۶ تیر ۱۴۰۱ |۲۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 27, 2022
مولانا سید صفی حیدر زیدی

حوزہ/ تنظیم المکاتب کے سکریٹری نے کہا: اتحاد بین المسلمین قرآنی حکم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و اہلبیت علیہم السلام ہے۔ ہمیں دیگر احکام و سنن کی طرح اس پر بھی بغیر چوں و چرا عمل کرنا ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی عالم اسلام کی خدمت میں  مبارکباد پیش کرتے ہوئے امام خمینی ؒ کا عرفانی فیصلہ "ہفتۂ وحدت" کی مناسبت سے تنظیم المکاتب کے سکریٹری حجۃ الاسلام و المسلمین عالیجناب مولانا سید صفی حیدر صاحب قبلہ نے فرمایا اتحاد بین المسلمین قرآنی حکم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و اہلبیت علیہم السلام ہے۔ ہمیں دیگر احکام و سنن کی طرح اس پر بھی بغیر چوں و چرا عمل کرنا ہوگا۔

تعلیم و تربیت نسل مستقبل کے مہتمم ادارہ تنظیم المکاتب کے سیکریٹری نے کہا کہ انسانیت دشمن نہیں چاہتے کہ زمین خدا پر امن و امان قائم رہے لہذا وہ ہمیشہ سےانسان کو تقسیم کرنے پر لگے رہے کبھی انسان رنگ و نسل میں بانٹا اور کبھی دین و مذہب میں تقسیم کیا ۔  اختلاف کرایا ، جنگیں کرائیں، انسانیت کے خون سے ہولی کھیلی ۔ لیکن انسانیت کے محافظ و پاسبان دین اسلام اور کتاب قرآن کریم نے رنگ و نسل کو فقط تعارف کا ذریعہ بتایا اور کرامت و شرافت کا معیار تقویٰ بیان کیا۔اور یہی معیار یعنی تقویٰ میں انسانی اقدار کا تحفظ یقینی ہے۔ 

سکریٹری تنظیم المکاتب نے کہا کہ ہمیں چاہئیےکہ اسلام و انسا نیت کے  دشمنوں کی سازشوں کو سمجھیں کہ وہ کس طرح سےچند نام نہاد مومنوں، مسلمانوں اور انسانیت دوستوں کے ذریعہ مختلف انداز سے انسانی اسلامی ایمانی اتحاد کے درپے ہیں۔کبھی عرب و عجم کے نام پر تعصب کی دیوار کھڑی کی اور کبھی شیعہ سنی کے نام پر مسلمانوں میں اختلاف ایجاد کرتے ہیں۔ جب کہ سب کا اللہ ایک، سب کا رسول ایک، سب کی کتاب ایک اور سب کا قبلہ ایک ہے۔

مولانا سید صفی حیدر زیدی نے فرمایا: ائمہ معصومین علیہم السلام نے اسلام اور اسلامی اخوت و اتحاد کی خاطر اپنے حقوق سے چشم پوشی کی تا کہ یہ قائم رہے ۔ شہادتین کا اقرار کرنے والے اہل قبلہ کو مسلمان سمجھا اور انکے اسلامی حقوق کی پاسبانی کے عملی نمونے پیش کئے۔ دور غیبت میں علمائےابرار کی بھی یہی روش رہی ماضی میں مرحوم کاشف الغطا ء ؒ  مرحوم آیۃاللہ العظمی بروجردیؒ ، انکے بعد رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت آیۃاللہ العظمی امام خمینی قدس سرہ نے اسلامی اتحاد و اخوت کا حکم اور اسکی تاکید کی ۔ دور حاضر میں اسلام و انسانیت کے ہمدرد رہبر و مرجع تقلید حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلہ الوارف اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی دامت برکاتہ کا بھی یہی حکم اور روش ہے۔ 

