۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
تجزیاتی نشست؛ ”کسانوں کے حالیہ مظاہرے- پس منظر اور اثرات“

حوزہ/ مولانا ضمیر عباس جعفری نے اپنی تجزیاتی گفتگو میں ہندوستان کے مختلف صوبوں جیسے پنجاب، ہریانہ، اور اترپردیش وغیرہ میں ہونے والے کسانوں کے مظاہروں کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرے ان تین قوانین کے متعلق ہیں جو حکومت نے زراعت کے متعلق بنائےہیں۔۲۰ ستمبر ۲۰۲۰ء کو  راجیہ سبھا میں تین فارم بل پیش کئے گئے اور ان کو وائس ووٹ کے ذریعہ پاس کردیا گیا۔  جس کے بعد سے یہ مظاہرے شروع ہوئے ۔ کسانوں کے تقریبا ۲۶۵ گروپ اس مظاہرے میں حصہ لے رہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 
موسسہ حیات طیبہ کی جانب سے قم المقدسہ میں ۱۱ ربیع الاول۱۴۴۲ ھ.ق. بمطابق۲۸ اکتوبر ۲۰۲۰ء ،   بروز چہارشنبہ” عالم بزمان“ (ہندوستانی طلباء کی سلسلہ وار تجزیاتی نشستیں) کے دوسرے سال کی تیسری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ یہ نشست آنلائن منعقد ہوئی۔ اس تجزیاتی نشست کا موضوع” کسانوں کے حالیہ مظاہرے- پس منظر اور اثرات “  تھا اور اس کے تجزیہ کار مولانا سید  ضمیر عباس جعفری اور ناظم مولانا سید محمد جون عابدی تھے۔ 

مولانا ضمیر عباس جعفری نے اپنی تجزیاتی گفتگو کی شروعات میں ہندوستان کے مختلف صوبوں جیسے پنجاب، ہریانہ، اور اترپردیش وغیرہ میں ہونے والے  کسانوں کے مظاہروں کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مظاہرے ان تین قوانین کے متعلق ہیں جو حکومت نے زراعت کے متعلق بنائےہیں۔۲۰ ستمبر ۲۰۲۰ء کو  راجیہ سبھا میں تین فارم بل1 پیش کئے گئے اور ان کو وائس ووٹ کے ذریعہ پاس کردیا گیا۔  جس کے بعد سے یہ مظاہرے شروع ہوئے ۔  کسانوں کے تقریبا ۲۶۵ گروپ اس مظاہرے میں حصہ لے رہے ہیں۔

مخالفت کا عالم یہ ہے کہ ریاستی سطح پر بھی ان قوانین کی مخالفت ہورہی ہے اور مختلف ریاستی حکومتیں  ایسے  قوانین بنانا چاہتی ہیں جن کی وجہ سے مرکزی حکومت کے بنائے ہوئے قوانین ان کی ریاست میں نافذ نہ ہوسکیں۔ 
عالم بزمان کی  تجزیاتی نشست کے محترم   تجزیہ کار  نے ان تینوں قوانین  کی تفصیل سے وضاحت کی کہ  یہ قوانین کب بنے تھے اور ان میں اس وقت کیا کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں۔  آپ نے یہ بھی بیان کیا کہ ان قوانین کی حمایت میں حکومت اور اس کے دوسرے حمایتی افراد کیا دلائل دے رہے ہیں اور  ان قوانین کی مخالفت کرنے والے دانشوروں کا استدلال کیا ہے۔

مولانا جعفری نے APMC اور MSP وغیرہ کی وضاحت کرتے ہوئے ان میں موجود خامیوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا  کہ دانشوروں کا کہنا ہے کہ  ان کو ختم کرنے کے بجائے ان کی خامیوں کو درست کرنا چاہئے۔ ان کو ختم کرنا ہندوستانی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ 

آپ نے ہندوستانی زراعت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دال اور مصالحوں وغیرہ کو برآمد کرنے میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے لیکن کسان دن بدن کمزور ہوتے جارہے ہیں اور کسانوں کے کمزور ہونے کا مطلب  بلاواسطہ ہندوستان کی ۵۵ فیصد آبادی کا کمزور ہونا ہے۔ اور اب   نئے قوانین سے اس بات کا اندیشہ بڑھ گیا ہے کہ ہندوستانی زراعت اور کسانوں کا مستقبل چند تاجروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا جس کی وجہ سے ان  کی حالت میں مزید تنزلی پیدا ہوگی۔ 
آپ نے اپنی تجزیاتی گفتگو کے آخر میں طلباء کے لئے ہندوستانی معاشرے کے مسائل گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت بیان کی اور اس کے بعد حاضرین کے سوالوں کا جواب دیا۔

1- The Essential Commodities (Amendment) Bill, the Agricultural Produce Marketing Committee (APMC) Bypass Bill, and Farmers (Empowerment and Protection) Agreement on Price Assurance and Farm Services Bill: 

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 2 =