۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
مولانا سید صفدر حسین زیدی

حوزہ/ حضرت آیۃ اللہ خمینی نے شہنشاہیت کےخلاف جو انقلاب برپا کیا وہ بے حد سخت اور بیحد مشکل امر تھا لیکن مرحوم امام خمینی رح صاحب نے اپنی حکمتِ عملی بصیرت صداقت عمل سے ایک تقریبا ناممکن کام کو ممکن بنا ڈالا اور دُنیا پر واضح کر دِیا کہ جو بھی شخص انسانیت پر ہونے والے مظالم کے خلاف سچے دِل اور ایمان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہےتو خُدا اسے ضرور کامیابی عطا کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ امام جعفر صادق علیہ السلام جونپور کے بانی و مدیر حجت الاسلام والمسلمین مولانا سید صفدر حسین زیدی نے جامعہ میں ۲۲بہمن کے مناسبت پروگرام میں کہا کہ بیالیس سال قبل آیۃ اللہ خمینی رح کے ذریعہ ایران میں انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر ہم رہبرِ عالیقدرحضرت آیۃ اللہ خامنہ اي اور حضرت آیۃ اللہ سستانی و آیات عظام حفظہم اللہ کی خدمت بابرکت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ دُنیا کے تمام آزادی طلب اور آزادی پسند انسانوں کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حضرت آیۃ اللہ خمینی نے شہنشاہیت کےخلاف جو انقلاب برپا کیا وہ بے حد سخت اور بیحد مشکل امر تھا لیکن مرحوم امام خمینی رح صاحب نے اپنی حکمتِ عملی بصیرت صداقت عمل سے ایک تقریبا ناممکن کام کو ممکن بنا ڈالا اور دُنیا پر واضح کر دِیا کہ جو بھی شخص انسانیت پر ہونے والے مظالم کے خلاف سچے دِل اور ایمان کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہےتو خُدا اسے ضرور کامیابی عطا کرتا ہے۔ بہترین قیادت اور ایرانی عوام کا اسپر مکمل لبّیک کہنایہ سب اِنقلاب آنے اور اسکے آج تک زندہ اور تابندہ رہنے کی بنیاد ہے۔ آج حرّیت پسند دُنیا اس جشن آزادی منانے میں ایرانی عوام کے ساتھ شریک ہے۔ ساری دنیا کی بڑی طاقتیں اور نام نہاد مسلم ممالک کے حکمراں ہر طرح سے ایران کے انقلاب کو ناکام اور ختم کرنے پر اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ذلت و رسوائی کی تاریکی میں گم ہو گۓ لیکن‌ انسانی سماج کے لۓ مژدۂ آزادی‌بن‌کر طلوع ہونے والا انقلاب اسلامی کاسورج آج بھی چمک رھا ہے اور اسکی روشنی بہر حال ہر جگہ پھیلی ہوی ہے اور انشاءاللہ امام زمان عج کے ظہور تک برقرار رہے گی۔

مولانا موصوف نے کہا کہ اس انقلاب نے ایرانی عوام کو دنیا میں نمایاں حیثیت عطا کی شجاعت اور بہادری استقامت پا مردی میں دنیا کے لۓ مثالی کردارپیش کرنے والی ملت کی حیثیت نمایا کیا ہے تمام طرح کی سازشوں ،بندشوں کےباوجود علمی میدان میں جو ترقی اور پیشرفت ایران کو ملی وہ قابل رشک اور اسلامی دنیا کے لۓ خاص طور پر اور عمومی طور پر پوری دنیا کے لۓ نمونہ ہے ایرانی پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ زیادہ تر حافظین قرآن انجینئر ڈاکٹرس اور دوسرے علوم میں‌مھارت رکھنے والے ہیں، طب ‌میں جو پیشرفت ایران نے انقلاب اسلامی کی برکتوں سے حاصل کی ہے وہ حیرت انگیز ھیں۔غرض تمام ترقیاں اسلامی انقلاب کی برکتوں سے جو حاصل ہوئی ہیں ہیں انھیں دوسری اسلامی حکومتیں کبھی تصور بھی نہیں کر سکتی ہیں اسی وجہ سےمسلم حکمراں انقلاب اسلامی ایران سے گھبراتے رہتے ہیں کہیں ایسا نہ ہوعوام بیداربیدار ہو جائےانکی حکومت کا تختہ پلٹ دےاور انکااقتدار خاک میں مل جائے۔ اسی لۓ  یہ نام نہاد مسلم حکمراں بڑی طاقتوں یہاں تک کہ اسلام کی کھلم کھلا مخالف  اسرائیلی حکومت کی انتہائی بے حیائی اور بے غیرتی کے ساتھ گود میں بیٹھ گئے ۔اور بھول گئے کہ اسرائیل  انھیں کیاپناہ دے گا وہ تو خود ھی اپنے تحفظ میں امریکہ کا محتاج ھے۔ان بادشاہوں نےحکومت کے نشہ میں قرآن کےاس صاف صاف بیان ۔یہوددیوں نصرانیوں کو اپنا دوست و سرپرست نہ بنا نا۔اسکو نظر انداز کر  کےاسرئیل سے رشتہ جوڑ لیا۔