سربراہ تنظیم المکاتب نے کہا اتحاد بین المسلمین کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی شیعہ سنّی ہو جائے یا کوئی سنّی شیعہ ہو جاے بلکہ اپنے اپنے کلامی نظریات کے تحفظ اور عقائد کی پاسبانی کے ساتھ ایک دوسرے سے اخوت و اتحاد قائم رکھیں اور دشمن کی سازش کا شکار نہ ہوں۔ دشمن بڑی ہوشیاری سے مختلف انداز اور اشخاص کے ذریعہ اس قرآنی حکم وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا ۚ   (سورہ آل عمران آیت ۱۰۳) کو نابوداور تعطیل کرنے کے درپے ہے۔ اور حل نہ ہونے والے کلامی اختلافات اور فرعی نظریات کے ذریعہ عالم اسلام کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان، عراق، سیریا وغیرہ میں اس کے نمونےعیاں ہیں۔ 

مولانا سید صفی حیدر زیدی نے یاد دلاتے ہوئے بیان کیا کہ ۱۹۲۶؁ ء میں انہدام جنت البقیع کے بعد جب اسکی تعمیر کی تحریک شروع ہوئی تو خود ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں اسلامی اتحاد کا روح پرور سماں دیکھنے کو ملا کبھی ہمارے علماء ، اہل سنت علماء سے ملتے اور کبھی ہمارے یہاں ملاقات کی خاطر آتے ۔ اور سب دشمن کے خلاف اور دشمن کے آلہ کار نجدیوں سے بیزار تھے۔ 

مولانا سید صفی حیدر زیدی نے فرمایا  انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد 12 ربیع الاول سے 17 ربیع الاول کو ہفتہ ٔ وحدت کا نام دینا ایک حکیمانہ اقدام تھا۔ لیکن کچھ نادان اس کو نہ سمجھ سکے اور رہ انتشار پر چل پڑے۔لیکن جیسا کہ رہبر معظم آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلہ نے فرمایا کہ "اگر کوئی شیعہ اہلسنت کے خلاف بولے یا کوی سنی شیعوں کے خلاف بولے تو جان لیں کے اس کے منھ میں شیطان ہے جو یہ بول رہا ہے" ۔ یاد رہے کہ ولایت فقیہ اور مرجعیت ہمارےمذہب کی آبرو اور ضامن ہے لہٰذا ہمیں چاہئیے کہ انکی فرماں برداری کرتے ہوئے ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین سے پرہیز کریں اور نہ صرف زبان و قلم بلکہ ایسے افکار سے بھی دور رہیں جو اختلاف امت کا سبب ہیں۔ لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ایسا نہ ہو کہ اتحاد بین المسلمین کے نام پردھواں دھار تقریریں ہوںمگر ایسی باتیں ہوں جن سے خود مومنین کی صفوں میں انتشار اور مومنین آپس میں ہی لڑجائیں، مومنین کو تقسیم کرنا دشمن کی پہلی سازش ہےاور  ایسے افراد کو اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔ کیوں کہ اسلام اخوت و محبت ، امن و سکون اور بلا تفریق مذہب و ملت ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے۔  رسول اللہ ﷺ ظالم کے دشمن تھے چاہےوہ آپ کا کلمہ گو ہی کیوں نہ ہو اور مظلوم کے حامی تھے چاہے وہ مسلمان نہ ہو۔ حضرت امیرالمومنین ؑ غیر مسلم ذمّی عورت کی مظلومیت پر غمگین ہوئے ۔

دور حاضر میں مراجع کرام دامت برکاتہم بھی اسی سیرت پر گامزن ہیں ۔انسانیت دشمن گروہ داعش جب انسانیت کا درپے ہوا تو بلا تفریق مذہب و ملت اور رنگ و نسل انسانیت کے پاسبان لشکر نے سب کو نجات دلائی اور داعش کو شکست دی۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے پرمسرت موقع پر ہمیں آپ کی سیرت و سنت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ اسلام انسانی روابط کو مستحکم کرنے ، کمزور کی مدد کرنے اور انسانی برادری اور برابری کا مذہب ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 0 =