اس میں کوئ شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اس انقلاب کا اثر ایران سے ہٹ کر پوری دنیا پر اس طرح سے پڑا کہ جہاں کہیں بھی اطراف و اکناف عالم میں جو بھی انسان کسی بھی طرح سے کمزور مستضعف تھا وہ کچھ نہ کچھ اپنی جگھ سے اٹھنے کی ہمت و طاقت ضرور پا گیا اور کمزور کر دینے والوں کی خلاف تھوڑا ہی سہمی اقدام کے لئے آ گے بڑھا ضرور ہے اور ظلم و بربریت اور حیبر و تشدد کے ذریعہ حکومت کرنے والوں کے لئے بھی اس اسلامی انقلاب نے کچھ نہ کچھ مشکل ضرور پیدا کر دی۔   خود ہندوستان میں مسلمانوں پر فکری اعتبار سے یہ بیداری پیدا ہوئ کہ وہ یہ اچھی طرح سمجھ لئے کہ اسلام کے نام پر جھاں جھاں حکومت ہے اسی سے ان تمام جگھوں سے بہتر تو خود ہمارا ملک ہے جو امن و سلامتی اور لوگوں کے حقوق کے پاس و لحاظ کو مرکزی چیز قرار دیتا ہے اور دہشت گردی کو ختم کرنے میں پوری طاقت سے  لگا ہوا ہے۔ اگر آج جمہوریہ اسلامی ایران انقلاب اسلامی کی برکت سے دہشت گردی سے پاک و صاف چہرہ دنیا کے سامنے نہ رکھتا تو شاید دنیا اسلام کو دہشت گردی سے  چورانے میں کامیاب ہو جاتی ہندوستان ہمیشہ سچی اور صاف مضبوط جمہوریت کو سند کرنے والا ملک اسی بنیاد پر ایران اور یہاں کے عوام جمہوری نظام کی پائداری کو بر قرار رکھنے میں۔ ایک جیسے ہیں اور جمہوریت دونوں ملک کی روح ہے۔

مولانا نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد ہمارے ملک ہندوستان میں ایک جو سب سے اہم بات دیجگنے میں آئی کی یہاں کی عوام چاہے جس مزہب کی ماننے والی ہر سب اپنے مزہب پر عمل کرنے میں زیادہ پابند چاہے وہ ہندو ہو مسلمان سکھ ہوں یا اور دوسرے مزاہب کے لوگوں اور یہ ایک اچھی بات ہے کہ انسان اپنے مزہب حقیقی اصولوں پر اگر عمل کرتا ہے تو بہر حال ایک دوسرے کی داد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا یہ ہر مزہب کا خیال رکھنا یہ مزہب کا بنیادی دستور ہے۔

آخر میں کہا کہ ایران انقلاب اسلامی سر براہ مرحوم خمینی صاحب طاب ثراہ کی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے کبھی کبھی زہر ہلاہل کو قند شیریں نہیں کہاں زہر شکر کہاں اور ہر با بصیرت انسان کو اس بات کو ضرور سمجھنا اور سمجھانا چاہیے تاکہ دنیا نہ ہر احکام زہریلی فکروں سے پاک ہو سکے 
اللہ سے دعا کے کی دنیا تمام مظلوموں کو طاقت عطا فرمائے اور ظالموں کو نابود فرمائے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .